چند روز پہلے ہائیر ایجوکیشن کمیشن پشاور کے ریجنل آفس کی جانب سے خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے درمیان مناظرے کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبے کی اکثر جامعات نے شرکت کی اور اس مقابلے میں حصہ لیا۔ یہ مناظرے ایچ ای سی کافی عرصے سے منعقد کروا رہا ہے، حالانکہ ایچ ای سی کا بنیادی کام پالیسی بنانا، تحقیق کی راہیں متعین کرنا اور تعلیمی معیار کی نگرانی ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد دراصل یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ ہماری جامعات اس پہلو کو مکمل طور پر نظرانداز کرتی ہیں۔ نہ اس مقصد کے لیے بجٹ مختص کیا جاتا ہے، نہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور نہ ہی اساتذہ کو اس جانب متوجہ کیا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آج کے طلبہ و طالبات مناظرے جیسے علمی اور فکری مقابلوں سے ناآشنا ہیں۔ ان کی اکثریت کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ڈیبیٹ کیا ہوتی ہے اور ڈیکلیمیشن کس چیز کا نام ہے۔ وہ کسی بھی تقریری مقابلے کو صرف جوشیلی تقریر سمجھ کر اسٹیج پر آتے ہیں، مائیک ہاتھ میں لیتے ہیں، زور زور سے بولتے ہیں، ڈائس بجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کامیاب تقریر کر لی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
یہاں ضروری ہے کہ ہم وضاحت کریں کہ ڈیبیٹ (مناظرہ) اور ڈیکلیمیشن میں بنیادی فرق کیا ہے۔
ڈیبیٹ یا مناظرہ ایک منطقی اور دلیل پر مبنی مکالمہ ہوتا ہے جس میں دو ٹیمیں کسی مخصوص موضوع پر ایک حق میں اور دوسری مخالفت میں اپنے دلائل پیش کرتی ہیں۔ اس میں وقت کی پابندی، زبان کی سلیقہ مندی، نکتہ فہمی، اور موضوع کی مکمل گرفت ضروری ہوتی ہے۔ مقصد صرف بولنا نہیں بلکہ سنجیدہ انداز میں قائل کرنا ہوتا ہے۔
دوسری طرف، ڈیکلیمیشن یا تقریر ایک فرد کی انفرادی کارکردگی ہوتی ہے جس میں وہ کسی طے شدہ موضوع پر خطاب کرتا ہے۔ یہ خطاب یا تو اس کی خود لکھی ہوئی تقریر ہو سکتی ہے یا کسی معروف شخصیت کی تقریر کا منتخب حصہ۔ اس میں جذبات، لب و لہجہ، آواز کا اتار چڑھاؤ اور سامعین کو متاثر کرنے کا فن اہم ہوتا ہے، مگر اس میں دلیل سے مکالمہ یا مخالفت کا کوئی پہلو شامل نہیں ہوتا۔
آج خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں جو کچھ ہوا، وہ دراصل “ڈیکلیمیشن” تھا، مگر اسے “ڈیبیٹ” یعنی مناظرہ کا نام دے دیا گیا۔ 28 جامعات کے طلبہ نے حصہ لیا، لیکن اکثریت کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ جس موضوع پر بات کرنے آئے ہیں، اس کے حق میں ہیں یا مخالفت میں۔ ہر ایک صرف اپنا نمبر بنانے کے چکر میں جوشیلے انداز میں بولتا رہا۔ موضوع سے ہٹ کر تقاریر ہوئیں، وقت کی پابندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دلیل کہیں نظر نہ آئی۔ اسٹیج پر جو مناظر تھے وہ جلسہ گاہ کے لگتے تھے، نہ کہ کسی علمی و سنجیدہ مقابلے کے۔
اور جب فیصلہ آیا تو وہ بھی حیران کن تھا۔ جن افراد نے وقت ضائع کیا، مقررہ حدود کو نظر انداز کیا، اور دلیل کی بجائے صرف آواز بلند کی، انہیں اگلے مرحلے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ ججز نے بھی جانبداری دکھائی اور کئی ٹیموں نے اس پر اعتراض کیا۔ میں خود بھی اس پر تحفظات رکھتا ہوں، کیونکہ بچوں نے محنت ضرور کی، مگر ان کی رہنمائی درست نہ تھی۔ وہ تقریریں کر رہے تھے، مکالمہ نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصلاح کی فوری ضرورت ہے۔ ایچ ای سی کو چاہیے کہ جب وہ ایسے مقابلے منعقد کرے تو اداروں کے ناموں کے بجائے ان کے کوڈ یا نمبرز سے نتائج کا اعلان کرے تاکہ کسی پر تعصب کا شبہ نہ رہے۔ ججز کو دوسرے صوبوں سے بلایا جائے تاکہ جان پہچان یا لوکل اثر سے آزاد فیصلے ہوں۔ اگر یہ سلسلہ پورے ملک میں رائج ہو تو شفافیت اور بہتری ممکن ہے۔
ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ طلبا اور طالبات کو غیر نصابی سرگرمیوں میں سنجیدگی سے شامل کیا جائے۔ ان کے لیے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس منعقد کروائی جائیں، انہیں بتایا جائے کہ مناظرہ اور ڈیکلیمیشن میں کیا فرق ہے، اور ان اساتذہ کو اس کام کا ذمہ دار بنایا جائے جو خود اس فن سے وابستہ رہے ہوں، نہ کہ صرف رسمی خانہ پری کرنے والے۔

طلبا اور طالبات کو چاہیے کہ وہ خود سے تقریریں لکھیں، سمجھیں، اور اس فن میں مہارت حاصل کریں۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، تب تک ہر سال یہی ہوتا رہے گا: ڈیکلیمیشن، مناظرے کے نام پر — اور ایچ ای سی اپنا “کام” کرتا رہے گا، صرف خانہ پری کی حد تک۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں