اپنی بنیادیں کھودتی ہوئی قوم۔۔۔۔ عمران حیدر

 گذشتہ دنوں گلستان جوہر کراچی میں پہاڑی تودہ جھگیوں پر گرنے سے14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تمام افراد جھگیوں میں رہنے والے خانہ بدوش تھے ۔ یہ اپنی نوعیت کا کراچی جیسے علاقے میں انوکھا واقعہ تھا کیونکہ سینکڑوں فٹ بڑا تودا گرنے سے پہلے کسی قسم کے زلزلے کو ریکارڈ نہیں کیا گیا ناہی کوئی دھماکہ سنا گیا ۔ پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر رہی ،بلآخر ماہرِ ارضیات کی خدمات لی گئیں تو ہوشربا انکشافات ہوئے جن کے مطابق تودا گرنے کی بنیادی وجہ ڈرِلنگ کے ذریعے زیرزمین ریت نکالنا تھا ،جس سے زمین کی اندرونی سطح سرک گئی اور پہاڑ 3 فٹ 7 انچ تک زمین میں دھنس گیا۔ جس کے نتیجے میں مٹی کے تودے پہاڑ سے سرک کر نیچے گرے ۔مزید تحقیقات کی گئیں تو اس زمین کے اردگرد پانچ ڈرلنگ پوائنٹ پکڑے گئے۔ وہاں مقیم خانہ بدوش ہی اس کام میں ملوث پائے گئے۔
اب آپ پنجاب کی طرف آجائیں جہاں لاہور، مریدکے، کامونکی، اور شیخوپورہ کے نواحی علاقوں میں یہ دھندا زور و شور سے جاری ہے اور روازنہ ہزاروں فٹ ریت زمین سے نکالی جارہی ہے ۔اس ریت کی خاصیت ہے کہ دریا کی ریت سے سستی، صاف اور اچھی کوالٹی کی ہوتی ہے۔ دوسرا ایک سائیٹ سے جتنی مرضی ریت نکال لیں کبھی ختم نہیں ہوتی اور ڈرلنگ کیلیے وسیع و عریض رقبہ ہونا بھی ضروری نہیں آپ ایک مرلے میں بھی یہ دھندا شروع کرسکتے ہیں ۔ اب ایک مرلے کی قیمت تو اوسطاً ایک لاکھ ہے مگر اس سے کئی لاکھ مالیت کی ریت نکالی جاسکتی ہے ۔کامونکی اور سادھوکی میں ایسے ڈرلنگ پوائنٹ کے خلاف انتظامیہ نے ایکشن لیا تو مالکان کی طرف سے سٹے لیکر دوبارہ کام شروع کردیا گیا۔ اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹرالیاں بھر کے مختلف شہروں میں بیچی جارہی ہیں۔ اب روز بروز اس دھندے میں اضافہ ہورہا ہے اور مفاد پرست عناصر ادھر متوجہ ہورہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ انتظامیہ اتنی بےبس کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں؟
اگر یہ سلسلہ مزید کچھ دیر چلتا رہا تو معمولی نوعیت کا زلزلہ بھی ان شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے ۔ جو لوگ اپنی بنیادوں کو کھوکھلا کررہے ہیں اور جو لوگ انکی پشت پر ہیں وہ تو غرق ہونگے ساتھ میں ہزاروں بےگناہ جانوں کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ہمارے حکمران جو اپنی ذات کیلیے تو فورا ًسے پہلے قانون پاس کروا لیتے ہیں اول تو اس دھندے سے بےخبر ہیں دوسرا اس بارے میں کوئی سخت قانون نہیں ہے اور باآسانی سٹے مل جاتا ہے جسکی میعاد ختم ہونے پر دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ابھی تک انتظامیہ کسی ایک ڈرلنگ پوائنٹ کو بند نہیں کروا سکی۔ کچھ دیہاتوں میں مقامی افراد طاقت کے زور پر ایک دو جگہ یہ دھندا رکوانے کی کوشش کرچکے ہیں مگر وہاں بھی خون خرابہ اور فائرنگ ہوگئی جس کے بعد وہ بھی حوالات کی سیر کرکے خاموش ہوگئے۔ میں سمجھتا ہوں حکومت کو اس معاملے میں ہنگامی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا اور فوراََ سے پہلے تمام سٹے ختم کرکے سخت ترین ایکشن لیا جائے ورنہ کسی بھی زلزے کی صورت میں بہت بڑے جانی نقصان کا خطرہ ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *