مضامین سورۃ النور کا مختصر جائزہ (حصہ اوّل)۔۔عروج ندیم

سورۃ کا تعارف:
سورہ نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں ۹ رکوع اور ۶۴ آیتیں ہیں۔ اس سورت کے پانچویں رکوع کی پہلی آیت اللّٰہُ نُورُ السّمٰوٰتِ والارضِ کی مناسبت سے اسے سورہ نور کہا جاتا ہے۔ یہ سورت ہجرت کے چھٹے سال نازل ہوئی۔
اس سورت کا بنیادی موضوع دنیا میں بےحیائی اور فحاشی کو روکنا ہے۔ اس سورت میں پاکیزہ زندگی گزارنے کے ضروری تقاضے بیان فرمائے گئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے سخت سزا کا ذکر کیا گیا ہے جو مسلمانوں میں بے حیائی عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواتین کے پردے کے احکام بھی اسی سورت میں درج ہیں اور ایک دوسرے کے گھروں میں داخل ہونے کے لئے ضروری آداب و احکام کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
سورہ نور کے مضامین
١) ابتدا میں زنا کرنے والے مردوں اور عورتوں کی شرعی سزا بیان فرمائی گئی ہے۔
٢) مشرکہ عورت اور زانیہ عورت سے رشتہ جوڑنے سے اہل ایمان کو منع کردیا گیا۔
٣) پاک دامن عورتوں پر بےحیائی کی تہمت لگانے کی شرعی سزا بیان فرمائی گئی ہے۔
۴) لِعان کے احکام۔
۵) اللہ نے امُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی برات شان کو بیان کرنے کے لیے کثیر آیات نازل فرمائی۔
٦) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت بیان کی گئی ہے۔
٧) گھروں میں داخل ہونے کے آداب درج ہیں۔
٨) کفار کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے۔
٩) منافقوں اور سچے مومنوں کے اوصاف درج ہیں۔
١٠) بچوں اور غلاموں کے گھروں میں داخل ہونے کے تین اوقات درج ہیں۔
١١) بارگاہ رسالت کے آداب۔
مضمون#١
بدکاری کی شرعی سزا
آیت نمبر ٢:
ترجمہ:
بدکار عورت اور بدکار مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہو جائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو۔
یہ حد غیر شادی شدہ مرد و عورت کے لیے ہے۔ یعنی بدکاری کرنے والی چاہے عورت ہو چاہے مرد ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے جائینگے اور کب مارے جائیں گے؟ جب وہ خود پورے ہوش و حواس میں قاضی کے سامنے جا کر اس کا اعتراف کریں گے، تب ان پر حد نافذ ہوگی یا وہ اس بات کا ذکر ہی نہ کریں اور توبہ کرلیں تو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ پھر آگے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو ان کو سزا دیتے ہوئے تم پر انسانی ہمدردی غالب نہ آجائے، اس لئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں ہی سب کی بھلائی ہے اور شریعت کی طرف سے مقرر کردہ حد میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ اس سزا کا مقصد لوگوں کو اس بے حیائی سے باز رکھنا ہے تو چاہیے کہ سزا علی الاعلان دی جائے تا کہ اہل ایمان کے لئے باعثِ عبرت ہو اور وہ اس برے فعل سے دور رہیں۔
بدکاری کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ارشادات:
قرآن مجید میں زنا کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
• “اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ، بےشک وہ بدکاری ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔ ” (بنی اسرائیل : ٣٢)
• “اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گا وہ سزا پائے گا۔ اس کے لیے قیامت کے دن عذاب بڑھا دیا جائے گا اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا۔ (فرقان : ٦٨-٦٩)

مضمون # ٢
بدکار مرد و عورت سے نکاح کی حرمت
آیت نمبر ٣ :
ترجمہ: بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا مشرکہ سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہل ایمان پر۔
یعنی بدکار مرد کسی نیک اور پاکیزہ عورت سے نکاح نہیں کر سکتا سوائے بدکار عورت یا مشرکہ سے اور بدکار عورت کسی نیک اور صالح شخص سے نکاح نہیں کر سکتی سوائے بدکار مرد یا مشرک سے اور اللہ تعالی نے انہیں مومنین پر حرام کر دیا ہے۔ وہ مرد و عورت جو پہلے کبھی اس فعل کا ارتکاب کر چکے ہیں لیکن اب توبہ کر کے پاکیزہ اور باعفت زندگی گزار رہے ہیں، ان پر نیک مرد و عورت سے نکاح حرام نہیں ہے البتہ جو لوگ اب بھی اس فعل میں ملوث ہیں ان سے نکاح حرام ہے۔ گناہ ہے ان لوگوں کے لئے جو اس بات سے واقف ہوں کہ وہ جسے شریکِ زندگی کے لیے منتخب کر رہے ہیں وہ بدکار ہے اور وہ پھر بھی ان سے نکاح کریں۔

مضمون # ٣
حدقذف
آیت نمبر ۴:
ترجمہ : اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاکدامن عورتوں پر، پھر وہ نہ پیش کریں چار گواہ تو لگاوُ ان (تہمت لگانے والوں) کو اسّی٨٠ درّے اور نہ قبول کرنا انکی گواہی ہمیشہ کے لئے اور وہی فاسق ہیں۔
معاشرے میں بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جو نامکمل معلومات کے پیچھے پاک دامن لوگوں پر تہمت لگا بیٹھتے ہیں۔ جو تہمت لگانے والا ہوتا ہے اسکو تو کوئی فرق نہیں پڑھتا البتہ جو اس تہمت کا شکار ہوتے ہیں انکی عزت و آبرو مجروح ہو جاتی ہے۔ یہاں تہمت سے مراد صرف بدکاری کی تہمت لگانا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کے لئے سزا بیان کی ہے کہ اگر کوئی شخص نیک اور پاک دامن عورت پر بدکاری کی تہمت لگائے اور پھر چار چشمدید گواہ کے ساتھ یہ تہمت ثابت نہ کر دے تو اس کو اسّی٨٠ کوڑے مارو۔ شریعت میں اسے “حدقذف” کہا جاتا ہے۔
اگر اس کے پاس چار گواہ ہیں تو معاشرے میں پھیلانے کے بجائے قاضی کے پاس جا کر معاملہ بیان کرے تاکہ بدکاری کا ارتکاب کرنے والے/والی پر حد نافذ کی جائے۔ لیکن اگر اس کے پاس چار گواہ نہ ہو، خواہ وہ اپنے الزام میں سچا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ خاموش رہے۔
اگر وہ چار گواہ نہ لا کر الزام ثابت نہ کر سکے تو پھر زندگی بھر اس کی گواہی قبول نہ کی جائے گی اور اس کو فاسق قرار دیا جائے گا۔ اگر تو وہ شخص بعد میں اپنی لگائی ہوئی تہمت پر نادم اور شرمندہ ہو کر توبہ کر لیتا ہے تو اس کے بعد فاسق ہونے کی صفت اس پر سے ہٹ جائے گی لیکن اس کی گواہی پھر بھی قابلِ قبول نہ ہوگی۔

مضمون # 4
لعان کے احکام
آیت نمبر: ٦-٩
ترجمہ: اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا اور گواہ نہ ہو تو ایسے ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ اللہ کی قسم کے ساتھ چار بار گواہی دے کہ وہ یقیناً سچا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے دعوے میں) جھوٹا ہے۔ اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ (مرد) سچا ہے۔
اس سے پہلے جو آیتیں گزری ہیں ان میں غیر عورتوں پر بدکاری کی تہمت کے بارے میں احکام نازل ہوئے ہیں لیکن یہاں بیوی پر تہمت لگانے کے احکام بیان کئے گئے ہیں کہ اگر شوہر یا بیوی کسی ایک کو بدکاری میں ملوث دیکھے اور اس کے پاس بذات خود کوئی اور گواہ نہ ہوں تو پھر کس طرح یہ معاملہ قاضی تک پہنچایا جائے؟ کیونکہ اگر اس نے چار گواہ پیش نہ کیے تو اس پر حدِ قذف جاری ہوگی اور اگر وہ خاموش رہے تو یہ بھی اس کے لئے قابل قبول نہیں، تو آیا اس کا حل کیا ہوگا؟
حضرت عبداللہؓ بن مسعود اور ابن عمر کی روایات ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے اور منہ سے نکالے تو اب حد قذف جاری کر دیں گے، قتل کر دے تو آپ اسے قتل کر دیں گے، چپ رہے تو غیظ میں مبتلا رہے، آخر وہ کیا کرے اس پر حضور ﷺ نے دعا کی کہ خدایا، اس مسئلے کا حل فرما۔ (مسلم شریف)
اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اس مسئلہ کے لئے مخصوص قانون دیا گیا، جسے شریعت کی اصطلاح میں لعان کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بد کاری میں ملوث دیکھے تو قاضی کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ اپنے الزام میں سچا ہے اور پھر پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اللہ کی لعنت ہو اس پر۔ اسی طرح عورت بھی اپنے سر سے الزام ہٹا سکتی ہے اگر وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اس پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر اس کا شوہر اپنے الزام میں سچا ہے۔ لعان کے بعد زوجین کو جدا کر دیا جائے گا اور پھر ہمیشہ کے لئے وہ ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔

مضمون # ۵
واقعہِ افک
آیت نمبر: ١١-١٣
ترجمہ: جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے۔ جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے عذابِ عظیم ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ وہ لوگ اپنے (الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں، اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔
اِفک سے مراد ہے کہ بات کو حقیقت سے الٹ کر دینا اور اس آیت میں اس کے معنی صریح بہتان کے ہے٫ جو اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافقین کی طرف سے لگایا تھا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ان آیات کو نازل کرکے حضرت عائشہؓ کی برات شان کو بیان کیا۔ ان آیات میں حضرت عائشہؓ کی عفت اور پاکدامنی کو اللہ تعالی نے خود بیان فرمایا ہے۔
یہ واقعہ سن ٦ ہجری میں پیش آیا جب حضور ﷺ غزوہ بنی المصطلق کے لئے تشریف لے گئے۔ ان کے ساتھ حضرت عائشہؓ بھی تھیں۔ سفر سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا۔ حضرت عائشہؓ جب قضائے حاجت کے لئے گئیں تو وہاں آپؓ کا ہار گر گیا تھا۔ آپؓ واپس اس ہار کی تلاش میں گئیں تو وہاں کچھ تاخیر کے سبب جب آپؓ واپس آئیں تو قافلہ کوچ کر چکا تھا۔ حضرت عائشہؓ یہ سوچ کر اسی جگہ بیٹھ گئی کہ جب قافلے والوں کو یہ علم ہو گا کہ آپؓ اپنے محمل شریف میں نہیں ہیں تو وہ ضرور ان کی تلاش میں یہاں سے گزریں گے۔ وہیں بیٹھے بیٹھے آپؓ کو نیند آگئی اور ان کا پردہ ہٹ گیا۔ حضرت صفوانؓ بن معطل، جن کو قافلے کے کچھ پیچھے اس کام پر مامور کیا گیا تھا کہ اگر کہیں کوئی چیز گری رہ گئی ہو یا کوئی مریض رہ گیا ہو تو وہ اسے ساتھ لیتے آئیں۔ جب ان کا اس جگہ سے گزر ہوا جہاں آپؓ قیام کر رہی تھی تو آپ انہیں پہچان گئے کیونکہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے قبل وہ آپؓ کو دیکھ چکے تھے۔ آپؓ کو دیکھ کر انہوں نے اپنا اونٹ آگے کیا، جس پر حضرت عائشہؓ بیٹھ گئیں اور وہ دونوں مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہوئے۔
جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے۔ (سورہ النور: ١١)
یہاں جس شخص کو عذاب عظیم کی وعید سنائی گئی ہے وہ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی ہے۔ اس نے جب حضرت صفوانؓ اور حضرت عائشہؓ کو ساتھ آتے دیکھا تو اس چھوٹی سی بات پر اس نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگا دی اور اس افواہ کو اتنا پھیلایا کہ جو سادہ لوح مسلمان تھے وہ بھی اس سازش میں عبداللہ بن اُبی کے ساتھ جڑ گئے۔ آپؓ، ان کے والدین اور حضور ﷺ اس پورے عرصے میں سخت اذیت کا شکار رہے۔ حضرت عائشہؓ کی برات نازل ہونے کے بعد معاملے کو رفع دفع کیا گیا۔ ان افواہوں کو پھیلانے میں جو لوگ ملوث تھے ان میں عبداللہ بن اُبی، زید بن رفاعہ، مسطح بن اثاثہ، حسان بن ثابت اور حمنہ بنت جحش شامل تھے۔ عبداللہ بن اُبی چونکہ منافق تھا تو اس پر حد نافذ نہیں ہوئی البتہ باقیوں پر حد قذف جاری کی گئی کیونکہ وہ چار گواہ نہ لا سکے تھے۔ یہ واقعہ تاریخ اسلام میں واقعہ اِفک کے نام سے مشہور ہے۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *