• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حالیہ پاک بھارت کشیدگی کا پس منظر – ایک اہم پہلو/قاسم اقبال جلالی

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کا پس منظر – ایک اہم پہلو/قاسم اقبال جلالی

گزشتہ سال اگست میں حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ بھارت کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا کیونکہ اس سے حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا تھا بلکہ بھارت کی 76 سالہ سرمایہ کاری ڈوب گئی تھی. حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد جس تیزی سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے سیاسی، سفارتی، تجارتی اور دفاعی تعلقات آگے بڑھ رہے تھے اور بہتری کی جانب گامزن تھے یہ معاملہ مذکورہ ڈراؤنے خواب سے بھی کہیں بڑھ کر تھا. اگست 2022 کے بعد پاکستانی وزیراعظم اور بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے سربراہ کی پے در پے دو ملاقاتیں اور اس کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کئی دہائیوں کے بعد براہ راست تجارت کا آغاز اور پاکستانی تجارتی بحری جہاز کا بنگلہ دیشی بندرگاہ پہ لنگر انداز ہونا بھارت کو کسی صورت قبول نہ تھا. ممکن ہے بھارت یہ تمام ڈیویلپمنٹس برداشت کر جاتا لیکن اس سارے معاملے میں تبدیلی اس وقت آئی جب بنگلہ دیش کے ایک اعلی آرمی افیسر لیفٹیننٹ جنرل قمر الحسن، جو بنگلہ دیشی فوج کے پرنسپل سٹاف افیسر بھی ہیں، نے پاکستان کا دورہ کیا اور جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی. یہ دورہ اور ملاقات بھارت کے لیے قطعاً قابل قبول نہیں تھی اور بھارت یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بنگلہ دیش کا ایک اعلی فوجی جنرل جی ایچ کیو میں پاکستانی آرمی چیف سے ملے گا. کم لوگ جانتے ہیں کہ اسی سال جنوری میں پاکستانی آئی ایس آئی چیف نے بھی بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور وہاں بنگلہ دیشی آرمی چیف سے ملاقات کی. جلتی پہ تیل کا کام بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے سربراہ کا چین میں دیا گیا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کی سات مشرقی ریاستیں بنگلہ دیش پر انحصار کرتی ہیں. یہ ایک ایسا اشارہ تھا جس نے بھارت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا کیونکہ بھارت جانتا تھا کہ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو کسی بھی وقت بنگلہ دیش اور پاکستان مل کر بھارت کی سات مشرقی ریاستوں کو “مرغی کی گردن” یعنی چکنز نیک chicken’s neck سے دبوچ کر الگ کر دیں گے (یہ چند کلومیٹر کی پٹی ہے جو بھارت کی مشرقی ریاستوں کو دیگر بھارت سے جوڑتی ہے) اور چین بھی یقیناً ان کا ساتھ دے گا اور ایسی صورت میں بھارت کچھ بھی نہ کر پائے گا. (مذکورہ ریاستوں میں پہلے ہی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں).

اب اس پس منظر میں اس بات کو نوٹ کیجئے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم نے اعلی سطحی وفد کے ساتھ 28 یا 29 اپریل کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنا تھا جس میں امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی سیاسی اور تجارتی تعلقات کے علاوہ دفاعی تعلقات کے حوالے سے بھی انتہائی اہم پیش رفت ہونے جا رہی ہے اور دفاعی تعاون کے حوالے سے کسی معاہدے پر دستخط بھی ہونے کے امکانات تھے. لیکن اس سے محض چند دن قبل پہلگام واقعہ پیش آ جاتا ہے.

لہذا اس بات کا قوی امکان موجود ہے اور قرائین اور پس منظر یہی بتاتا ہے کہ بھارت نے پہلگام میں ایک فالز فلیگ حملہ کروا کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے. جہاں ایک طرف امریکی نائب صدر کی بھارت میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو ایک بار پھر بد نام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے وہیں اس کا ایک مقصد پاکستانی وزیر خارجہ کا لمبے عرصے بعد بنگلہ دیش کا دورہ منسوخ کروانا اور تیز رفتاری سے بڑھتے تعلقات کو کچھ وقت کے لیے روکنا تھا تاکہ بھارت کو بنگلہ دیشی بیوروکریسی اور اعلیٰ اشرافیہ میں موجود اپنے پراکسیز کو دوبارہ استعمال کرنے کا موقع مل سکے (جیسا کہ بنگلہ دیشی سیکریٹری خارجہ جاسم الدین کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہا اور سیکریٹری خارجہ کو بنگلہ دیش نوجوانوں خصوصاً انقلاب کے پیچھے موجود intellectual جیسا کہ پِناکی بھَٹاچاریہ نے سختی سے رَد کر دیا) اور وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجود روایتی اختلافی نکات کو دوبارہ اچھال سکے اور بڑھتے تعلقات کو روک سکے. گویا یہ time gain کرنے کا ایک بہانہ ہے. پاکستان اور بنگلہ دیش کے ممکنہ دفاعی تعلقات بھارت کی نیشنل سیکیورٹی کیلئے ایک strategic Nightmare ہونگے، یہ بات ایک عام دفاعی ماہر بھی جانتا ہے.

julia rana solicitors

میری یہ خواہش بھی ہے اور تجویز بھی کے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود پاکستانی وزیر خارجہ کو اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ فوری طور پر بنگلہ دیش کا دورہ کرنا چاہیے اور وہاں جا کر یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش برادر ممالک ہیں اور آج بھی ایک قوم اور ایک جان ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سیاسی سفارتی اور دفاعی لحاظ سے بھرپور ساتھ دیں گے. مذکورہ بڑھتے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی اس کوشش کو ناکام بنانا چاہیئے.

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply