سماجی بیگانگی کا نادیدہ پہلو/ڈاکٹر مختیار ملغانی

آج امارت ایک بڑی سہولت ضرور ہے لیکن اس سہولت کے ساتھ کئی زمہ داریاں اور بے شمار خطرات بھی جڑے ہیں، سیکورٹی کے خدشات، انکم ٹیکس، فنانس پولیس اور بھتے والوں سے مسلسل بچنے کی کوشش ، ویلفیئر آرگنائزیشن کو راضی رکھنے کی سعی، پھر کیا پہننا ہے، کیا کھانا ہے، کہاں جانا ہے وغیرہ جیسے لوازمات نے آزادی جیسی نعمت اس امیر شخص سے چھین لی ہے، علاوہ ازیں چونکہ امارت کے ساتھ شہرت بھی تحفے میں ملتی ہے تو ہمہ وقتی سکینڈلز اور بدنامیوں سے بچنے کیلئے الفاظ کے چناؤ اور حرکات و سکنات میں بڑی احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ ایک دو صدی قبل امیر آدمی ان پریشانیوں سے مبرّا تھا ۔
دوسری طرف وہ بزرگ پینشنر(Pensioner ) ہے جو زیادہ سے زیادہ سال میں ایک آدھ عمرہ کرنے کی سکت رکھتا ہے، پھر پوتوں نواسوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، بظاہر یہ پینشنر اس امیر آدمی سے کہیں زیادہ آزاد ہے کہ اس کیلئے کوئی روک ٹوک، خطرات، لوازمات آڑے نہیں، لیکن اس پینشنر کا وقت بغیر کسی مقصد کے گزر رہا ہے، وہ ایک چلتی پھرتی لاش ہے کیونکہ سماج نے اسے ہر اہم زمہ داری اور فیصلے سے مستثنیٰ قرار دے رکھا ہے، ریاست اسے پیراسائیٹ سمجھتی ہے، خاندان والے اسے چڑچڑاہٹ کا مریض قرار دیتے ہیں، یہ لاش بس اپنی جسمانی تدفین کے انتظار میں ہے،
ان کے برعکس ایک بے روزگار نوجوان ہے جو پورا دن ایک تھڑے سے دوسرے تھڑے تک آتے جاتے گزارتا ہے، یہ نوجوان صحرا میں دھنسی کشتی کا کپتان ہے جو منتظر ہے کہ کبھی سمندر کا یہاں سے گزر ہوتو اس کی کشتی رواں ہو، پینشنر کی طرح یہ نوجوان بھی چلتی پھرتی لاش ہے ، بس اس فرق کے ساتھ کہ اس کے پاس وقت اور توانائی بے تحاشہ ہے، پینشنر اگر پانچ دس سال کا مہمان ہے تو نوجوان کے سامنے پہاڑ جیسی دہائیاں سر اٹھائے کھڑی ہیں، مقصد کی غیر موجودگی میں وقت کی یہ طوالت مایوسی اور اضطراب کو گہرا کرتی ہے، نتیجے میں منشیات ، جرائم حتی کہ خودکشی جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔

واقعہ یہ ہے کہ جدید سماج آج ہر شخص کو نچوڑ رہا ہے، ہر کوئی سماج کو کچھ نا کچھ دے رہا ہے، پھر لینے والا کون ہے؟ کون ہے جو اس سماج کا بینیفیشری ہے، پھل کون کھا رہا ہے؟
جدید سماج کے برعکس روایتی سماج کی ترتیب نسبتاً بہتر تھی ، اگرچہ بینیفیشری وہاں بھی وہی تھا جو جدید سماج میں ہے، لیکن جدید سماج کی ترتیب “مرزا غالب الٹے لٹکے سجدے میں اقبال ” والی ہے کہ ہر کوئی ” ہائے دل ہائے دل” پکارتا پھر رہا ہے، اسے مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر معاشرے کو انسانی ڈھانچہ تصور کر لیا جائے تو جدید و روایتی، دونوں ، معاشروں میں سر کا مقام تو وہی رہے گا یعنی بینیفیشری دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے، لیکن باقی ہڈیوں کی ترتیب الٹ پلٹ ہو جائے گی، کندھوں کی جگہ کوہلوں نے لے رکھی ہوگی اور چھاتی کی جگہ پہ سرین براجمان ہوں گے ۔

ان دو سماجوں کے علاوہ ایک اور شکل بھی ہے جسے قبائلی نظام کہا جاتا ہے ، قبائلی نظام کو اگرچہ سماج یا معاشرہ کہنا درست نہ ہوکہ سماج اپنی ساخت میں غیر مرئی چیز ہے ( سماج غیر مرئی ہے، اس پہ کبھی تفصیلی بات کریں گے)، سامنے کا سوال یہ ہے کہ قبیلہ کسی بھی سماج سے کیسے مختلف ہے؟
قبیلے کا سردار یا وڈیرہ وہ شخص ہے جو قبیلے کے فرد کی مادی ضروریات کا زمہ دار ہے، اور یہ وڈیرہ ہر فرد کی دسترس میں یے، اسی وڈیرے کے بغل میں سفید داڑھی والا ایک بزرگ بھی بیٹھا ہے، جس کی آنکھوں میں جلال ہے، چہرے پہ سنجیدگی ہے، ہونٹوں پہ ورد ہے، اسے صوفی، امام، پنڈت یا پادری کہا جا سکتا ہے، ایک لفظ میں روحانی پیشوا ، یہ روحانی پیشوا قبیلے کے فرد کی روحانی ضروریات کا ضامن ہے، یہ استخارے و وجدان کی مدد سے مستقبل میں آنے والی خوشحالی، جنگ یا قحط کی پیشین گوئی بھی کر سکتا ہے، سادہ الفاظ میں فرد کی مادی اور روحانی ضروریات کے سرچشمے اس کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، جن سے براہِ راست بات چیت ہو سکتی ہے، مشکل بتائی سمجھائی جا سکتی ہے، امید و حوصلہ ملتا ہے، فرد لمبی تان کے سو جاتا ہے۔ جبکہ جدید سماج میں وڈیرہ اور روحانی پیشوا فرد کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، صدر، وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ ، حتی کہ اپنے ایم این اے تک فرد کی رسائی ممکن نہیں ، مفتی اعظم ، امام کعبہ، پاپ یا گرو کو فرد کبھی کبھار ٹی وی کی سکرین پہ ہی دیکھ پاتا ہے، گویا کہ فرد کی مادی و روحانی ضروریات کے فیصلے بند کمروں میں اس سے پوچھے بغیر طے پاتے ہیں، یہیں سے فرد اور سماج کے درمیان بیگانگی اور اجنبیت جنم لیتی ہے، مقصد گم ہو جاتا ہے، بے چینی بڑھتی ہے، اضطراب عود کر آتا ہے، فرد کروٹ بدلتے رات گزار دیتا ہے۔

بیگانگی و اجنبیت کے پیچھے بنیادی وجہ انسان کا اپنے وقت پہ کنٹرول کا نہ ہونا ہے، سماج طے کرتا ہے کہ فرد کا وقت اور توانائی کہاں خرچ ہوں گے، اسی لئے فرد خود کو غلام محسوس کرتا ہے کہ اس کا اپنے ہی وقت اور اپنی ہی توانائی پہ اختیار نہیں، قبائلانہ طرز زندگی میں بزرگوں کو خاص اہمیت اسی لئے حاصل ہے کہ وہ وقت پر فتح پانے کے قریب ہوتے ہیں، عمر کے ساتھ ان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے کہ قبائل عموماً فرقۂ اجداد (ancestor cult) پہ کھڑا ہوتا ہے ، موت انہیں وقت پہ حاکم بناتی ہے، اور اسی حاکمیت کا ایک حصہ وہ اپنی اولاد میں چھوڑ کر جاتے ہیں، لیکن سماج کے اندر فرد کا اپنے وقت پہ قابو نہیں جو مسئلے کو گھمبیر بناتا ہے۔
نیطشے یہی کہتے گزر گئے کہ انسان کو اپنے وقت اور توانائی کا مالک بننے کی کوشش کرنا چاہئے، جو اس کوشش میں کامیاب ہوگیا اس کیلئے انہوں نے مافوق البشر کی اصطلاح استعمال کی ہے، وقت کو اپنی ملکیت میں لینا اصل میں اعلیٰ اقتدار کا مزہ چکھنا ہے، اور ایڈلر کے بقول اقتدار کی خواہش ہی انسان کے تمام افعال کا محرک ہے، ایڈلر شاید دنیوی اقتدار کی بات کر رہے ہوں، لیکن جس اقتدار کا نیطشے نے ذکر کیا ہے وہ اندرونی اقتدار ہے جس کا حصول آج جدید سماج میں نہایت مشکل ہو چکا ، نیطشے کا مافوق البشر گوئٹے ہیں، اب گوئٹے کو جاننا ہوتو انہوں نے اپنا پورے کا پورا عکس اپنے شہرہ آفاق کردار فاؤسٹ میں بیان کر دیا ہے، اپنی عقل و جزبات کو مکمل اپنے تابع کر لینا، تصوف کی زبان میں اپنے نفس کو زیر کر لینا ہی مافوق البشر بننے کی طرف پہلا قدم ہے جہاں سے تمام علوم کے چشمے پھوٹتے ہیں اور یہ وہ کیفیت ہے جو ابلیس کو دھتکارے جانے سے پہلے میسر تھی۔
واقعہ یہ ہے کہ آج بھی کچھ ایسے مافوق البشر قسم کے چنیدہ افراد موجود ہیں جو انسانوں کی ممکنہ تمام کیفیات کو بیک وقت اپنے اندر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، ان کا قرب دوسروں پہ جادوئی اثر رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہی وہ افراد ہیں جو اسی جدید سماج کی مدد سے انسانوں کا وقت اور توانائی چوری کرتے ہیں، انسانوں کو نڈھال کر دیتے ہیں، سماج ان کیلئے ایک انسٹرومنٹ کا کام کرتا ہے، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ سماج ہی ان کیلئے انسٹرومنٹ کا کام کرتا ہے، ایسے چنیدہ لوگوں کہ یہ صلاحیت اجتماعی لاشعور سے ان میں منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے، گویا کہ وہ برہمن قبیلے یا پھر کاہن ذات کے سرخیل ہیں، اور سماج کو بطور انسٹرومنٹ استعمال کرتے ہوئے انسانوں کا وقت اور ان کی توانائی چرانا ہی انہیں اس مافوق البشر کے مقام پہ پہنچاتا ہے اور یہ مقام کسی خاص مقصد کی طرف سنہری دروازہ ہے کہ سماج اپنی اصل میں ایک غیر مرئی مظہر ہے ۔ گویا کہ اگر فرد کو ایک کلو توانائی اور ایک ہزار لمحات اپنے لئے میسر تھے تو اس کاہن ذات نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے عام آدمی سے یہ توانائی اور وقت سماجی ڈھانچے کی مدد سے چرا لیا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply