بہتر فیصلے کرنے کی سائنس کیا ہے؟-توصیف اکرم نیازی

آپ کئی ہفتوں سے دن رات ایک کر کے ایک اہم پریزنٹیشن کی تیاری کر رہے ہیں۔
پاورپوائنٹ سلائیڈز مکمل تیار، ایکسل کی ہر فیگر ناقابلِ تردید، اور آپ کی منطق صاف، شفاف اور شاندار ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ سب کچھ اسی پریزنٹیشن پر منحصر ہے۔ اگر CEO کی منظوری مل گئی، تو کامیابی کا دروازہ کھل جائے گا۔
اور اگر پریزنٹیشن فیل ہو گئی.تو نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ CEO کی اسسٹنٹ آپ کو تین وقت دے رہی ہے:
صبح 8 بجے، 11:30 بجے یا شام 6 بجے؟
آپ کون سا وقت منتخب کریں گے؟
آپ شاید کہیں: “جو بھی وقت مل جائے، بات تو مواد کی ہوتی ہے!
لیکن امریکہ کے مشہور ماہرِ نفسیات رائے باؤمایسٹر نے انسانی قوتِ ارادی (Willpower) اورDecision Fatigue پر ایک تجربہ کیا، جس نے دنیا بھر میں بہت شہرت حاصل کی۔
انہوں نے دو گروپس بنائے۔
پہلے گروپ کو ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں کئی خوبصورت چیزیں رکھی گئیں—مثلاً کپڑے، گفٹ آئٹمز، یا روزمرہ استعمال کی اشیاء۔
ان سے کہا گیا کہ:
“آپ کو بار بار فیصلے کرنے ہوں گے—یہ یا وہ؟ یہ رنگ یا وہ؟ یہ سائز یا دوسرا؟”
یعنی انہیں کئی چیزوں میں سے انتخاب کرنے کو کہا گیا۔
دوسرے گروپ کو بھی وہی چیزیں دکھائی گئیں، لیکن ان سے صرف رائے مانگی گئی:
“آپ کو کون سی بہتر لگتی ہے؟”
فیصلہ نہیں کروایا گیا، صرف رائے مانگی گئی۔
پھر دونوں گروپس کے افراد کو ایک عام ٹیسٹ دیا گیا:
انہیں کہا گیا کہ وہ اپنا ہاتھ برف کے یخ پانی میں ڈالیں اور جتنی دیر برداشت کر سکیں، رکھیں۔
یہ ٹیسٹ Willpower یعنی قوتِ ارادی کو ناپنے کا ایک مشہور طریقہ ہے۔
نتیجہ چونکا دینے والا تھا:
جن لوگوں کو مسلسل فیصلے کرنے پڑے تھے، وہ بہت جلد ہاتھ باہر نکال لیتے تھے۔
ان کا ذہن اور دماغ “فیصلہ بازی” سے اتنا تھک چکا تھا کہ وہ مزید برداشت نہ کر سکے۔
اسے Decision Fatigue کہا جاتا ہے یعنی بار بار فیصلے کرنے سے پیدا ہونے والی تھکن.
یہ تھکن کہاں کہاں مار کرتی ہے؟
1. آن لائن خریداری میں؟
جب آپ موبائل، لیپ ٹاپ یا کسی بھی چیز کے 50 ماڈل دیکھ چکے ہوں، تو آخر میں اکثر وہی چیز لے لیتے ہیں جو اشتہار میں سب سے زیادہ دِکھی ہو — چاہے وہ بہتر نہ ہو۔
2. زندگی کے اہم فیصلے؟
زیادہ فیصلے کرنے کے بعد انسان چھوٹے فیصلے بھی صحیح نہیں کر پاتا — جیسے جلد بازی میں غیرضروری خریداری، جذباتی پیغامات بھیج دینا، یا وقت سے پہلے ہار مان لینا۔
3. ججمنٹ اور انصاف؟
ایک تحقیق میں اسرائیلی ججز کی درجنوں فیصلے دیکھے گئے۔
صبح کے وقت وہ قیدیوں کو رہا کرنے کے حق میں ہوتے تھے۔
لیکن جیسے جیسے دن گزرتا، اور وہ تھکتے گئے، ویسے ویسے “نہ” کہنا آسان لگنے لگا۔
بعد دوپہر وہ زیادہ تر قیدیوں کی درخواستیں مسترد کرنے لگے۔
یہ ان کی تھکن، بھوک، اور دماغی تھکاوٹ کا اثر تھا — جرم یا شواہد کا نہیں۔
تو ہم کیا کریں؟
فیصلے تو زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن… کیا ہم انہیں بہتر طریقے سے نہیں لے سکتے؟
1. دن کے آغاز میں اہم فیصلے کریں
صبح کے وقت دماغ تازہ ہوتا ہے، اور Willpower فل چارج ہوتی ہے۔
اسی لیے اگر آپ کو کوئی اہم بات کرنی ہو — چاہے وہ پریزنٹیشن ہو، انٹرویو ہو یا امتحان — تو صبح کو منتخب کریں۔
2. بریک لیں — لیکن سمارٹ بریک
دن میں کئی فیصلے کرنے کے بعد اپنے دماغ کو ری چارج کرنے دیں۔
چائے کا کپ، ایک واک، یا کچھ دیر خاموشی۔
یہ تھکاوٹ دور کر کے آپ کو دوبارہ فیصلہ کرنے کی طاقت دے گا۔
3. کچھ نہ کچھ کھائیں
ہماری Willpower کا تعلق بلڈ شوگر سے ہے۔
جب بلڈ شوگر گر جاتی ہے، تو قوتِ ارادی بھی ختم ہو جاتی ہے۔
فرنیچر بنانے والی IKEA جیسی کمپنیاں جانتی ہیں کہ جب خریدار تھک جاتے ہیں، تو وہ غیرمنطقی فیصلے کرتے ہیں — اسی لیے وہ اسٹور کے درمیان میں کھانے کا سیکشن رکھتے ہیں!
ہماری زندگی میں ہم روز درجنوں فیصلے کرتے ہیں:
کس اسکول میں بچے کو داخل کروانا ہے؟
کون سی نوکری بہتر ہے؟
شادی کس سے ہو؟
کاروبار شروع کریں یا نوکری جاری رکھیں؟
اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جلدبازی، تھکن یا جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں اور پھر سالوں تک پچھتاتے ہیں۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہر فیصلہ صرف دماغی عمل نہیں، بلکہ جسمانی توانائی بھی مانگتا ہے۔
اور اگر ہم اس توانائی کو ضائع کر چکے ہوں، تو بہترین فیصلہ بھی ہم سے غلطی کروا سکتا ہے۔
آخری سوال:
جب زندگی آپ کو تین آپشنز دے — صبح 8 بجے، دوپہر، یا شام 6 بجے —
تو آپ کو اب معلوم ہے، صحیح وقت کون سا ہے۔
فیصلے صرف منطق سے نہیں ہوتے۔
وہ Willpower سے ہوتے ہیں اور Willpower ایک بیٹری کی طرح ہوتی ہے۔
جب یہ خالی ہو جائے، تو انسان وہ نہیں ہوتا جو وہ اصل میں ہے۔
اپنے فیصلے اس وقت کریں، جب آپ اصل میں “خود” ہوں۔
اگر یہ تحریر آپ کے کسی فیصلے کو بہتر بنا سکتی ہے، تو یقیناً یہ کسی اور کی زندگی بھی سنوار سکتی ہے۔ برائے مہربانی اسے شیئر کریں شاید کسی کا وقت اور زندگی بدل جائے ۔

julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply