کیا ملک بیل آؤٹ ہو سکے گا۔۔۔ وقار اسلم

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے سعودیہ میں عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں آئل ریفائنری لگائی جائیں گی۔ دوست ممالک سے اس ضمن میں مدد کی درخواست بھی کی گئی اور ملک میں امن و استحکام رائج کریں گے۔ یہ شنید چند روز پرانی تھی کہ ملک کے معاشی و مالی حالات سنورنے والے ہیں اس کے لئے کئی یقین دہانیاں کروائی گئیں، پھر اب جا کر 6 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج سعودیہ عرب کی طرف سے پاکستان کو دئیے جانے کا اعلان ہوا۔ سعودیہ ہمارا بہترین دوست ہے اس سے تو انکار نہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ چین کو یہ پسند نہیں کہ اس کے پروجیکٹس میں کوئی تیسرا شریک ہو .

بہرحال یہ بھی ممکن نہیں کہ چائنہ  کو اس سب سے آگاہ نہ کیا گیا ہو لیکن اس مطلع کئے جانے پر بیجنگ سے کوئی اچھی خبر تو نہیں آئی ہوگی،ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے کسی ایک ملک کی خاطر دوسرے سے تعلقات کشیدہ نہیں کرنے۔ ایسے وقت میں جب کچھ ممالک نے ریاض میں منعقدہ کانفرنس کا حصہ بننے سے معذرت کی اس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم ہشاش بشاش،پُرامید وہاں جا پہنچے اور پھر ایک کافی رجائیت کی امنگ لے کر آنے والی ایڈ پاکستان کو دینے کا اعلان ہوا۔پچھلے ماہ بھی کپتان سعودیہ کے دورے پر گئے تھے اور پھر سرمایہ کاروں کے ایک وفد نے ریکوڈیک کو معائنہ بھی کیا۔ جس کے بعد خسرو بختیار سعودیہ کو سی پیک میں کردار دینے کے حوالے سے ڈیفینسیو نظر آئے جبکہ فواد چودھری شاید مغالطے میں یہ کہہ گئے تھے کہ شاید کوئی تیسرا اسٹریٹیجک پارٹنر بن جائے۔ جس کے لئے ان وفود کو گوادر کے دورے کروائے جانے کا کہا جا رہا تھا۔

اب آئی ایم ایف کو 9 ارب ڈالر کی قسط ادا کرنی ہے جس کے لئے دوست ممالک کی مدد درکار ہے۔خشوگی جو سعودی ولی عہد اور ان کے وزراء کی صفوں میں موجود کرپٹ عناصر کیخلاف لکھتا رہا اس کا پرُاسرار قتل اس بات کی رمق دیتا ہے کہ اسے قتل کر کے بدلا لیا گیا ہے لیکن ترکی اور امریکا کی جانب سے اتنی آواز اٹھائی گئی کہ شاہ سلمان گھبرائے ہوئے ہیں وہ مبصرین کو تنقید کرنے والوں کو ملک واپس بلا کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ تنقید سہہ سکتے ہیں۔ جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے میں یہ غور کر رہا ہوں امریکا کی طرف پاکستان کا جھکاو  بڑھتا جا رہا ہے اور حد سے تجاوز کر رہا ہے۔چین نے پاکستان میں اس قدر سرمایہ کاری کی ہے لیکن ا سے وہ پروٹوکول نہیں دیا جار ہا جو اسے ملتا رہا ہے اور اس کے کردار کو شاید فراموش کیا جار ہا ہے۔سنٹرل بینک نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں آئندہ سال دوگنے اضافے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم 6 بلین ڈالر کے پیکج کے اعلان کے باوجود وزارتِ خزانہ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے پر آمادہ ہے یعنی اس قسط کی ادائیگی کے بعد مزید بحران ہمارے منتظر ہیں۔ترکی کی کرنسی لیرا اپنی ویلیو کھو رہی ہے اسے سیٹ بیک کا سامنا ہے نا کام بغاوت کے بعد سے روس سے اس کے تعلقات قدرے بہتر ہو رہے ہیں جو کہ امریکا کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے۔ بطور پولیٹیکل سائنس کے طالبعلم کے مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ امریکا ہمیں تنہا کر رہا ہے وہ چین سے تو اپنی روایتی دشمنی نبھا ہی رہا ہے جس کو نبھانے کی ضرورت اسے1940 ء سے ہی محسوس ہو رہی تھی۔ 2008 ء امریکا کے مالی حالات میں ابتری آئی اس وقت چین کو یہ احساس ہوا کہ اسے مزید جی حضوری کرنے کی قطعا ضرورت نہیں ہے چین امریکا کی تمام چالوں کو سمجھتا ہے اور اسے کاوٗنٹر کرنے کے لئے مستعمل ہے۔

مزید براں امریکا پاکستان کو سیٹ بیک کے گنجل میں دھکیل رہا ہے۔اسے رتی بھر تاسف نہیں کہ پاکستان کو مستقبل میں کیا قرض کیا احسان اورکن مشکلات سے گزرنا ہوگا، امریکا پاکستان کو دیوار سے لگا رہا ہے اور ہم لگتے چلے جا رہے ہیں۔ماضی میں بھی ریکوڈک کو ایسی نام نہاد بیرونی کمپنیز کے حوالے کیا گیا جن کی نیک نامی کے طبل دنیا بھر میں بجے اور بتایا گیا کہ وہ کتنی شفاف ہیں اس سب کے پیچھے حکمرانوں کی عدم دلچسپی بھی رہی سپریم کورٹ بھی اس پر سماعتیں کرتی رہی لیکن نتیجہ کچھ نہیں۔اب دانشور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سعودیہ کو اس کی سلامتی کے مسائل پڑے ہیں اس لئے یہ کہیں بھی انویسٹ کررہا ہے بغیر سوچے لیکن میرا خیال ہے کہ جب ایک بار قدم جم جاتے ہیں یا کسی کا مقروض ہوجائیں تو پھر وہ اپنے قدم مزید پیوست کرتا چلا جاتا ہے۔اب چین اور ملائشیا کادورہ کر کے بھی وزیر اعظم عمران خان کو امدادی پیکج لینا ہے جس سے وہ اپنے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والے بیان پر پورا ضرور اتریں گے۔ پاکستان کو بہت سنبھل کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے یہ نہ ہو کہ جلد بازی ہمیں وقتی اعتبار سے تو مشکلات سے نکال دے لیکن آگے جا کر مزید مسائل میں دھنسا دے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *