کہانی “مہر ولی” کے کھنڈرات سے نکلی اور پھر ایک کبڑے کلرک کے اس اپارٹمنٹ تک لے گئی جو اس نے دلّی کے قریب “گوتم بدھ نگر کے چرّاسی گاؤں” میں لیا تھا، وہاں سے نکلی تو “تھانہ محال گنج، قیصر پُل” کی گلیاں تھیں، پھر جب جب صفحہ پلٹا، ہر نئی کہانی نئے کردار اور نئے دکھ کے ساتھ کہیں کہیں پرانے طنز کا عروج و زوال بیان کرتی رہی!
ایک لمحے کو دل چاہا بھی کہ “گل افشاں صدیقی عرف گلفاں” نامی کردار سے ملنا چاہئے پھر لگا کہ اس کہانی کے اختتام میں پھنس گیا تو شاید کسی اور جانب کا سفر مقدر ہی نہ ہو؟ حالانکہ میں ہمیشہ چاہتا تھا کہ کوئی دوسری سرحدوں، ملکوں اور شہروں سے بولے اور میں اسے سنوں کہ اگر میں ایسا نہ کر سکا تو مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ “عمّو” کا کردار بچ گیا تھا؟ کہانی نہیں پڑھی تو کیسے معلوم ہوگا کہ “گھگھیوں” کا دکھ کیا تھا؟
تصنیف حیدر تخلیق کار ہیں، یہ ایک کتاب اور 8 کہانیاں ہیں، ایک بھی کہانی زائد یا کم نہیں ہے سو بات سے بات نکل آتی ہے، تہ در تہ کہانی ہے تب ہی تو بیچ بیچ میں رک جانا ممکن نہیں! اور پھر جب کہانی کار کے لہجے میں داستان گو کا لہجہ بھر آئے تو بات ذائقے کو پہنچ ہی جاتی ہے سو پہنچ گئی اور مزید خوبصورت یہ بھی تو تھا کہ کہانی کار کی بیانیہ زبان بہت منفرد ہے!!
اقتباسات :
▪وہ نیچے نہیں دیکھ رہی، وہ دور دیکھ رہی ہے، سامنے، اور سامنے تو بس شہر ہے، مریل یا تنومند کتے ہیں، خالی پن اور اداسی کے نوحے گاتی چھتیں ہیں، کہیں کہیں کچھ سخت جان پیڑ، جن کی ڈالوں سے لٹکتے ہوئے پتے سوکھ چلے ہیں، آوازیں ہیں، ہارن کی، نہ سمجھ آنے والے انسانی شور کی، چڑیوں کی بولیاں ہیں اور ہوا کی سنسناہٹ ہے، یا وہ شہر کو اس طرح دیکھ رہی ہے جیسے کوئی خلا کو دیکھتا ہے؟ وہ شہر کو سوچ رہی ہے؟ وہ کیا سوچ رہی ہے؟ کیا شہر کا شور اسے کچھ سوچنے دے گا؟ میں تو بہت کچھ سوچ لیتا ہو! ایک پل میں، اتنا کچھ کہ اچانک کسی لمحے میں اسی سوچ سے پیدا ہونے والا خوف مجھے اپنے حصار میں لے لیتا ہے، اس خوف نے میرے کانوں کی خاکی تہوں پر خود کو جما لیا ہے، اس کے سوا کوئی دوسری آواز میرے اندر نہیں جا سکتی، میرا پیٹ بھی اسی خوف کے سبب ہر وقت کھولتا رہتا ہے، بعض اوقات تو اتنی گرمی ہو جاتی ہے کہ مجھے دو یا تین بار نہانا پڑتا ہے!
ص : 31
▪اس بوڑھی عورت کو مرنے میں سترہ سال لگ گئے ۔۔۔۔ اتنے لمبے عرصے کی موت سنی ہے کبھی؟ میں نے سنا تھا جن لوگوں کو پانی میں ڈبو کر، سولی پر لٹکا کر یا پھر آگ میں جلا کر مارا جاتا ہے وہ بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹوں میں مر جاتے ہیں۔
ص : 120
▪آدمی کا غم بابوجی، اگر اندر ہی اندر پلتا رہے تو بڑی عجیب صورتوں میں باہر نکلتا ہے!
ص : 90

تبصرہ و انتخاب : مسلم انصاری
کتاب : نردباں اور دوسری کہانیاں
مصنف : تصنیف حیدر (انڈیا)
اشاعت : آج (پاکستان)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں