گزرے وقتوں میں کیریئر کونسلنگ ایک بہت ہی مخصوص فن ہوا کرتا تھا جس میں مشاورت کے لئے براہ راست ملاقاتوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ یہ ملاقاتیں ہمیشہ ایک ہی منظر میں نظر آتی تھیں۔ ایک چھوٹا سا، آرام دہ کمرہ، ایک میز، چند کرسیاں اور ایک تجربہ کار کونسلر جو کئی گھنٹوں تک نوجوانوں کے خوابوں اور خواہشات کو سنتا تھا۔ وہ اپنی حکمت سے ان کی رہنمائی کرتا، ان کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور دلچسپیوں کا بغور جائزہ لے کر انہیں مشورہ دیا جاتاتھا۔ لیکن آج کے جدید دُور کا منظر کچھ اور ہی ہے۔ دُنیا تیزی سے بدل چکی ہے اور کیریئر کونسلنگ کا طریقہ کاربھی تبدیل ہو چکا ہے۔
روایتی طریقہ:
یہ درست ہے کہ کچھ دہائیاں پہلے، کیریئر کونسلنگ اتنی عام نہیں تھی۔ والدین، اساتذہ اور ماہرین وہ لوگ تھے جو نوجوانوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ اس وقت یہ عمل زیادہ تر انسانی ہمدردی کے احسا س پر مبنی تھا۔ طالب علموں کو مشاورت کے لیے کسی کونسلر یا کمیونٹی کے بزرگ افراد کے پاس بھیجا جاتا تھا، جہاں وہ اُمیدواروں سے ذاتی طور پر ملاقات کرتے تھے۔ اکثر کونسلرز کے پاس کتابیں یا نوٹس ہوتے تھے، مگر فوری معلومات تک رسائی کی سہولت نہیں تھی۔یہ وہ دور تھا جب والدین کا براہ راست اثر ہوتا تھا کہ ان کے بچے کون سا کیریئر اپنائیں گے۔ معاشرتی توقعات یا خاندان کی روایات کی بنیاد پر اکثر یہ فیصلہ کیا جاتا تھا کہ بچے ڈاکٹر بنیں، انجینئر ہوں یا کاروباری شخص بنیں۔ یہ کیریئر ”محفوظ“ اور ”معزز“ سمجھے جاتے تھے۔ جو طالب علم ان روایتی راستوں سے ہٹ کر کچھ مختلف کرنا چاہتے، انہیں اکثر مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔لیکن اس کے باوجود، کونسلنگ کا عمل گہری ذاتی بات چیت پر مبنی ہوتا تھا۔ کونسلر طالب علم کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو سمجھتے اور ان کی دلچسپیوں، صلاحیتوں اور جذبوں کی بنیاد پر مشورہ دیتے تھے۔
ڈیجیٹل تبدیلی:
آج کے دُور میں جب ہم اپنے ارگرد نظر یں دوڑاتے ہیں، تو ہر چیز بدل چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے کیریئر کونسلنگ کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ ڈیجیٹل دور نے بے شمار ٹولز، پلیٹ فارمز اور وسائل فراہم کیے ہیں جو ہمیں کیریئر کے انتخاب میں مدد دیتے ہیں، جن کا تصور ماضی میں ممکن ہی نہیں تھا۔آج کل طالب علم آن لائن کیریئرAptitude Test لے سکتے ہیں، ویڈیو کالز کے ذریعے کونسلرز سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ویبینارز اور ورکشاپس میں شرکت کرسکتے ہیں۔ اے آئی کی مدد سے پرسنلائزڈ مشورے دیے جاتے ہیں جو طالب علموں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔پرانے وقتوں میں جب کونسلر طالب علم سے ذاتی طور پر ملاقات کرتے اور ان کے رویے کا تجزیہ کرتے، آج بگ ڈیٹا اور اے آئی کی مدد سے بہت زیادہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جو ایک درست کیریئر کے راستے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ایک حیرت انگیز موڑ:
لیکن یہاں ایک حیرت انگیز بات ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں بھی، کیریئر کونسلنگ کا اصل مقصد وہی ہے۔ انسان کی صلاحیتوں اور خوابوں کو سمجھنا۔اگرچہ ٹیکنالوجی معلومات حاصل کرنے، ٹیسٹ دینے اور مواقع تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے، مگر وہ ذاتی تعلق نہیں بدل سکتی ہے۔
فرض کریں ایک نوجوان، علی، جو ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے دباؤ کا شکار ہے، وہ ایک آن لائن کیریئر کونسلنگ پلیٹ فارم سے رجوع کرتا ہے۔ وہ پلیٹ فارم مختلف کیریئر راستوں کی تجویز دیتا ہے، جن میں روایتی سے لے کر جدید شعبے جیسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ تک شامل ہیں۔ مگر جب علی ویڈیو کال پر ایک تجربہ کار کونسلر سے بات کرتا ہے، تو وہ اس کی حقیقی دلچسپیوں اور جذبات کو سمجھنے کے لئے سوالات کرتے ہیں۔
مثلاً،”آپ کو سب سے زیادہ خوشی کہاں ملتی ہے؟“
”کیا آپ مسائل حل کرنا پسند کرتے ہیں یا لوگوں کی مدد کرنا؟“
”آپ اپنے روزمرہ کے کاموں میں کس طرح کی زندگی کا تصور کرتے ہیں؟“
آخرکار، علی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حقیقی دلچسپی ڈاکٹر یا انجینئر بننے میں نہیں بلکہ روبوٹکس کے میدان میں ہے۔ جو انجینئرنگ اور لوگوں کی مدد کرنے کا بہترین امتزاج ہے۔ یہ فیصلہ صرف کسی ٹیسٹ کے نتیجے پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک گہری باہمی مکالمے اور تفاق رائے کے نتیجے میں ہوا تھا۔
روایتی اور جدید کا امتزاج:
کیریئر کونسلنگ کا مستقبل ان دونوں جہتوں کے امتزاج میں ہے۔ روایتی حکمت اور جدید ڈیجیٹل ٹولز۔ آج کل، طالب علم دونوں کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔ٹیکنالوجی سے معلومات حاصل کرنا اور تجربہ کار پیشہ ور افراد سے ذاتی طور پر مشاورت کرنا دونوں اہم ہیں۔
یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے کیریئر کونسلنگ کو زیادہ قابل رسائی بنا دیا ہے، مگر ذاتی رابطے کی اہمیت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ آخرکار، سب سے کامیاب کونسلرز وہ ہیں جو دونوں کا امتزاج کرتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انسانیت کی بے لوث رہنمائی اُن کی اصل کمال ہے۔
عملی اقدام:
جیسے جیسے ہم ڈیجیٹل دور میں آگے بڑھتے ہیں، کیریئر کونسلنگ کا طریقہ مزید بہتر ہوگا، مگر اس کا اصل مقصد ہمیشہ وہی رہے گا۔ انسان کی حقیقی صلاحیتوں کو سمجھنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ تو چاہے وہ ذاتی ملاقات ہو یا ویڈیو کال، کیریئر کونسلنگ کا مستقبل روشن ہے، جہاں موقعے اور ٹیکنالوجی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور جہاں انسانیت کا ہاتھ ہمیشہ طالب علم کے ساتھ ہوتا ہے۔معروف لیڈرشپ ایکسپرٹ جان سی میکسویل کا کہنا ہے۔”ایک مینٹور کے لئے ایک دوسرے لیڈر کو تیار کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اُسے دوسرے عظیم لوگوں سے متعارف کروا دیے۔“
مصنف، انجینئر سید شریف حیدر نقوی، پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئرMEP ہیں۔الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹرکی ڈگری ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ممالک میں کام،کیریئر کونسلنگ اور صنعتی تربیت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
Facebook Comments


ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے.ماضی سے حال تک کا سفر