فتوی منڈی۔ولائیت حسین اعوان

منڈی مطلب مارکیٹ ہر محلے شہر ملک میں پائی جاتی ہے۔عالمی سطح پر دیکھیں تو جاپان ،چائنا،کوریا،ملائشیا، سنگاپور،یورپی ممالک،مشرق وسطی،امریکہ،افریقہ کسی ایک یا چند چیزوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ الیکٹرونکس،گارمنٹس،تیل، خشک فروٹ سبزی ،پھل فروٹ،کسی نہ کسی ملک  کی منڈی کی مشہور ہیں۔پاکستان میں بھی کہیں کپڑا کہیں گارمنٹس،کہیں ہوزری کی منڈی کہیں آم ،کہیں مالٹا کہیں سیب کی منڈی، اور کہیں مویشی منڈی مختلف شہروں کی مشہوری کا ایک سبب ہے۔آپ انٹرنیشنل منڈی سے لوکل منڈی تک کہیں بھی چلے جائیں ہر جگہ آپ خود مال خریدیں گے اسی صورت میں جب آپ کو اس پروڈکٹ کا وسیع تجربہ ہو گا اور اگر آپ ابھی اسی فیلڈ میں اناڑی ہیں تو کسی تجربہ کار بندے  کی راہنمائی میں یا بروکر کے ذریعے مال دیکھنے بھی جائیں گے اور اس کی قیمت بھی اسی کے ذریعے لگائیں گے۔اگر آپ مویشی منڈی میں کھڑے ہو کر بیل کی قیمت بکرے کی لگائیں گے تو وہ ان پڑھ دیہاتی لوگ بھی جو مال بیچنے آئے ہیں پہلے تو آپ پر ہنسیں گے اور اگر کوئی کم برداشت والا ہوا تو آپ کا بازو پکڑ کر باہر کا راستہ دکھا رہا ہو گا۔

واحد ایک ایسی منڈی ہے جو پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے۔ہر شہر ہر محلے میں اس منڈی کے خریدار اور فروخت کار موجود ہیں اور وہ ہے”فتوی منڈی”۔۔اور اس کا صدر مقام سوشل میڈیا اور خاص طور پر فیس بک ہے۔طرح  طرح  کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیاں بغیر علم ،تحقیق،  غور کے سمندر کی بھپرتی لہروں کی طرح  آپ کے سامنے آ رہی ہوں گی۔کفر کا فتوی،بےحیائی کا فتوی،گستاخی کا فتوی،ملحد کا فتوی،جاہلیت کا فتوی، سارے فتوے اس منڈی کی زینت اور عام و ارزاں ہیں۔بس کمی ہے تو ایک فتوی کی “بشریت” کےفتوی کی۔

ایک سائیکل، بائیک،یا جانور بھی خریدنا ہو تو خریدار کسی تجربہ کار اور اس شعبے میں معلومات رکھنے والے بندے کی خدمات حاصل کرتا ہے اور مشورہ لیتا ہے(اگر وہ خود پسند نہ ہو تو ) کسی کو برادری خاندان سے بھی باہر کرنا ہو تو تمام دانا بزرگ اکٹھے ہو کر متفقہ فیصلہ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ کفر گستاخی کے فتوی کے لیے کسی تحقیق راہنمائی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ کسی کو برادری اسلام سے خارج کرنے اور کسی کو اس کے ایمان سے محروم کرنے میں ہم  مشورہ، راہنمائی، اتفاق اور  نہ دوسرے کے موقف کو اہمیت دیتے ہیں بلکہ عقیدہ توحید کی نفی کرتے ہوئے خود “قادر مطلق” (نعوزباللہ) بن جاتے ہیں۔

یہ صورت حال کیوں پیش آتی ہے۔بےشمار وجوہات ہیں۔
مطالعہ کی کمی،تحقیق کا فقدان،غور کی صلاحیت سے عاری ہونا،تعصب،کسی مسلک شخص،جماعت یا ادارے سے بغض عناد،کس شخص سے  ذاتی نفرت،کاروباری یا سوشل میڈیا رقابت،خود پسندی،اور حسد نمایاں وجوہات ہیں۔اندھی محبت عقیدت بھی آپ کو اس منڈی میں اپنی پروڈکٹ بیچنے کی طرف راغب کر سکتی ہے۔

قرآن کے علاوہ نبیوں سے لے کر بزرگان دین نے عقیدہ توحید کے بعد سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا ہے میرےمحدود علم  کے مطابق وہ عدل ہے۔جس معاشرےمیں بھی انفرادی،اجتماعی یا ملکی سطح پر عدل انصاف کا فقدان ہو وہاں متشدد رویے ضرور پلتے بڑھتے ہیں۔اور اس شدت پسندی کا کلائمکس یہ ہے کہ پھر ہم اسلامی تعلیمات،سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنی آخرت کی فکر کو بھلا کر بس اپنی شہرت واہ واہ اور سماج میں نمایاں ہونے اور اپنی ذاتی تشنگی کے لیے ہر دوسرے شخص کو اپنے سے کم درجہ ایمان پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اور اس کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔

نہ اس میں استاد کی پہچان،نہ خواتین کا احترام،نہ کسی صاحب علم اور ہم سے ہر لحاظ سے بہتر شخص کی عزت اور نہ معاشرے ملک قوم امت کے لیے قابل قدر خدمات انجام دینے والے کی قدر ہم اپنے دل میں جمع ہونے دیتے ہیں۔قائداعظم کی ذات ہو یا علامہ اقبال  کا “شکوہ”،سرسید احمد خان کا فہم ہو یا حالی کی نظمیں، مولانا مودودی ر۔ع کی علمی تحقیق ہو یا مولانا شاہ احمد نورانی ر۔ع کا عشق رسول ص۔ع، بھٹو کی شخصیت ہو یا ضیا کی،نواز شریف کی تقریر ہو یا عمران کے نظریات،جنید جمشید کی گفتگو ہو،یا پرویزہود کے افکار، سبین محمود کی سماجی جدوجہد ہو یا ڈاکٹر شکیل اوج کی تعلیمی خدمات ،عبدالستار ایدھی کی عظیم خدمت خلق ہو یا مولانا طارق جمیل کی دینی خدمات، ملالہ کا مغربی لباس ہو یا اوریا مقبول جان کی بیٹی کی ذاتی زندگی،ہم سب کو صرف اپنی  تعصب کی  عینک سے دیکھنے اور ذاتی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں تحمل برداشت عدل،دوسرے کی پسند رائے کا احترام اور مکالمہ کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اعتدال کا اور عدل کا راستہ دکھائے۔اپنی رائے کو حتمی اور دوسرے پر تھوپنے سے محفوظ رکھے اور اختلاف مذہب،اختلاف مسلک،اختلاف سیاست،اختلاف پسند اور  اختلاف رائے کو کھلے دل سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور دل شکنی کے بجائے دل پسندی اور دل گیری عطا فرمائے۔ آمین!

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *