کیا افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں؟-عمیر فاروق

جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یوکرائن وار کے جھگڑے سے نمٹنے کے بعد ہی امریکہ ایف پاک ریجن کا رخ کرے گا اور تبھی یہاں امریکی سفیر بھی تعینات ہوگا اور پاکستان کے بارے میں امریکی نئی پالیسی بھی سامنے آئے گی۔ تب تک سب کچھ ہولڈ پہ ہے۔
تب کیا صورت حال درپیش ہوسکتی ہے، کیا چیلنجز ہونگے اور سیاست کیا رخ اختیار کرے گی اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی معاملات کو سمجھا جائے۔ یہاں تینوں بڑی طاقتوں کا اصل تنازع  وسطی ایشیا اور ایف پاک کے untapped غیر استفادہ شدہ معدنی ذخائر اور ٹریڈ روٹس کے معاملات ہیں۔

ٹرمپ کے پچھلے دور میں امریکہ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ان تنازعات کا    حل جنگ بالکل  نہیں اور نہ ہی امریکہ اس خطے پہ اجارہ داری حاصل کر سکتا ہے اور یہ معاملات مل بیٹھ کر تینوں طاقتیں مذاکرات سے ہی حل کر سکتی ہیں۔ اور سب کو یکساں مواقع حاصل ہونا چاہئیں۔

تب ٹرمپ حکومت میں نہ رہا اور کچھ تبدیلیاں ہوئیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ ٹرمپ کا یہ نکتہ نظر کہ روس برابر کی ایک عالمی طاقت ہے اور اس کو اسی حیثیت سے ڈیل کرنا چاہیے ، پہ برطانیہ ، اس کے یورپی روس مخالف حمایتی اور تب کی امریکی اسٹیبلشمنٹ راضی نہ تھی۔ ان کو خوف تھا کہ روس کو عالمی طاقت تسلیم کرنے کے نتیجہ میں اسکا یورپ پہ اثررسوخ بہت بڑھ جائے گا جسے وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔

سو یوکرائن وار کا ڈول ڈالا گیا جس کا مقصد روس کو معاشی طور پہ کمزور کرکے کٹ ٹو سائز کرنا تھا۔ لیکن یہ کھیل الٹ گیا  اور الٹا یورپ اور مغرب معاشی نقصان سے دوچار ہوا۔ اب ٹرمپ کی نظر میں روس کو برابر کی عالمی طاقت مان کر ڈیل کرنے کے سوا چارہ نہیں اور یہی برطانیہ اور اس کے ہم خیال یورپی ممالک کی امریکہ سے مایوسی کی وجہ ہے۔

دوسرا فرق خود پاکستان کے اندر پڑا ، ٹرمپ دور میں جب دوحہ مذاکرات کا عمل شروع ہوا تو تب کی پاکستانی سول اور فوجی قیادت ٹرمپ کے ساتھ متفق اور دوحہ امن مذاکرات کی حامی تھی۔ لیکن ٹرمپ کے بعد جب بائیڈن کے دور میں یوکرائن وار کا آغاز ہوا تو ہماری فوجی قیادت کا نکتہ نظر بدل گیا اور وہ اس جنگ میں برطانیہ اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ جا کھڑی ہوئی اور روس مخالف پوزیشن لے لی۔ چونکہ تب کی سول قیادت یعنی عمران حکومت روس مخالفت پہ تیار نہ تھی تو اس پاداش میں اسے حکومت سے نکال کر ملک دشمن قرار دے دیا گیا اور فوجی ملک کے اندر پی ٹی آئی سے جنگ میں مصروف ہوگئی جو ابھی بھی جاری ہے۔

سو اب جب وسطی ایشیا اور ایف پاک معاملہ دوبارہ ٹیبل پہ ہوگا تو ہمیں پہلے طاقتوں کے رخ اور رجحان کا اندازہ ہونا چاہیے۔ امریکہ ، یوکرائن میں جتنا پرو رشیا نظر آیا یہاں اس سے زیادہ نظر آئے گا اتنا زیادہ کہ چین کو شک پڑ گیا ہے کہ کہیں اسکے روس سے اتحاد کو ہی فرق نہ پڑ جائے۔ لیکن بہرحال ابھی تک روس اور چین اتحادی ہی ہیں اور انکے اتحاد پہ فرق پڑتا نظر نہیں آتا۔

البتہ نئی پاکستانی فوجی اور سول قیادت کا معاملہ الجھ چکا ہے۔ وہ یوکرائن وار سے برطانیہ اور پرانی امریکی ڈیپ سٹیٹ کے ساتھ روس مخالف اتحاد کا حصہ بن چکے تھے جہاں اب صرف برطانیہ ہی رہ گیا ہے۔ وہ برطانیہ کے اتحادی ہیں جبکہ ٹرمپ اور برطانیہ کی آپس میں نہیں بن رہی تو دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی اور سول قیادت برطانیہ کے ساتھ ہی رہتی ہے یا یو ٹرن لے جاتی ہے؟ اور اگر یو ٹرن لیتی بھی ہے تو کیسے؟ کیونکہ بہت سے نئے ایشوز اب موجود ہیں جو پہلے نہ تھے۔

اگلا سوال ٹریڈ روٹس بمعہ سی پیک اور ممکنہ نئے روٹس کے بارے میں تینوں بڑی طاقتوں کے مابین تنازعات کا ہے ، آیا یہ امن اور مذاکرات سے طے ہونگے یا جنگوں سے ؟ تو اس کا ممکنہ جواب یہی ہے کہ مذاکرات ہی واحد حل ہونگے ، برسبیل تذکرہ چین پہلے ہی احتیاطاً جتلا چکا ہے کہ ٹیرف، ٹریڈ اور ہر معاملہ پہ وہ کسی بھی جنگ کے لئے تیار ہے تو ٹرمپ جو جنگوں کے پہلے ہی خلاف ہے ، کیوں جنگ کی طرف جائے گا ؟

اس سے اگلا اور مشکل ترین سوال ہے ایف پاک ریجن میں موجود دہشت گردی کا جو دراصل مختلف پلیئرز کی پراکسیز ہیں، جن میں ٹی ٹی پی اور ISPK قابل ذکر ہیں۔ ان سے کس طرح نمٹا جائے ؟ نیز افغان تالبان سے بھی ، اس میں پاک فوج کا موقف دلچسپ ترین اور عجیب و غریب ترین ہوگا اور یہی دیکھنے والی بات ہوگی کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے ؟

باجوہ ڈاکٹرائن کے بعد سے فوج ایک سٹریٹیجک مخمصے کی شکار ہے۔ اس سے قبل فوج کا روایتی موقف یہ تھا کہ اس کا اصل حریف انڈیا ہے اور اس کی موجودگی میں وہ کسی نئے دشمن مثلاً افغان تالبان سے لڑائی کی متحمل نہیں ہوسکتی لہذا ان سے مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کئے جانا ہیں۔ باجوہ دور سے نئی فوجی ڈاکٹرائن یہ ہے کہ پاک فوج کسی بھی ریگولر آرمی سے جنگ کی سکت نہیں رکھتی اور اس کی جنگ کی صلاحیت کسی ملیشیا تک محدود ہے۔ سو اب انڈیا سے لڑائی خارج از امکان ہے البتہ اس کا نیا دشمن افغانستان یا افغان تالبان ہیں۔

اسی طرح علاقے میں موجود دہشت گرد گروہوں ؟ ٹی ٹی پی یا ISPK کے بارے میں اس کا موقف تھا کہ انکی پشت پناہی انڈیا کرتا ہے۔ اب فوج ان پہ غیر ملکی پشت پناہی کا الزام تو لگاتی ہے لیکن یہ وضاحت کرنے سے قاصر ہے کہ کونسا ملک انکی سرپرستی کررہا ہے ؟ جبکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی اتنی بڑھ چکی ہے کہ عالمی رینکنگ میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔

فوج کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جرنیلوں کو مذاکرات کی بجائے جنگی حل سے دلچسپی ہے جبکہ تینوں بڑی طاقتوں کا اس طرف رجحان نہیں وہ مذاکرات کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ فوج کا اتحاد اس وقت عالمی سطح پہ برطانیہ کے ساتھ ہے جو جنگی حل پسند کرتا ہے۔ یہ امر جنرل عاصم کے دورہ برطانیہ سے بھی نظر آتا ہے۔

اسی طرح ٹی ٹی پی کے بارے میں متبادل تھیوری جو مغرب میں ہمیشہ مقبول رہی، یہ تھی کہ فوج ہی ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرتی ہے ، فوج کے لئے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اب پاکستانی عوام بھی اس کی قائل ہوتی جارہی ہے خصوصاً رجیم چینج کے بعد ٹی ٹی پی کی پاکستان واپسی کی فوج کے پاس کوئی توجیح موجود نہین۔

جرنیلوں کا مسئلہ یہ ہے کہ مذاکراتی حل کی صورت میں انکی اہمیت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ اب انکے افغان تالبان سے تعلقات کشیدہ ہیں تو وہ کوئی رول ادا نہیں کر سکتے۔ جبکہ خطے میں مذاکراتی عمل کے لیے وہ نہ صرف تینوں بڑی طاقتوں کا اعتماد کھو چکی ہے بلکہ خطے کے عوام بھی فوج پہ اعتبار کرنے کو تیار نہیں تو اس صورت میں وہ مذاکراتی عمل میں کوئی رول کیسے ادا کر سکتی ہے ؟

لیکن فوج کا سب سے بڑا چیلنج اور سردردی عمران خان ہے۔ عمران کا موقف تسلسل کے ساتھ درست ثابت ہوا۔ اسکا ماننا تھا کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں مذاکرات ہی حل ہیں، اس پہ تینوں بڑی طاقتیں بالآخر متفق ہوچکی ہیں اور خطے کے عوام بھی، اسی طرح عمران کا موقف کہ پاکستان ان تینوں طاقتوں کی لڑائی میں غیر جانبدار رہے، درست ثابت ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ تینوں طاقتیں اب جنگ کی بجائے مذاکرات کی طرف جاتی لگ رہی ہیں جبکہ پاک فوج اس میں روس کے خلاف اور برطانیہ کی سائڈ پہ پوزیشن لے کر غیر جانبداری سے ہٹ بھی چکی ہے اور جنگ ہاری بھی جا چکی ہے۔ لیکن ملک کے اندر فوج عمران سے جنگ میں مصروف ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ فوج اور جرنیل بدستور برطانیہ کے ساتھ چلتے ہوئے کوئی نئی جنگ چھیڑتے ہیں یا پرامن مذاکرات کو اپنا راستہ بنانے دیتے ہیں ؟ اور پرامن مذاکرات کی صورت میں اپنا غیر اہم ہوجانا کس طرح قبول کرتے ہیں ؟ یا فوج کی طرف سے کوئی نئی ڈاکٹرائن سامنے آتی ہے ؟

Facebook Comments

عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply