منفرد پیشے ، کامیاب کاروبار/ اعظم معراج

اسکا برصغیر کے ہزاروں سال سے پسے ہوئے طبقات سے تعلق تھا۔
تقریبا پونے دو سو سال پہلے اسکے اجداد کو مسحیت کی عالمی شناخت نصیب ہوئی ، جس نے اسکی ہزاروں سالہ کئی پستیوں کا مداوا کیا۔ لیکن مسحیت کی روح کے مطابق انسانوں کی بھلائی میں جٹے لوگوں کو برصغیر کے دیگر خطوں کے مقابلے میں جن خطوں پر بعد میں پاکستان بنا وہاں انھیں کم وقت ملا۔ پھر تاریخ کے جبر برصغیر کے معروضی مذہبی، سماجی حالات نے اس شاندار عالمی شناخت کے ساتھ قدیم جینیاتی اثرات کے باعث اور کچھ معاشرتی جبر کے بدولت پاکستان کے مسیحی سماج کی ساخت وہ نہ بن سکی جو مسحیت کے وہ سچے پیروکار بنانا چاہتے تھے۔ بلکہ معروضی حالات تبدیلی مذہب کے دوران آزمائے گئے کچھ طریقوں کے اثرات مسیحی سماج پر اتنے مضر ثابت ہوئے کہ مسیحی سماج کی اجتماعی بنت ہی بگڑ گئی۔ ہوس زر واقتدار کی پجاری سیاسی و دانشور اشرافیہ کی بدولت کمزور طبقات کے بارے نہ سوچنے کی حکومتی و ریاستی روش نے مجعوعی اقلیتی شہریوں کے رویوں کو مسخ کر کے رکھ دیا ۔اسی طرح کی دیگر معاشرتی و سماجی آلائشوں کی بدولت مسیحی سماج میں محرومیوں کی سوداگری کی صنعت کی آبیاری ہوئی۔اسکے ساتھ پاکستانی معاشرے کی سیاسی و دانشور اشرفیہ کی تقریباایک کروڑ اقلیتی شہریوں کے معاملات سےعدم دلچسپی کےباعث ان پر ایسا اقلیتی انتحاہی نظام تھوپا گیا، جس سے اقلیتوں خصوصا مسیحیو میں،جمہوری غلامی کی ایک نئی صنعت نے جنم لیا ۔عالمی فکری و مذہبی کم سیاسی سازشوں کی بدولت چاندی کے پجاریوں کے لئے تیس سکوں سے بیوپار شروع کرنے کی کئی نئی راہیں کھل گئی۔ وہ جب اسکول میں تھا ۔تو بہت حیران ہوتا کہ اسکے ہم وطن بچوں کے آئیڈیل بلکل فرق ہوتے جبکہ اسکے اپنے اور اسکے ہم مذہب ساتھیوں کے آئیڈیل انھی تین صنعتوں سے وابستہ افراد ہی رہ گئے ۔ان میں سے اگر کوئی اور آئیڈیل بناتا بھی تو امیتازی سماجی رویوں اور محرومیوں کے سوداگروں کی زبردست مارکیٹنگ کی بدولت وہ بھی جلد ہی معاشرتی بیگانگی کے مرض میں مبتلاء ہوجاتا۔ اگر پھر بھی کوئی اس مرض سے بچ کر ان صنعتوں کے علاؤہ کسی شعبے میں کامیاب ہوجاتا، تو چاندی کے پجاری اسے اپنی پروڈکٹ بنا کر پیش کرتے۔ جس سے انکی چاندی سونا ہوجاتی ۔۔اس نے بھی اپنا کیریئر محرومیوں کی سوداگری کی صنعت سے شروع کیا،جسکے ساتھ وہ جمہوری غلامی کا طوق گلے میں سجانے کی تگ دو میں بھی لگا رہا۔ کیونکہ اس طوق کے سجتے ہی اسکی رسائی ریاستی وحکومتی حلقوں تک ہوجاتی۔ اس لئے جب اسکی یہ مراد بھر آئی تو اس کی آمدن کا ایک حصہ چاندی پوجا کی صنعت سے خود کار نظام کی بدولت آنے لگا۔ کیونکہ سرکار دربار تک رسائی چاندی کے بیوپار سے وابستہ ہر فرد کو درکار ہوتی ،اس لئے جو طوق غلامی کی مستعند صنعت پاتا ۔ اس کے لئےآمدن کی یہ تیسری راہ فورا کھل جاتی ہے ۔ یوں جب اس نے اپنے ہم مذہب مسکینوں،خاک نشینوں کی بھلائی کی آڑ میں یہ تینوں مراعات یافتہ پیشے مکمل اپنا لئے ۔ تو وہ اس ان جاب ٹرینگ کے باعث تینوں پیشوں کی باریکیوں کو خوب سمجھ چکا تھا۔ اب اگر ان مساکین میں سے کبھی کوئی اپنا ذاتی یا اجتماعی مسئلہ بتاتا جسے اسکے جمہوری غلامی سے وابستہ پیشے کی بدولت حل ہونا ہوتا تو ،وہ کہتا۔۔یہاں ذرا مشکل ہو رہی ہے۔اس مسلے کو میں محرومیوں کی سوداگری کے فورم کے ذریعے حل کروں گا ۔اور جو مسئلہ محرومیوں کی سوداگری سے وابستہ ہوتا ،اس سائل کو وہ اسے روحانی طریقہ علاج سے حل کرنے کی نوید سناتا ۔یوں اسے وہ چاندی کے پجاریوں کو ریفر کردیتا۔۔ اس طرح اسکی تینوں مصنوعات بکتی بھی رہتی، اور ان کی پیداوار پر اسکا خرچہ بھی کوئی نہ آتا۔ بلکہ خرچہ چھوڑ اس پر وہ معمولی توانائی بھی خرچ نہ کرتا ۔ یوں ان تینوں منافع بخش صنعتوں کی بدولت وہ بھی جلد ہی ملک کی بدمعاشیہ میں شمار ہونے لگا۔ رہ گئے یہ اقلیتی ایک کروڑ تو انکی وجہ سے اگر اب تک انکی شعوری، معاشی پسماندگی، و دیگر محرومیوں کی سوداگری کی بدولت اگر انکے چند ہزار ہم مذہب اور ہم وطن غربت و افلاس کے چنگل سے نکل گئے ہیں، تو انکے لئے یہ باعث فخر بات ہے،انھیں اس پر کڑھنے کی بجائے خوش ہونا چاہیے۔۔ بس اس خوشی و مسرت اور شادمانی میں اس بات پر ضرور سوچ بچار کر لیں،کہ کہیں ہماری آپکی اگلی نسلیں ان تینوں صنعتوں کا ایندھن نہ بن جائیں ۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply