بابا جی آپ کو شرم آتی ہے؟ ۔۔سلیم فاروقی

 بہن کے ولیمہ سے واپسی پر بدقماشوں نے بہن سے چھیڑ چھاڑ کی۔ بھائی برداشت نہ کر سکا۔ تلخ کلامی ہوگئی۔ وہ بدمعاش گھر سے اسلحہ اٹھا لایا۔ اور دو دن کی بیاہی بہن کا محافظ بھائی بہن پر نثار ہوگیا۔ ۔ مقتول کا باپ پولیس میں محض ڈی ایس پی ہی تھا لیکن قاتل کے پاس دولت اور طاقت دونوں ہی تھے۔ لہٰذا پولیس نے اپنے قبلہ یعنی دولت و طاقت کی جانب رکوع و سجود شروع کردیے۔معاشرہ مقتول کے گھرانے کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ نتیجہ یہ کہ چیف جسٹس پاکستان (یعنی اپنے عہد کے بابا جی) نے نوٹس لیا اور نہ صرف کیس انسداد دہشتگردی عدالت میں بھیجا بلکہ خود اس کیس کی نگرانی کرتے رہے۔ بالآخر قاتلوں کو سزائے موت سنا دی گئی۔  دوران مقدمہ پورا پاکستانی معاشرہ مقتول کے گھرانے کے ساتھ کھڑا تھا۔ جب معاشرہ محسوس کرتا   کہ مقتول کے گھرانے کو دباؤ کا سامنا ہے معاشرہ مظلوم گھرانے کا دست و بازو بن کر کھڑا ہوجاتا۔ معاشرے کے اس رویے کو دیکھ کر جانے کتنے ہی مظلوم گھرانوں کی نا امید آنکھوں میں امید کے دیے جل اٹھے۔ 

وقت گزرا، چہرے بدلے، انداز بدلے۔ ایک روز اچانک سندھ ہائیکورٹ کو الہام ہوا کہ یہ تو دہشتگردی کا کیس ہی نہیں تھا۔ اور پھر دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ہر اقدام کو ریورس کردیا گیا۔ مجرم کی سزائے موت معطل ہوئی۔ کیس سیشن عدالت میں گیا۔ وہاں مقتول کے باپ نے مجرم کو “اللہ کے نام پر” معاف کرنے کا حلف نامہ جمع کروادیا۔ اور اب قاتل آزاد فضاؤں میں گھوم رہے ہیں۔ جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ قاتل کے گھرانے نے مقتول کے ورثا کو مختلف صورتوں میں اندازاً ایک ارب روپے کی ادائیگی کی۔  اب عدلیہ پر اس سوال کا جواب لازم ہے کہ پہلے سپریم کورٹ نے یہ کیس دہشتگردی کی عدالت میں بھیج کر شاہ رخ کے ساتھ زیادتی کیوں کی؟ یا ہائیکورٹ نے دہشتگردی کی تعریف کیے بغیر اس کیس سے دہشتگردی کی دفعات کیوں کر ختم کردی ہیں۔ دونوں عدالتوں میں سے کس نے انصاف کیا ہے اور کس نے انصاف کا خون کیا ؟ ۔

اس چکر میں یہ سوال بجا طور پر کھڑا ہوگیا ہے کہ شاہ زیب قتل کیس اور سلمان تاثیر قتل کیس میں ایسا کیا بنیادی فرق تھا جس کی بنیاد پر ممتاز قادری کی سزا تو جائز ہے لیکن شاہ رخ کی سزا ناجائز قرار پاتی ہے۔ ۔ ایک اہم سوال جس کا جواب بھی عدلیہ پر فرض اور قرض ہے کہ شاہ رخ کا مقدمہ دہشتگردی سے نکال کر تعزیرات پاکستان میں منتقل ہوا، کیا تعزیرات پاکستان کے تحت ورثا کو معافی کا اختیار ہے؟ کیونکہ تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کے مقدمے میں فریادی سرکار ہوتی ہے نہ کہ ورثا۔ جبکہ معافی یا دیت و قصاص حدود آرڈیننس کا حصہ ہے نہ تعزیرات پاکستان کا۔ سوال تو یہ بھی کھڑا ہوگیا ہے کہ اگر کل کسی کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت چوری کا مقدمہ درج ہوجائے اور اگر عدالت اس کا ہاتھ کاٹنے کی حد جاری کردے تو کیا وہ صحیح ہوگی، جبکہ قطع ید حدود آرڈیننس کا حصہ ہے اور تعزیرات پاکستان کے تحت چوری کی سزا قید ہے۔

شاہ رخ کے مقدمے اور موجودہ فیصلے کے بعد نظام انصاف سے مایوس ہو کر اگر کوئی فرد انفرادی طور پر انصاف کرنے آٹھ کھڑا ہوا تو اس کو جو بھی سزا ملے گی کیا وہ جائز ہوگی۔ اور کیا اس کو جرم پر اکسانے کی ذمہ داری عدلیہ پر عائد نہ ہوگی؟ ۔ کیا موجودہ عدلیہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو اس کیس میں طلب کرکے وضاحت طلب کرے گی کہ انہوں نے شاہ رخ کا مقدمہ دہشتگردی کی عدالت میں کیوں بھجوایا جب کہ یہ کیس موجودہ عدلیہ کے نقطہ نظر سے دہشتگردی کا نہیں بلکہ تعزیرات پاکستان کا کیس تھا ۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہماری عدلیہ میں زیادہ با اختیار کون ہے سپریم کورٹ جس نے یہ مقدمہ دہشتگردی کی عدالت میں بھیجا یا ہائیکورٹ جس نے اس مقدمے کو دہشتگردی کی عدالت میں بھیجنا نا انصافی سے تعبیر کیا اور مجرم کو پھانسی کے پھندے سے اتر کر گھر کے بیڈروم تک پہنچنے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا؟ ۔

کیا اعلیٰ عدلیہ یہ بھی بتانا پسند کرے گی کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ کے آج کے فیصلے کل آپ خود نا انصافی قرار نہ دے دیں، اور ایک عام شہری آپ کے آج کے فیصلوں پر ایمان کی حد کیسے کرے؟ جبکہ عدل و انصاف قائم کرنے کی بنیادی شرط ہی یہی ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر ایمان کی حد تک اعتماد کیا جائے۔  سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنے ہائی پروفائل کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے میڈیا کی ان خبروں کی تحقیق کرنے کے لیے کسی جے آئی ٹی کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی کہ قاتل و مقتول کے ورثا کے درمیان تقریباً ایک ارب روپے کی لیں دین ہوئی ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو کیا فریقین نے اس رقم پر ٹیکس ادا کیا تھا؟ اور دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ لین دین ہوئی ہے تو کیا یہ دیت کا معاملہ نہیں ہے اور کیا مقتول کے ورثا نے اللہ کی رضا کے لیے معاف کرنے کا جھوٹا حلف نامہ جاری کرکے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے ؟ ۔

ممکن ہے مذکورہ بالا گزارشات کچھ جبینوں پر شکن ڈال دیں لیکن مجھے آپ کی شکن آلود جبین سے زیادہ شکن آلود معاشرے کی فکر ہے۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *