رمضان: اطاعت یا انحراف؟ -کامریڈ فاروق بلوچ

دنیا ہمیشہ سے دو متضاد اصولوں پر چلتی آئی ہے—حاکم اور محکوم، غالب اور مغلوب، مالک اور مزدور۔ ہر تہذیب میں عبادات کی رسمیں رہی ہیں، اور ہر معیشت نے ان عبادات کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ رمضان کی حقیقت بھی اسی جدلیات کا حصہ ہے۔ ماہِ مبارک سے ہمیں مساوات، ضبطِ نفس اور قربانی کا درس لینا چاہیے، لیکن سرمایہ داری کی بے رحم منڈی میں نفع بخش موقع بن چکا ہے۔

عبادت یا استحصال؟

عجیب تضاد ہے! جو مہینہ فاقے کی آزمائش سکھانے آیا تھا، وہی اب شاہی دسترخوانوں کی زینت ہے۔ جس عبادت کا مقصد بھوک کو سمجھنا تھا، وہی امیروں کے لیے نائٹ مارکیٹوں اور مہنگے افطار ڈنرز کا بہانہ بن گئی ہے۔ غربت، جسے یہ مہینہ ختم کرنے آیا تھا، وہی اس میں سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ رمضان میں روزے کی تلقین ہے، مگر اس تلقین کا دائرہ صرف فرد تک محدود رکھا گیا ہے۔ سماج کے بنیادی ڈھانچے پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاتا، کیونکہ اگر کیا جائے تو وہ سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جوابات دینا حکمرانوں کے بس میں نہیں۔

ریاست روزے کے حکم کو قانون کا حصہ بنا سکتی ہے، مگر کیا ریاست خود بھی روزہ رکھتی ہے؟ کیا ریاست اپنے اخراجات میں سادگی اپناتی ہے؟ کیا اقتدار کے ایوانوں میں بھی افطار کے وقت وہی سادگی ہوتی ہے جو ایک مزدور کے گھر میں ہوتی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عبادت صرف کمزور پر لازم کیوں کی جاتی ہے؟ طاقتور پر اس کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ روزے کی سختی محض مزدور، کسان، ریڑھی بان، اور فیکٹری ورکرز کے لیے کیوں ہے؟

سرمایہ داری کا رمضان

سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک اصول ہے: نفع کسی ایک کی جیب میں، نقصان سب پر تقسیم۔ رمضان اس اصول کا بہترین مظہر ہے۔ رمضان میں منافعے کی شرح بڑھ جاتی ہے، قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں، اور سب سے زیادہ نقصان وہ اٹھاتا ہے جو پہلے ہی خسارے میں ہے—یعنی محنت کش۔ بازاروں میں مذہب کا کاروبار ہوتا ہے، مگر عبادت کے ثمرات صرف چند ہاتھوں تک محدود رہتے ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی ترتیب ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ کیا ہم محض خیرات اور صدقے کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! خیرات مسئلے کا علاج نہیں، بلکہ اس نظام کی بقا کا ذریعہ ہے۔ اگر دولت کی غیر مساوی تقسیم کو جواز دینا ہو تو سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ امیروں کو خیرات دینے پر قائل کر لیا جائے اور غریبوں کو صبر پر۔ رمضان اسی چکر کا ایک حصہ بن چکا ہے۔

روزہ: عبادت یا سماجی دباؤ؟

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ بھوک صرف انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی سوال ہے۔ مزدور اگر بارہ گھنٹے کی مشقت کے بعد بھی افطاری کا انتظام نہیں کر سکتا، تو یہ اس کی ذاتی نالائقی نہیں، بلکہ اس نظام کی نااہلی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں عید کی خوشیاں سب کے لیے یکساں نہیں، تو یہ اس کے باسیوں کا نہیں، بلکہ اس کے معماروں کا قصور ہے۔

یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا ہم روزہ اس لیے رکھتے ہیں کہ ہم خدا کے حکم کے تابع ہیں، یا اس لیے کہ ہمیں سماجی دباؤ مجبور کرتا ہے؟ اگر روزہ ایک آزادانہ عبادت ہے، تو پھر ریاست یا معاشرہ اسے جبر کے ساتھ نافذ کرنے کا اختیار کیسے رکھتا ہے؟ اگر کوئی روزہ نہ رکھے، تو کیا یہ صرف اس کا اور اس کے خدا کا معاملہ نہیں؟ مگر یہاں تو روزہ ایک اجتماعی عذاب بنا دیا گیا ہے—ایک ایسا عذاب جس میں کمزور کو توڑ کر رکھ دیا جاتا ہے، اور طاقتور اپنی من مانی کرتا رہتا ہے۔

متبادل کیا ہے؟

یہ مسئلہ صرف رمضان تک محدود نہیں۔ یہ پورے سماجی ڈھانچے کا عکاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح کے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں؟ وہ جس میں چند لوگ مذہب کے نام پر استحصال کرتے رہیں، یا وہ جس میں مذہب محض افراد کے ضمیر تک محدود ہو، اور معیشت ایک منصفانہ اصول پر استوار ہو؟

رمضان کی اصل برکت یہ نہیں کہ چند لوگ محنت کشوں کے لیے دسترخوان بچھائیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں کسی کو دسترخوان بچھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جہاں ہر فرد کو اتنا ملے کہ وہ اپنا رزق خود پیدا کر سکے، اور جہاں کسی کو خیرات نہ مانگنی پڑے۔

julia rana solicitors

یہ وہ رمضان ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو اس مہینے کا تقاضا ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا ہوگا، اگر واقعی ہم اس مہینے کو اس کی اصل روح کے ساتھ منانا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply