الف کی عمر 30 سال ہے – وہ ایک دو سالہ بچے کی ماں ہے – وہ ایک گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول میں پی ایس ٹی ٹیچر ہے ماہانہ تنخواہ مجموعی طور پر 50 ہزار ماہانہ بنتی ہے – اس کا شوہر بھی ایک سرکاری ادارے میں گریڈ – 9 کا ملازم ہے – دونوں ماہانہ کل ملا کر ایک لاکھ روپے کماتے ہیں – الف کی 65 سالہ بوڑھی ساس ہے جو بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی مستقل مریضہ ہے – ایک شادی شدہ نند ہے جو ذہنی مریضہ ہے جسے انھیں ایک دماغی امراض کے کلینک میں داخل کرانا پڑا ہے اور اس کے دو بچوں کی پرورش بھی ان کے ذمے ہے – الف کی ماں کا انتقال اس کی شادی سے پہلے ہی ہوگیا تھا – اس کی دو چھوٹی بہنیں ہیں جن میں سے ایک کی شادی اس نے کی ہے اور دوسری کی شادی بھی اسے کرنا ہے اور اس کا خرچ بھی وہ اٹھاتی ہے – وہ اضافی آمدنی کے لیے کپڑے سیتی ہے – بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے – اس کے شوہر کو 8 مرحلے کے مکان میں تین مرلے کا خستہ پورشن ملا جس کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے انھوں نے بینک لون لیا جس کی ماہانہ قسط 23 ہزار روپے انھیں اگلے پانچ سال تک ادا کرنی ہے – ناکافی غذا کے سبب وہ خود بھی ایچ بی کی کمی کا شکار ہے- وٹامن ڈی کی کمی کے سبب اس کا بلڈ پریشر ان بیلنسڈ رہنے لگا ہے – اینگزائٹی، ڈپریشن کی علامات بھی ہیں – کیلشیم کی کمی بھی ہے جس سے ہڈیوں میں درد رہتا ہے – نیند بھی پوری نہیں ہوتی – اسے گھر والوں کے لیے صبح کا ناشتا، دوپہر اور رات کا کھانا بھی پکانا ہوتا ہے – ہفتے میں دو بار کپڑے دھونا ہوتے ہیں – بجلی کے بل کو کم رکھنے کے لیے وہ اے سی افورڈ نہیں کرتے –
یہ الف پنجاب کی ان ساٹھ فیصد سرکاری ملازمین کی صف میں شامل ہیں جنھیں کسی حد تک نوکری کا تحفظ ہے – سرکاری الاونس اور مراعات مل کر ان کے گھرانے کی کل آمدنی ایک لاکھ روپے تک پہنچا دیتے ہیں یہ زندگی بھی آسان نہیں ہے –
ب ن ایک دوسری نوجوان خاتون ہے – وہ ایک پرائیویٹ اسکول میں ریاضی کی ٹیچر ہے – اس کی ماہانہ تنخواہ صرف 25 ہزار روپے ہے – اس کا شوہر ایک مقامی پولٹری فیڈ فیکٹری میں ڈیلی ویج ملازم ہے جہاں پر کم از کم سرکاری طور پر مقرر کردہ تنخواہ کا قانون محض کاغذوں میں نافذ ہے اور اسے بس 20 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں- شوہر کی کبھی دن کی ڈیوٹی ہوتی ہے تو کبھی نائٹ ڈیوٹی ہوتی ہے اور کام کا دورانیہ بھی آٹھ گھنٹے کی بجائے 12 گھنٹے ہیں – ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے – جبکہ گھر پر ساس فالج کی مریضہ ہے اور سسر پچھلے سال کینسر سے فوت ہوا – یہ گھرانہ ہماری ورک فورس کے اس 97 فیصد سے تعلق رکھتا ہے جو پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرتا ہے – گزشتہ دس سالوں میں اس گھرانے نے تین بار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سروے کے لئے اپلائی کیا لیکن نہ جانے کیوں یہ گھرانا اس پروگرام کے تحت رجسڑڈ نہیں ہوا – ب ن ریاضی میں ماسٹرز ہے تو شوہر اکنامکس میں ماسٹرز ہے دونوں نے اپنے طور پر سینکڑوں بار سرکاری جاب کے لیے اپلائی کیا لیکن کبھی سلیکٹ نہیں ہوئے – یہ گھرانہ کل ملا کر کبھی 50 سے 60 ہزار روپے سے اوپر نہیں گیا – ب ن میں بھی صحت کے لحاظ سے بہت سی خرابیاں ہیں ملٹی وٹامن کی کمی ، خون کی کمی ، ڈپریشن اور اینگزائٹی ، چڑچڑاپن، اکثر میاں بیوی میں گھریلو معاملات کو لیکر جھڑپ ہوتی رہتی ہے –
یہ ہمارے شہری ، نیم شہری علاقوں کے محنت کش گھرانوں کی دو نمونے کی مثالیں ہیں ۔۔ زندگی گزارنا بلکہ اسے گھسیٹے جانا ہمارے سماج کے اکثریت گھرانوں کا معمول ہے – ان میں بہت کم گھرانے مشکل سے تین سے چار فیصد ایسے ہیں جن کے پاس اپنا ڈھائی سے تین مرلے کا ذاتی مکان ہے جس میں فی کس پانچ سے چھے افراد رہتے ہیں – جبکہ اکثریت غیر معیاری تیسرے درجے کی رہائشی آبادیوں میں کرائے کے مکانات میں رہتی ہے – اور اکثر گھرانوں میں “بچت” نام کی کوئی شئے نہیں بلکہ کسی نہ کسی قرض میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں – یہ طے ہے ان گھرانوں کے جو بچے ہیں آگے چل کر وہ کوئی بہت معیاری تعلیم نہیں پائیں گے اور نہ ہی وہ مستحکم درمیانے طبقے کے فرد بنیں گے – اور ان کی محنت کا شدید استحصال اس نظام کے اندر رہتے ہوئے طے ہے ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں