ہاں ہاں پتہ ہے پتہ ہے کہ میری عمر بہت ہو گئی ہے ۔قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھی ہوں ۔بہت سی بہاریں اور بہاروں کے نام پر عجیب و غریب زمانے دیکھ چکی ہوں ۔یہ بھی معلوم ہے کہ عنقریب ایک مہربان ہاتھ آئے گا ،آگے بڑھے گا تو میں اسے پیار سے تھام لوں گی اور ایک انجان سفر پر روانہ ہو جاؤں گی، نہ یہ کوئی دکھ کی بات نہیں ،بلکہ دروازوں کی بات ہے نا ۔۔
اگلا دروازہ بس کھلنے ہی والا ہے۔۔ہائے وہ محبت بھرا لمس مجھے کتنا اچھا لگے گا،کتنی طمانیت حاصل ہوگی مجھے،کب سے تو بستر پر پڑی ہوں اکیلی، سب اپنی اپنی زندگی اور منزلیں کھوج رہے ہیں، میں کسی کی راہ تک رہی ہوں ، میرے کمرے کے دروازے پر ایک جالی لگی ہے، سیڑھیاں بھی دکھائی دیتی ہیں،کوئی بھی آتا جاتا ہو پتہ چل جاتا ہے کہ کون ہے جو میری سمت آرہا ہے،میرا محبت سے محروم بدن جالی میں سے آتی جاتی ٹھنڈی ہوا کے رسیلے بوسے محسوس کر کے جی اٹھتا ہے ۔یہ سیڑھیاں بھی عجیب چیز ہوتی ہیںِ لوڈو کے کھیل کی طرح،کبھی کوئی ۔۔زہریلا سانپ اوپر چڑھ آتاہے تو کبھی کسی منہ زور بیل میں اُگا ہوا ضدی گلاب کا پھول سر نکال کر جھانکنے لگتا ہے۔ یاد آتا ہے کہ۔۔
میں پندرہ سولہ برس کی تھی بس میں کالج آیا جایا کرتی تھی،صبح روانگی سمے اور پھر واپسی کے وقت سرخ شرٹ پہنے ایک نوجوان لڑکا ہمیشہ دکھائی دیتا۔جو کبھی کچھ نہ کہتا بس خاموشی سے میرے پیچھے پیچھے آتا اور بس ۔ اور کچھ بھی نہیں ۔۔کیا فرشتہ صفت عاشق تھا،بزدل کہیں کا اجی وہ زمانہ ایسا ہی تھا،سہمی سہمی محبتوں والا۔۔اللہ جانے اسے محبت کہہ بھی سکتے ہیں یا نہیں ۔
بس یوں ہی بے نام بے کار بے مصرف سے سلسلے چلتے رہتے تھے۔۔انجام کچھ بھی نہیں ہوتا تھا ۔سچی بات تو یہ ہے میں بھی بس سٹاپ پر پہنچ کر ادھر ادھر دیکھنے لگتی تھی جس روز وہ نہ آتا بس سٹاپ سونا سونا سا لگتا ۔ایک روز کیا دیکھتی ہوں کہ حضرت ہمارے بھائی کے ہمراہ اس کے دوست بن کر ہمارےگھر چلے آرہے ہیں ،مجھے بڑی ہنسی آئی اورہ تھوڑی سی خوشی بھی ہوئی۔۔پھر ایک روز دروازے کی گھنٹی بجی، میں نے کھولا تو لال شرٹ والا باہر کھڑا تھا ۔بھائ ی کا نام لے کر پوچھا تو میں نے کہا،وہ تو گھر پر نہیں ہیں ۔
کہنے لگا،یہ کتاب ان کو واپس دینی تھی، میں نے سن کر ہاتھ آگے بڑھا دیا کہ مجھے دے دو۔ ۔کرنا خدا کا کیا ہوا کہ اس نے کتاب کی جگہ اپنا ہاتھ بڑھاکر میرا ہاتھ تھام لیا۔ ایک لحظے کو تو میری سٹی گم ہوگئی۔ اس کی بھی ہو گئی ہو گی کیونکہ ہم دونوں چند سیکنڈ کے لیئے بت بنے کھڑے رہے۔۔ وش آیا تو ہم نے ہاتھ پیچھے کر لیئے، اس نوجوان کے ہاتھ کا وہ لمس صنف مخالف کے لمس کو محسوس کرنے کا میرا پہلا تجربہ تھا ۔ہائے کیسا جادو تھا اس میں۔ وہ توخاموشی سے سیڑھیاں اتر گیا مگر میں اس انوکھے لذت بھرے پُر کیف سحر انگیز لمس کو زندگی بھر بھلا نہ سکی۔
اس عمر تک پہنچتے پہنچتے میں نے کیا کیا نہیں دیکھ لیا۔۔زندگی میں کیسے کیسے لمس محسوس نہیں کیے ۔شفقت ،محبت، ہوس، اجنبیت، بیزاری،بے لطف رفاقت۔۔ہر طرح کے لمس سے آشنائی
مگر اس اولین لمس کی حدت اور لذت کو بھلانہ سکی۔
بس اب تو ایک آخری لمس کا انتظار ہے۔۔اس آخری پڑاؤ میں یہی جانا ہے کہ اس دنیا میں محبت کے سوا رکھا کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں، عنقریب ایک خوبصورت فرشتہ آئے گا۔اپنا پُر جوش ہاتھ بڑھائے گا ۔میں ایک جوان دوشیزہ کی طرح بستر سے اٹھ کھڑی ہوں گی اور والٹز رقص کرتی کرتی اس کی بانہوں میں جھول جاؤں گی اور پھر کائنات کے مدار سے باہر نکل کر اپنے اصل محبوب میں مدغم ہو جاوں گی۔۔
اوہ میں کسی کو سیڑھیوں سے اوپر آ تا دیکھ رہی ہوں اور اس نے سرخ شرٹ پہن رکھی ہے۔۔اوہ وہ آگیا ۔۔میرے روبرو کھڑا ہے۔۔اس نے میرا ہاتھ تھام لیا ہے ۔اُف وہی شناسا لمس وہی حدت وہی لطف و کرم مگر اس کے ہاتھ۔۔اس کی ہتھیلی پر کچھ ہے ۔جیسے ایک چراغ ہو اور جلتا رہا ہو ۔۔چراغ سے روشنی پھوٹتی ہو ۔ایسی روشنی جس میں ایک کتاب پڑھی جا سکتی ہو ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں