• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاک بھارت کشیدگی: سوشل میڈیا بے لگام ہاتھی/ ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

پاک بھارت کشیدگی: سوشل میڈیا بے لگام ہاتھی/ ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدگی اور تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ 1947ء، 1965ء، 1971ء اور کارگل 1999ء کی جنگیں، سرحدی جھڑپیں، سفارتی تنازعات اور سیکیورٹی خدشات اس تناؤ کی روشن مثالیں ہیں۔ مگر موجودہ دور میں جنگیں صرف محاذوں پر ہی نہیں بلکہ میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا ایک بے لگام ہاتھی بن چکا ہے اور حکومت اس کے سامنے بے بس بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کے فوری تبادلے کو ممکن بنایا ہے، وہیں یہ قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی بن چکا ہے۔ غلط معلومات، جعلی خبریں اور ڈیپ فیک ویڈیوز کی یلغار دشمن قوتوں کے لیے ایک ہتھیار بن چکی ہے، جس سے داخلی خلفشار اور عالمی سطح پر تاثر کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔
پاک-بھارت کشیدگی کے موقع پر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس ایڈوائزری میں نہ صرف میڈیا اداروں، یوٹیوبرز، بلاگرز، اور فری لانس صحافیوں کو خبردار کیا گیا ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی ان کے سوشل میڈیا رویے پر نظرِ ثانی کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

فوجی سرگرمیوں سے متعلق ویڈیوز، تصاویر یا براہِ راست اپ ڈیٹس کو شیئر کرنا بظاہر ایک معمولی عمل محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ درحقیقت دشمن انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لیے قیمتی معلومات بن سکتا ہے۔ مثلاً کسی حساس علاقے کی ویڈیو، فوجی نقل و حرکت کی تصویر، یا مخصوص ہتھیاروں کی تفصیلات غیر ارادی طور پر ایک مکمل انٹیلیجنس رپورٹ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے گمراہ کن معلومات دشمن کا ہتھیار بن سکتے ہیں۔ ڈیپ فیک ویڈیوز اور جھوٹی خبریں صرف افواہیں ہی نہیں بلکہ ہائبرڈ وارفیئر کا ایک مستقل ہتھیار بن چکی ہیں۔ ایسے مواد سے نا  صرف قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ سماجی انتشار، فرقہ واریت اور نفرت انگیزی بھی جنم لیتی ہے۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے بروقت تنبیہ کرتے ہوئے عوام اور خاص طور پر صحافی برادری کو خبردار کیا کہ خبر کی اشاعت سے پہلے اس کی صداقت کو جانچنا، صحافتی اصولوں کی بنیادی شرط ہے۔
کسی بھی خبر یا ویڈیو کو شیئر کرنے سے قبل اس کے ذرائع اور اثرات پر غور کرنا ہر فرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں سنگین قانونی دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کی آزادی، ذمہ داری کے ساتھ مشروط ہے۔

رپورٹرز، یوٹیوبرز اور پوڈکاسٹرز کو جذباتی یا سنسنی خیز مواد کی اشاعت سے اجتناب کرتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
عام شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ میڈیا لٹریسی (media literacy) حاصل کریں تاکہ وہ غلط معلومات کی شناخت کر سکیں۔
پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے، جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی ایڈوائزری ایک قومی بیداری کا پیغام ہے، جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ “سچ بولنا” اور “ذمہ داری سے بولنا” ہمارے لیے اور وطن عزیز پاکستان کے نیک شگون کا باعث بن سکتا ہے۔

Facebook Comments

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
*رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، ورلڈ ریکارڈ سرٹیفیکیٹس، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں، اس واٹس ایپ نمبر 03365114595 اور rachitrali@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply