بہت سی کتابوں کے تعارفی تبصرے لکھنے کا اتفاق ہوا ۔ اور بہت سی کتابوں پر ایسی تحریریں لکھنے کا اتفاق بھی ہوا جو صاحب کتاب اور قارئین کو بے حد پسند آئیں ۔ اور ان میں سے چند ایک ایسی کتب تھیں جن پر لکھتے ہوئے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی بلکہ دل کی گہرائیوں سے ایک ایک لفظ پڑھ کر لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ۔ وجہ شاید یہ تھی کہ وہ بہترین تعارفی تحریریں فلسفہ ، ادب اور نفسیات کے موضوعات پر لکھی گئیں ۔ جذب ہوکر مطالعہ کیا اور جذب ہوکر تحریر کیا۔
زیر نظر کتاب ایک ایسے موضوع پر ہے جس کے مضمون سے علمی طور پر میرا دور دور تک واسطہ نہیں ہے ۔ یعنی “فزکس”
لیکن عجیب اتفاق ہوا کہ اس مضمون پر ایک ایسی کتاب نظر سے گزری جس نے فزکس میں بیان کئے گئے بہت اہم موضوع “روشنی” کی طرح میری بصارت کو متاثر کیا اور حقیقت یہ ہے کہ غالباً کتاب پڑھنے سے پہلے اتنا گمان نہ تھا کہ یہ کتاب فزکس جیسے بہت مشکل اور خشک مضمون کے پیچیدہ اور ناقابل فہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اصل وجہ اس کتاب کی مجھ تک رسائی کی یہ تھی کہ اس کتاب کا عنوان ایسا تھا کہ ایک حیران کن کشش اس میں محسوس ہوئی ۔ کوئی بھی اس عنوان سے مسحور ہوسکتا ہے اور یہ جاننا چاہتا ہے کہ یہ کائنات جو ایک معمہ ہے حیرت کدہ کیوں ہے ۔
اس نام کی ہی کشش تھی کہ اس کتاب کو حاصل کیا جائے ۔ پبلشر سے رابطہ کیا لیکن کامیابی نہ ہوئی ۔ مصنف جن سے فیس بک کی مہربانی سے رابطہ ہے، آسان معلوم ہوا کہ ان کی مدد لی جائے ۔ صاحب کتاب نے بہت مہربانی سے یہ کتاب مجھے بھجوائی جس کو دیکھ کر مجھے ذاتی طور پر شرمندگی ہوئی کہ میں تو سائنس کی طالبعلم ہی نہیں ہوں یہ کیسے ہوگا کہ اس کا مطالعہ کر سکوں ، اس میں جذب ہو سکوں اور پھر اخلاقی طور پر علمی فریضہ سمجھ کر اس کا کچھ تعارف لکھ سکوں اور فزکس؟
جس کے علمی گورکھ دھندے کبھی سمجھ نہیں آتے ۔
اس کتاب کے تعارف سے پہلے صاحب کتاب بارے بتانا ضروری ہے ۔
ڈاکٹر محمد سہیل زبیری : جن کا شمار کوانٹم فزکس اور کوانٹم ٹیکنالوجی کے ممتاز سائنسدانوں میں ہوتا ہے پشاور ایڈورڈ کالج اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ 1974 میں امریکہ اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ ہوئے جہاں سے انہوں نے یونیورسٹی آف روچسٹر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ اور بعد ازاں واپس آ کر قائد اعظم یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کرکے وہاں شعبہ الیکٹرونکس کی بنیاد رکھی ۔
2004 میں انہوں نے ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ اس وقت طبیعات اور فلکیات کے شعبہ میں ممتاز پروفیسر ہیں ۔
بہت سے امتیازی اعزازات سے دنیا بھر کے اعلیٰ اداروں کی طرف سے نوازے گئے ہیں جن کی ایک طویل فہرست ہے ۔
ڈاکٹر زبیری کئی مشہور کتابوں کے مصنف ہیں ۔ کوانٹم آپٹکس پر ان کی لکھی گئی کتاب دنیا بھر کی کئی یونیورسٹیوں میں ٹیکسٹ بک کے طور پر پڑھائی جاتی ہے ۔ ان کی مزید چند کتابیں بھی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کے طلبا کے نصاب کا حصہ ہیں ۔
زیر نظر کتاب ” کائنات: ایک حیرت کدہ ” خوبصورت سرورق کے ساتھ جلوہ افروز ہے جسے سانجھ پبلیکیشن نے لاہور سے شائع کیا ہے۔ اس کی اشاعت اول 2024 میں ہوئی ۔
کتاب کا انتساب اپنی شریک حیات کے نام ہے ۔
پیش لفظ بہت سادہ اور مختصر ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ اس کتاب کے تمام مضامین ایک ویب سائٹ پر شائع ہو چکے ہیں۔ جن کی بے حد پذیرائی کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ اس علمی خزانے کو کتابی شکل میں مرتب کیا جائے ۔
ان کا یہ خیال ایک بہترین مقصد کو منظر عام پر لانے کا باعث بنا جو فزکس کے ابتدائی طالبعلموں کے لئے تو ایک عظیم الشان تحفہ ہے ۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کتاب انسانوں کی جستجو کی جبلت کی تسکین کا ذریعہ بننے کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یعنی اس کی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ طلب ِعلم کا شوق رکھنے والوں کی نفسیاتی ضرورت پوری کرنے کی بدرجۂ اتم خاصیت رکھتی ہے کیونکہ
تہذیب کی ابتدا ء سے انسان نے اس کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔کائنات کو سمجھنے کی کوشش ہزار سالوں تک پھیلی ہوئی ہے جس میں یہ کائنات پُر اسرار نظر آتی ہے اور کئی مظاہر مافوق الفطرت نظر آتے ہیں ۔
مصنف نے تقویمی انداز سے سمجھایا ہے کہ کس طرح درجہ بدرجہ ان مافوق الفطرت رازوں سے پردہ اٹھتا گیا اور قوانین فطرت کھلتے چلے گئے ۔
مصنف بتاتے ہیں کہ سولہویں صدی میں سائنسی انقلاب نے ان پردوں کو اٹھانے کا آغاز کیا ۔ پھر کس طرح انیسویں صدی میں قوانین کو مزید سمجھنے کی ضرورت کو سامنے رکھا گیا ۔ اور یہ کہ کس طرح یہ قوانین اصولی طور پر زمین اور کائنات میں ہونے والے تمام واقعات کی وضاحت کرسکتے ہیں ۔
بعد ازاں پُر اسراریت کے وجود نے انسانی ذہن کو جھنجھوڑا کہ ابھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔
مصنف نے بہت سادہ اور قابل فہم انداز میں سمجھایا کہ بیسویں صدی کے آغاز میں دو انقلابات رونما ہوئے جنہوں نے کائنات کے بارے میں تصورات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ جس کائنات کو ہم بہت اچھی طرح سمجھنے لگے تھے اور جو ہماری سوچوں سے ہم آہنگ تھی معلوم ہوا کہ وہ تو ایسے قوانین کے تحت کام کر رہی ہے جو بہت پُراسرار اور اکثر اوقات ناقابل فہم ہیں اور جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے وہ نہیں ہے یعنی جگہ ، وقت، مادے اور حقیقت کے بارے میں سائنسی تصورات بہت مختلف ہیں جیسے ہم کو نظر آتے ہیں ۔
اس کتاب کے بارے میں مصنف خود وضاحت کرتے ہیں کہ اس کتاب کا مقصد ریاضی سے نا بلد لوگوں کو ان سمجھ میں نہ آنے والے قوانین کو عام فہم زبان میں ان لوگوں تک پہنچانا ہے جو کائنات کے اسرار کو جاننے میں دلچسپی تو رکھتے ہیں لیکن سائنس اور ریاضی کے مضامین پر دسترس نہیں رکھتے اور تشنہ رہ جاتے ہیں ۔
مصنف کے اس بیان کو میں نے ذاتی طور پر درست پایا اور مطالعے کو بے حد مفید پایا ۔
یہ کتاب بہت سائنسی انداز میں مرتب کی گئی ہے ۔ کل 30 ابواب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جس کی درجہ بندی کچھ یوں ہے ۔
1۔ پراسرار قوانین ( 1 تا 6 ابواب)
2۔ کوانٹم مکینکس کے اسرار (7 تا 15 ابواب)
3 ۔ کوانٹم ٹیکنالوجی ( 16 تا 18 ابواب)
4 ۔ نظریہ اضافیت ( 19 تا 24 ابواب)
5 ۔ کاسمولوجی ( 25 تا 30 ابواب)
اس کتاب کے آخر میں ببلیوگرافی بھی درج ہے ۔
اس کتاب کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ اس کے مطالعے کے بعد وہ لوگ جو سائنس اور خاص طور پر فزکس جیسے بہت مشکل اور خشک مضمون میں مشکل ہونے کی وجہ سے دلچسپی نہیں لیتے وہ بھی اس کو پڑھنے کے لئے رواں ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ اس مشکل مضمون کو ڈاکٹر زبیری نے بہت آسان فہم زبان اور انداز میں بیان کیا ہے ۔ یہی ایک عالم کی عظمت کی علامت ہے کہ وہ فراخ دلی سے اپنے علم کو قلم کے ذریعہ عام انسانوں تک پہنچانے کا جذبہ رکھتا ہو ۔
مصنف ڈاکٹر زبیری نے اردو زبان میں فزکس جیسے مضمون کو آسان فہم بنا کر ہر خاص و عام اور فزکس کے تمام طالبعلموں پر احسان کیا ہے ۔ اور اسی لئے میں اس تعارفی تحریر کی وساطت سے اس کتاب کو پاکستان کے ہائی سکولوں ، او لیول اور کالج کے طلبا کے نصاب میں شامل کرنے کی پُر زور سفارش کرتی ہوں ۔
یہ کتاب سانجھ پبلیکیشن لاہور سے اس نمبر پر رابطہ کرکے حاصل کی جا سکتی ہے :
92 333 4051 741
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں