ماضی میں بلوچ سماج میں پائے جانے والے چند واہمے۔۔بادل بلوچ

دنیا میں آباد ہر قوم و قبیلے کے لوگوں میں Superstitions یا خرافات پائے جاتے ہیں۔ یہ خرافات و واہمے اکثر لاعلمی کے سبب صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتے آ رہے ہیں۔ جدید دنیا میں اکثر واہمے اپنا وجود کھو چکے ہیں مگر پسماندہ علاقوں کے ہزاروں لوگ آج بھی ان خرافات پر یقین کر کے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

ایسے ہی کچھ واہمے بلوچوں کے کئی قبائل میں بھی پائے جاتے تھے جو آج کل وجود نہیں رکھتے مگر وہ ہماری تاریخ کا حصّہ ہیں۔ جن میں سے کچھ آپ کے لیے عرض ہیں۔

بارش مانگنا:
چوں کہ بارش برسنے کو ہر دور میں رحمت سمجھاجاتا رہا ہے اس لیے اگر دو سال متواتر بارشیں نہ ہوتیں تو لوگ پریشان ہوجاتے تھے اور بارش کے حصول کے لیے بلوچوں میں یہ روایت عام تھی کہ وہ ایک لڑکے کے چہرے پر رنگ یا سیاہی لگا کر اسے بدصورت بناتے اور اسے گھر گھر بھیج کر کھانے کی چیزیں منگواتے اور ساتھ میں “کلان قمبرو” بھی گنگناتے جاتے۔

اس کے بعد اس لڑکے کو آبادی سے دور لے جایا جاتا اور انھی کھانوں کو پکایا اور کھایا جاتا مگر اس لڑکے کو اس سے دور رکھا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ بارش کے حصول کے لیے دوسری خرافات بھی مشہور تھیں۔ علاقے کی چند لڑکیاں ایک گُڑیا سجانے کے بعد اس کو اٹھا کر گھر گھر گھماتیں اور ساتھ میں یہ گاتی تھیں، “شیشل ءُ شال شلو، ھور ءِ بگواریت من شیشل ءَ شوداں”۔

ہفتے کو بال کنگھی نہ کرنا:
بلوچوں میں یہ روایت بھی کافی مشہور رہی ہے کہ خواتین مہینے کے سولہویں دن پڑنے والے ہفتے کو بال کنگھی نہیں کرتی تھیں اور نہ اس دن سفر پہ جانے کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اس دن کو عظیم بلوچ رہنما میرحمل جیئند سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ روایت اب بھی کئی بلوچ علاقوں میں رائج ہے۔

تلوار یا چاقو سے حفاظت:
تلوار اور چاقو کو چلانے سے تو حفاظت ہو جاتی ہے مگر بلوچوں میں یہ خرافات مشہور رہی ہے کہ کسی بھی بیمار یا دولہے کے تکیے کے نیچے تلوار یا چاقو رکھنے سے جن اور بدبلا سے ان کی حفاظت ہو جاتی تھی۔

سیپیوں سے حفاظت:
نئے گھر یا کشتی پر سیپیوں کا ہار بنا کر باندھ دیا جاتا تھا تاکہ نظرِ بد سے محفوظ رہ سکے۔ ان سیپیوں کو واضح جگہ پر لٹکایا جاتا تاکہ دور سے نظر آ سکیں۔

گھر کو جھاڑو نہ دینا:
گھر کے کسی بھی فرد کے سفر پر نکلنے کے بعد چند لمحے کے لیے گھر میں جھاڑو نہیں دیا جاتا تھا۔ اور ہمیشہ سے کوشش ہوتی تھی کہ اس کے نکلنے سے پہلے ہی جھاڑو دیا جائے۔

پیچھے سے آواز دینا:
جب کوئی سفر پر نکلتا تھا تو اس کو پیچھے سے آواز لگانا انتہائی غلط تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جانے والا اپنے جانے کا ارادہ ترک کر دیتا یا کچھ لمحے کے لیے بیٹھ جانے کے بعد پھر دوبارہ روانہ ہو جاتا۔

رات اور سفید رنگ:
رات کے اوقات میں ضرورت پڑنے کے باجود سفید رنگ کی کوئی بھی چیز گھر سے اٹھا کر کسی کو نہیں دی جاتی تھی۔ جیسے کہ انڈا، آٹا یا نمک وغیرہ۔ اس کے علاوہ رات کو صندوق کھول کر پیسے دینے کو بھی نیک شگون نہیں سمجھا جاتا تھا۔

جانوروں کی حرکات کے معنی:
بلوچوں میں جانوروں کے متعلق بھی مختلف خرافات جوڑی گئی ہیں۔ جیسے جنگ کو جاتے ہوئے بلوچوں کے لشکر کے آگے سے کوئی کالی بلّی یا خرگوش گزر جاتا تو وہ اپنا راستہ بدل دیتے یا سفر کو نئے سرے سے شروع کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گھر میں جب کوئی بلّی اپنے پنجوں سے اپنا چہرہ صاف کرتی تو اسے کسی مہمان کی آمد کی نشانی تصوّر کیا جاتا تھا۔

چُڑیل سے بچے کی حفاظت:
جب کوئی عورت بچے کو جنم دیتی تو پورے ایک مہینے تک اس عورت کو کمرے میں اکیلا نہیں چھوڑا جاتا تھا اور یہ تصّور عام تھا کہ اگر بچہ اور ماں اکیلے کمرے میں رہے تو چُڑیل (جاتو یا جاتی) آ کر بچے کا دل نکال دے گی یا اسے نقصان پہنچائے گی۔

بچوں کا پرندوں کی زبان سمجھنا:
پرانے دور کے بلوچوں میں یہ خرافات بھی عام تھی کہ وہ پانی سے بھرا ایک پیالہ کسی سنسان پہاڑی جگہ میں رکھ دیتے، جب کوئی پرندہ وہ پانی پی جاتا تو اسی پانی کو چھوٹے بچوں کو بھی پلایاجاتا اور یہ یقین کیا جاتا کہ یہ بچے بھی پرندوں کی زبان سمجھنے لگیں گے۔

شادی کی پہلی رات:
شادی کی پہلی رات یعنی شبِ نکاح کو دلہن ایک ہاتھ میں گندم کے بیچ اور دوسرے میں اناج لے کر کمرے میں لے جایا کرتی تھی جنھیں بستر کے نیچے پھینک دیا جاتا۔ اس سے خاندان میں خوش حالی کی امید پیدا ہوا کرتی تھی۔

تین کا ہندسہ:
بلوچوں میں تین کے ہندسے کو بہت سے معاملات میں منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو شادی کی دعوت دینے کے لیے دو یا چار لوگ جایا کرتے ہیں مگر تین لوگوں کو کبھی نہیں بھیجا جاتا۔ جب کوئی کسی لمبے سفر سے واپس آ جائے تو اس کی خیریت پوچھنے کے لیے تین دن کے بعد کوئی نہیں جاتا۔ اگر کسی شادی میں دلہے تین ہوں تو ان کے ساتھ ایک بچہ بھی بٹھایا جاتا ہے۔

دلہے کی مہندی:
شادی کی مہندی کی رسم کے دوران سات خواتین دلہے کے ہاتھوں میں رسماََ چھوٹی چھوٹی مہندی لگاتی ہیں مگر جس عورت نے دو شادیاں کیں ہوں یا اس کا شوہر دو شادیوں والا ہو، اسے اس رسم کی ادائیگی سے منع کیا جاتا ہے۔

حاملہ خاتون:
ایک حاملہ خاتون آخری حد تک کوشش کرتی تھی کہ وہ کسی دوسری حاملہ خاتون سے ملاقات نہ کرے۔

جانوروں میں وبا:
جب جانوروں میں وبا پھوٹ پڑتی اور اس وبا سے ایک جانور ہلاک ہو جاتا تو اس جانور کو دفنا کر باقی جانوروں کو اس پر گزار دیا جاتا تھا۔ تاکہ وبا ادھر ہی ختم ہو جائے۔

منگل کا دن اور سلائی:
بہت سی خواتین منگل کے روز کپڑے سینے کو نیک فال نہیں سمجھتیں اور یہ یقین کرتی تھیں کہ اس روز جو کپڑا بھی سیا جاتی ہے وہ جلدی ختم ہو جاتا ہے یا جل جاتا ہے۔

دولہے کی مہندی:
دولہے کے لیے تیار مہندی میں درخت کے پتّے ڈال دیے جاتے تھے اور پھر مہندی سے نکلے پانی کو ساحلی علاقے کے لوگ ہر حال میں سمندر میں پھینک دیا کرتے تھے۔

بچّے کا ختنہ:
جب بچّے کے ختنہ کا وقت ہوتا تھا تو اسے لال رنگ کی ایک نرم قمیض پہنائی جاتی تھی، اور اس دوران اس بچّے کی ماں پانی سے بھرے ایک بڑے برتن میں قرآن پاک سر پر رکھ کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔

چاند گرہن:
بہت سے لوگ چاند کو گرہن لگنے کے بعد ایک برتن لے کر اسے ایک چھوٹے پتھر سے بجایا کرتے تھے تاکہ چاند گرہن جلدی ختم ہو جائے۔ جب کہ اس دوران حاملہ خواتین گھر سے نہیں نکلتی تھیں۔

دورِحاضر میں ایسے واہمے یقیناََ ہمارے لیے باعثِ حیرت ہوں گے مگر دورِ گزشتہ میں ایسے واہمے ان اقوام میں بھی پائے جاتے تھے جو آج ترقی کے آسمان کو چھو رہی ہیں۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *