پاک فوج یا نیٹو فوج /محمد ثاقب

ہلکی ہلکی دھند میں انگلینڈ سے آیا ہوا نیا آفیسر سرکاری ریسٹ ہاؤس میں پہنچتا ہے۔ مسلسل غیر آرام دہ سفر کے بعد کی تھکن اس کے چہرے سے عیاں تھی ہم یہاں ہندوستان میں انگریز راج کے دور کے ایک منظر کو بیان کر رہے ہیں۔

ریسٹ ہاؤس میں مقامی خانساماں گورے افسر کی خدمت میں مشغول ہوتا ہے۔ علاقے کا مشہور قہوہ اور ڈرائی فروٹس پیش کیے جاتے ہیں سورج کے ڈھلنے کے ساتھ ہی خانساماں پوچھتا ہے صاحب رات کے کھانے میں کیا کھائے گایہ سننا تھا کہ تھکن سے بے حال انگریز افسر کے جسم میں گویا کرنٹ سا دوڑ جاتا ہے اپنی انگریز دوستوں سے ہندوستان کے ڈنر سے وابستہ رومانی کہانیاں اس کے دماغ میں آتی ہیں اس کا پورا جسم گویا اس کے کان بن جاتے ہیں اور وہ پوچھتا ہے رات کے کھانے میں کیا ملے گا۔

خانساماں کھنکار کر اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہتا ہے چوزے ہیں برائلر مرغی ہے اور دیسی مرغی بھی ہے یہ سن کر گورے افسر کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔

محترم دوستو! خانساماں کی اس گفتگو میں ایک خاص کوڈ چھپا ہوا تھا چوزے سے مراد پندرہ سے بیس سال کی لڑکی ہے برائلر مرغی بیس سے پچیس سال کی عورت اور دیسی مرغی پختہ عمر کی خاتون کے لیے استعمال ہونے والی رمزیں تھیں

گورا صاحب اب اپنی پسندیدہ ڈش کا اظہار کرتا ہے اور خانساماں ریسٹ ہاؤس میں موجود باقی ملازمین کی مدد سے مقامی آبادی سے ایک لڑکی کو اٹھا کر لے آتا ہے۔

غلام احتجاج کرے بھی تو کس سے، ذہن مفلوج، آنکھیں پتھریلی

غلام سڑکوں پر چلتے ہیں پر راستے ان کے نہیں ہوتے

غلاموں کے دل ہیں مگر خواب سرکاری ہیں

غلاموں کی خواہشیں قید ہیں اور سانسیں مشروط

یہ واقعہ پاکستان کے مشہور بیورو کریٹ رائٹر کی کتاب سے لیا گیا ہے اس سے آپ اس دور میں لوگوں کی بے بسی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اب ایک اور منظر دیکھیں مئی 2025 کی بات کرتے ہیں آج کے دن کی بات کرتے ہیں یہ کالم پڑھتے ہوئے آپ نے گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو آپ کو چوک پر وردی میں ملبوس ایک سپاہی نظر آیا یہ سپاہی پولیس، رینجرز یا فوج میں سے کسی ایک ادارے سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ نے اس کے لباس پر غور کیا تو وردی کے ایک کونے پر آپ کو سبز ہلالی پرچم نظر آیا آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی آپ نے نظریں ہٹائیں دوبارہ سے یہ تحریر پڑھنا شروع کی ادھوری چائے کا ایک اور گھونٹ بھرا ساتھ والے کمرے سے آپ کی بیٹی کی آواز آئی بابا مجھے یونیورسٹی چھوڑتے ہوئے آفس جائیے گا آپ نے جواب دیا بس بیٹی پانچ منٹ میں نکلتے ہیں۔ یہ وہ منظر اور مکالمہ ہیں جو ہم کروڑوں پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔

اب اس پورے منظر میں معمولی سی ترمیم کر کے دیکھتے ہیں یہ کالم پڑھتے ہوئے آپ نے اپنی کھڑکی سے باہر نظر ڈالی ایک باوردی سپاہی چوک پر کھڑا ہوا آپ کو نظر آرہا ہے آپ نے اس کی وردی کو غور سے دیکھا تو ایک کونے میں ایک جھنڈا نظر آیا لیکن اس جھنڈے میں سبز ہلالی نشان نہیں تھا یہ تو نیٹو کا ایک اہلکار آپ کےگھر کے باہر اپنے ملک کے جھنڈے کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔

آپ کی کیا کیفیت ہوگی دوسرے کمرے میں آپ کی جوان بیٹیاں موجود ہیں آپ کی آنکھوں میں کیسا خوف ہوگا وہ تحفظ اور سرشاری جو اپنی فوج کے سپاہی کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر تھی اس کا نام ونشان بھی نہیں ہوگا آپ کو اپنی جان مال اور عزت کے لالے پڑے ہوئے ہوں گے۔

اور ایک مقامی خانساماں پوچھ رہا ہوگا صاحب آج رات کھانے میں کیا پسند کرے گا۔

اگر یہ وقت آگیا (میرے منہ میں خاک) تو ہمارا کیا بنے گا اپنے وطن کی قدر کریں اور اپنے فوجی جوانوں کو غنیمت جانیں جن کی موجودگی آپ کو تحفظ کا احساس دلاتی ہے

اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا

ترے بیٹے ترے جانباز چلے آتے ہیں

شیخ سعدی لکھتے ہیں کہ بغداد کے کچھ صوفی ایک جگہ پر بیٹھے ہوتے تھے کہ ان میں سے ایک شخص نے غیبت کرنا شروع کر دی غیبت کرنے والے شخص سے ایک صوفی نے پوچھا کہ کیا تو نے فرنگیوں کے خلاف کبھی جہاد کیا اس نے جواب دیا تم تو جانتے ہو کہ میں ساری زندگی کبھی بغداد شہر کے باہر نہیں گیا اس پر سوال پوچھنے والے صوفی نے کہا کہ تو کیسا بدبخت شخص ہے کہ دشمن تو تیرے وار سے محفوظ ہے اور اپنوں کے سینے پر تو برچھا چلاتا ہے۔

میرے دوستو

یہ وقت ہے اپنے آپ سے پوچھنے کا کہ کیا ہم بھی اسی کیٹیگری میں تو نہیں آرہے سارا دن اپنے ملک اور اپنی فوج کی برائیاں کر کے دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔

ہماری بہادر فوج تو سرحدوں پر لڑے گی باقی محازوں پر تو پوری قوم نے لڑنا ہے ہر بندہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی حصے کی اینٹ لگائے۔

شکوہ شب ظلمت سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

انڈیا کا میزائل آیا تو وہ مسلک، زبان ، سیاسی وابستگی، مذہب، علاقے اور شہر کو نہیں دیکھے گا وہ ہر پاکستانی کے لیے تباہی کا باعث ہوگا۔

اپنے ملک اور اپنی فوج کو مضبوط کریں کہ حملے کی صورت میں تیئس کروڑ لوگ ایک دیوار کی طرح دشمن کے سامنے موجود ہوں۔

ہماری تاریخ تو شہدا کے لہو سے درخشاں ہے

محبت گولیوں سے بو رہے ہو

وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو۔

میں نے جنرل معین الدین حیدر صاحب کا انٹرویو کیا ہے آپ ” جنرل صاحب اور راضی بہ رضا” کے عنوان سے اس کو سرچ کر

کے پڑھ سکتے ہیں جنرل صاحب نے 1965 کی جنگ کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ لوگوں کی محبت فوج سے اتنی زیادہ تھی کہ ہم دکان سے کوئی چیز لیتے تھے تو دکاندار پیسے نہیں لیتا تھا آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے دوسری جنگ عظیم میں لندن کے اداکاروں کا ایک گروپ جان ہتھیلی پر رکھ کر مختلف محازوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتا تھا کہ ہمارے فوجیوں کو ذہنی سکون ملے

پاکستان آرمی کے جذبے کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انڈیا میں کسی کو سزا دینی ہو تو اسے سیاچن کے بارڈر پر بھیجتے ہیں۔

پاک آرمی میں لوگ اپنی رضامندی سے اس مشکل محاذ پر جاتے ہیں۔

وطن کی مٹی کا قرض ہر پاکستانی نے چکانا ہے۔

خاک وطن کا ہے تجھ کو اگر کچھ حق تو یہ پوچھ

کیا کر لیا تو نے محبت میں امتحان اپنا

اور آخر میں نوجوانوں کے لیے علامہ اقبال کے یہ اشعار

تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول

لیلی بھی ہم نشین ہو تو محمل نہ کر قبول

اے جوے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز

ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

julia rana solicitors

پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply