رَٹّا سسٹم اور ریاضی کی تدریس : ایک تجزیہ (1)-وحید مراد

ریاضی کے استاد کی حیثیت سے میرے برسوں کے مشاہدے اور تجربے نے یہ واضح کیا کہ ابتدائی جماعتوں میں رَٹّا شاید کسی حد تک فائدہ مند ہو مگر جیسے ہی بچے اعلیٰ جماعتوں میں قدم رکھتے ہیں یہ طریقہ ناکام ثابت ہونے لگتا ہے۔ بالخصوص جب بات ورڈ پرابلمز کی ہو تو صرف یادداشت پر انحصار کسی کام کا نہیں رہتا۔ ایسے سوالات کی درست تفہیم اور حل کے لیے تجزیاتی سوچ، منطقی استدلال اور مرحلہ وار سمجھنے کی صلاحیت کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ہر سوال دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے ایک سوال کو زبانی یاد کرلینے سے اگلا سوال حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ کئی اساتذہ جو خود کو رَٹّا سسٹم کے مخالف بتاتے ہیں غیر محسوس طور پر یادداشت ہی کا امتحان لے رہے ہوتے ہیں۔ اگر امتحانی پرچے میں وہی سوالات رکھے جائیں جو پہلے کلاس میں کرائے جا چکے ہوں، تو یہ فہم و ادراک کا نہیں بلکہ حافظے کا امتحان بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کچھ ابواب یا مشقوں کے مخصوص سوالات پر نشانات لگوا دیے جائیں اور بچوں کو بتایا جائے کہ انہی میں سے امتحان آئے گاتو وہ دن رات انہی سوالات کو رَٹنے میں لگ جاتے ہیں، بغیر سمجھے۔
اگر مقصد طلبہ کو بہتر طریقے سے امتحان کی تیاری کروانا ہے تو اساتذہ کو چاہیے کہ ہر مضمون کے لیے ماڈل پیپرز تیار کریں اور امتحان سے ایک ہفتہ قبل ان کی مشق کروائیں تاکہ طلبہ کو سوالات کی نوعیت اور تجزیاتی انداز میں جواب دینے کا طریقہ معلوم ہو۔ مخصوص ابواب پر نشان لگوانے سے طلبہ سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرتےبلکہ صرف مخصوص جملے اور سوالات یاد کر لیتے ہیں۔
ریاضی کی تدریس میں کسی بھی تصور (concept) کو سکھانے کے لیے ایک مربوط اور منظم حکمت عملی اپنائی جاتی ہ جس میں آسان سے مشکل کی طرف تدریجی انداز میں سوالات کی مشق کروائی جاتی ہے تاکہ تصور کی گہرائی تک پہنچا جا سکے۔ لیکن جب امتحان کا وقت آتا ہے تو ان سوالات کی نوعیت مختلف ہونی چاہیے۔ ایک معیاری امتحان وہی ہوتا ہے جس میں کانسیپٹ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ ہو اور طلبہ کی سوچنے، تجزیہ کرنے اور مسائل حل کرنے کی اصل صلاحیت کا امتحان لیا جا سکے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے اکثر اسکولوں میں یہ شعور ہی نہیں پایا جاتا کہ امتحان، تدریس سے مختلف انداز کا تقاضا کرتا ہے۔ اکثر اساتذہ وہی سوالات امتحان میں شامل کر لیتے ہیں جو کلاس میں پہلے ہی کرائے جا چکے ہوتے ہیں جس سے طلبہ کو خود سے سوچنے کا موقع نہیں ملتا اور وہ صرف رَٹّی ہوئی معلومات دہرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل تعلیمی ترقی کے بجائے جمود کا باعث بنتا ہے۔
ریاضی میں رَٹّا کلچر کے فروغ کی ایک بڑی وجہ درسی کتب کے ساتھ غیر ضروری حد تک وابستگی بھی ہے۔ درسی کتابیں محض ایک حوالہ ہوتی ہیں جن سے اساتذہ لیسن پلاننگ میں مدد لیتے ہیں اور طلبہ گھر پر مطالعہ کر کے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے اکثر اساتذہ اسکول کی دی گئی کتاب کو حرفِ آخر سمجھ کر اس کے ہر سوال کو لازماً پڑھوانا چاہتے ہیں چاہے وہ سوال طلبہ کی ذہنی سطح کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ یہی سوالات بغیر کسی تبدیلی کے امتحانات میں شامل کر دیے جاتے ہیں اور نتیجتاً طلبہ صرف زبانی یادداشت پر انحصار کرتے ہوئے اصل فہم اور مہارت حاصل نہیں کر پاتے۔
درسی کتب کا غیر متوازن ہونا بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اکثر درسی کتابیں ماہرین تعلیم کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں جو تدریسی عمل سے وابستہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ان میں عملی توازن اور ترتیب کا فقدان ہوتا ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج جیسے بڑے اداروں کی کتابیں بھی ان خامیوں سے مبرا نہیں۔ مثلاً کیمبرج کی پرائمری سطح کی کتابوں میں بنیادی مشقوں کی تعداد کم اور تجزیاتی سوالات زیادہ ہیں جبکہ لوئر سیکنڈری اور او لیول کی کتابوں میں ابتدائی نوعیت کے سوالات تو بہت زیادہ ہیں مگر اصل امتحانی نوعیت کے سوالات کم ملتے ہیں۔ آکسفورڈ کی کتابیں اکثر ضرورت سے زیادہ مشکل ہوتی ہیں جنہیں بعض اوقات اساتذہ بھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ او لیول کی ریاضی کو کئی کتابوں میں تقسیم کر دینے سے اساتذہ اور طلبہ کے لیے موضوعات کے درمیان تعلق اور ضروری پیشگی معلومات (prerequisite) سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اس تمام عمل کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ گریڈ 9، 10 اور 11 کے طلبہ کا قیمتی وقت غیر مؤثر تیاری میں ضائع ہو جاتا ہے۔ پہلے انہیں آکسفورڈ یا کیمبرج کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور پھر امتحان قریب آتے ہی ان سے سینکڑوں صفحات پر مشتمل پاسٹ پیپرز حل کروائے جاتے ہیں جو کہ طلبہ کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ اسی بوجھ سے گھبرا کر طلبہ ریاضی سے دور ہونے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اساتذہ ہر یونٹ کی تیاری کے دوران ہی مختلف کتابوں اور پاسٹ پیپرز کے اہم سوالات کو تدریس کا حصہ بنا لیں تو آخر میں طلبہ کو بوجھ نہیں محسوس ہوگا۔ سلیبس مکمل ہونے کے بعد بچوں کو ایسی ورک شیٹس دی جائیں جن میں اہم امتحانی سوالات ہوں لیکن بلاوجہ تکرار نہ ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رَٹّا لگوانے اور اصل ذہانت جانچنے میں فرق کو پہچانیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مستقبل میں خود مسائل حل کرنے کے قابل ہوں، تنقیدی اور منطقی سوچ اپنا سکیں، اور محض نمبروں کے حصول کی دوڑ کے بجائے اصل سیکھنے پر توجہ دیں تو ہمیں امتحانات کے انداز کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کی سطح کے مطابق مواد تیار کرنا ہوگا اور صرف درسی کتب پر اندھا انحصار چھوڑ کر ان کی ذہنی نشوونما کے مطابق تدریسی مواد ترتیب دینا ہوگا۔ لاجیکل ریزننگ اور حقیقی مہارتوں کی تربیت ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم رَٹّا کلچر کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
اگر ہم ان نکات پر سنجیدگی سے کام کریں تو ریاضی صرف ایک مضمون نہیں رہے گا بلکہ بچوں کے لیے ایک دلچسپ، مفید اور زندگی سے جڑا ہوا علم بن جائے گا، جو نہ صرف تعلیمی کامیابی بلکہ عملی زندگی میں بھی ان کے کام آئے گا۔

julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply