• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • غبار حیرانی” اور ” شمس الرحمٰن فاروقی کا تصور جدید غزل(1)-جاوید رسول

غبار حیرانی” اور ” شمس الرحمٰن فاروقی کا تصور جدید غزل(1)-جاوید رسول

احمد محفوظ کے اس غزلیہ مجموعے پر جدید ہونے کا حکم یوں بھی تو لگایا جاسکتا تھا کہ اس میں سے بیشتر غزلیں “شب خون” میں چھپی ہیں، یا کسی طرح فاروقی صاحب کی نظر سے گزری ہیں۔لیکن یہ کوئی  تنقیدی جواز نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت محض مفروضے کی ہوتی ہے۔ظاہر ہے جب ہم کسی غزل کو تنقیدی نقطہء  نظر سے دیکھتے ہوں اور ہمارا دعوی ہو کہ یہ جدید یا ترقی پسند ہے تو یہ لازمی بنتا ہے کہ ہم اس میں موجود ان عناصر کی نشاندہی کریں جن سے ہمارے دعوے کی تائید ہوتی ہو۔اسی استدلالی ضرورت کے پیش نظر میں نے یہ مناسب سمجھا کہ “غبار حیرانی” کی غزلوں کا تجزیہ فاروقی صاحب کے تصور جدید غزل کے آئینے میں کیا جائے۔گو کہ فاروقی صاحب نے جدید غزل کے حوالے سے کوئی مربوط یا منظم بحث نہیں کی ہے لیکن انہوں نے مختلف مضامین میں اس حوالے سے چند بنیادی معروضات ضرور پیش کیے ہیں۔ان معروضات کے ذریعے ہم کافی حد تک فاروقی صاحب کے تصور جدید غزل کو سمجھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر نیچے ان کے چند بیانات ہیں جن کے ذریعے ہم سب سے پہلے ان کے تصور جدید غزل کو سمجھتے ہیں اور پھر اسی تصور کے تحت “غبار حیرانی” کی غزلوں کا تجزیہ کرتے ہیں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ غزلیں جدید غزل کے دائرے میں آتی ہیں کہ نہیں۔پہلے فاروقی صاحب کے تصور جدید غزل کو جاننے کے لیے یہ تین اہم ترین بیانات دیکھ لیجیے؛
بیان اول:
جدیدیت نے اپنا جواز زیادہ تر غالب کے یہاں سے حاصل کیا یا پھر مغربی غیر افلاطونی نظریات ادب سے، جن میں علامت پرستی اور رومانیت سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ (1)
بیان دوم:
جدیدیت پسند نظم میں تجربہ اور اظہار کی آزادی پر زور سب سے زیادہ تھا۔لہذا کلاسیکی تصورات شعر اس کی فوری ضرورت نہ تھے۔(2)
بیان سوم:
ہماری کلاسیکی غزل کی شعریات میں کوئی  چیز ایسی نہیں ہے جسے غزل کے لیے آج بھی (یعنی دور فاروقی میں) استعمال نہ کیا جاسکتا ہو۔لہذا یہ بالکل ممکن ہے کہ غزل جدید بھی ہو اور کلاسیکی اصولوں کی پابندی بھی کرے۔یہ اس وجہ سے کہ جدید غزل کی بنیادی صفت مضمون آفرینی ہے اور مضمون آفرینی کے لیے کلاسیکی غزل کی روایتی لفظیات کی پابندی ضروری نہیں۔(3)
اب آخری بیان کو چھوڑ کر فی الحال پورا فوکس پہلے دو بیانیات پر کیجیے۔خیال رہے بیان اول میں جدیدیت سے فاروقی صاحب کی مراد جدید شاعری(بشمول جدید غزل) ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جدید شاعری نے اپنا جواز زیادہ تر غالب سے حاصل کیا ہے یا پھر مغربی غیر افلاطونی نظریات ادب سے، جن میں علامت پرستی اور رومانیت سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔یہاں “غیر افلاطونی نظریات جیسے رومانیت اور علامتیت” سے اتنا تو سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ فرائڈ کے “جنگل” یعنی لاشعور کی بات ہورہی ہے جو واقعتاً جدید نظم اور غزل دونوں میں ملتا ہے لیکن یہ سمجھنا ذرا مشکل ہورہا ہے کہ غالب سے جواز جدید نظم اور غزل دونوں نے حاصل کیا یا صرف غزل نے؟ اس سوال کا جواب فاروقی صاحب دوسرے بیان میں دیتے ہیں۔وہ جب کلاسیکی شعریات کو نظم کے لیے غیر ضروری قرار دیتے ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ غالب سے جواز صرف جدید غزل نے حاصل کیا ہے۔معلوم نہیں فاروقی صاحب نے صرف غالب کا ہی نام کیوں لیا جبکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ جدید غزل نے صرف غالب سے ہی نہیں بلکہ میر سے بھی جواز حاصل کیا ہے۔بہرحال! اس نکتے کی وضاحت سے بڑھ کر فی الحال یہ جاننا بہت اہم ہے کہ نظم کے لیے کلاسیکی شعریات غیر ضروری کیوں تھی؟ یعنی میر و غالب نظم کے لیے Irrelevant کیوں تھے؟ فاروقی صاحب کے نزدیک اس کی وجہ نظم میں ” تجربے اور اظہار کی آزادی” ہے جو کہ غزل میں ممکن نہیں۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ غزل میں نظم کی طرح ہیتی تجربوں کی آزادی نہیں تھی لیکن ساختیاتی سطح کے دوسرے تجربوں علی الخصوص اظہار کی آزادی تو تھی۔خود جدید غزل سامنے کی مثال ہے، پھر یہ جھول کیوں؟ فاروقی صاحب کے یہاں تضادات کا سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا۔ایک طرف وہ غزل میں تجربے اور اظہار کی آزادی کے کم بلکہ نہ ہونے کی بات کررہے ہیں اور دوسری طرف کہیں نہ کہیں غزل کی آزادئی  اظہار ہی کی بات کررہے ہیں۔اگر غزل کلاسیکی اصول کی پابند ہوکر بھی “جدید” ہوسکتی ہے تو خدارا ہمیں یہ بتائیے کہ پھر نظم میں آزادئی  اظہار کی ایسی کون سی صورت تھی جو غزل کے موافق نہ تھی؟صاحب ہم جانتے ہیں کہ جدید نظم نے عموماً ہر طرح کے مضامین برتے ہیں لیکن روایتی کینن کو توڑ کر ذرا جدید غزل کی طرف بھی دیکھیے، کیا یہ موضوعاتی سطح پر جدید نظم کے قریب نہیں؟ ہمارے نقادوں نے تو جدید نظم پر یہ کہہ کر تنقید کی تھی کہ اس کا لب و لہجہ جدید غزل کے قریب تر ہے۔ پھر یہ غزل میں تجربہ اور اظہار کی آزادی نہ ہونے کا جھول کیوں پیدا کیا گیا؟ دراصل بات اظہار کی نہیں بلکہ صرف تجربے کی ہے اور وہ بھی ہیتی تجربوں کی، جو نظم میں تو ہوسکے لیکن غزل کی زمین ان کے لیے کبھی ہموار نہ تھی۔وجہ غزل کا غیر مغربی ہونا ہے۔اتنا تو ہم سب جانتے ہیں کہ نظم میں ہیت، تکنیک اور موضوع کی سطح پر جتنے بھی تجربے ہوئے سبھی مغربی طرز کے تھے اور چونکہ غزل کے برعکس نظم کی ماہیت مغربی تھی اس لیے نظم کے مزاج نے یہ تمام تر تجربے فوراً قبول بھی کیے۔مگر غزل کا معاملہ کافی حد تک مختلف تھا۔اس کی ہیت مغرب کی شعری ہیتوں کے بالکل برعکس تھی، پھر یہ ہمارے ثقافتی شعور میں اس قدر رچ بس چکی تھی کہ اس میں کسی بھی قسم کی ہیتی تبدیلی تقریباً ناممکن تھی۔ حتی کہ جدیدوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس میں بھی تشکیلی عمل کے تحت مغربی طرز کے تجربے کیے مثلاً؛ اینٹی غزل یا آزاد غزل وغیرہ۔ لیکن یہ سبھی تجربے ناکام رہے اور یہ بات بالکل واضح ہوئی  کہ غزل اپنی مطلق ہیت (Absolute Form) یعنی اپنے کلاسیکی اصولوں کے ساتھ کوئی  سمجھوتہ نہیں کرے گی۔اب جدیدیوں کے لیے مشکل یہ پیدا ہوئی  کہ ایسا کیا کیا جائے کہ غزل کلاسیکی اصولوں کی پابندی بھی کرے اور جدید بھی کہلائے۔ اس کے لیے انہیں یہ بات سوجھی کہ ادھر نظم میں جو علامتیت ،امیجزم اور نیا ڈکشن نظم جدید کے حوالے بن چکے تھے انہیں کسی طرح سے غزل میں بھی لایا جائے تاکہ اس کے بھی جدید ہونے کا جواز مل جائے۔دیکھا جائے تو یہیں سے فاروقی صاحب کے تصور جدید غزل کو اہمیت ملنا شروع ہوئی  اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ تصور تھیوری کی صورت میں جدید شعرا کی ایسی ذہنی تربیت/ Conditioning کرتا رہا کہ آگے چل کر انہوں نے غزل کی ایک نئی  شعریات ترتیب دی.اب فاروقی صاحب کا تصور جدید غزل (یعنی تھیوری) کیا تھا یہ جاننے کے لیے ان کے تیسرے بیان کی طرف آئیے، وہ کہتے ہیں؛ چونکہ جدید غزل کی بنیادی صفت مضمون آفرینی ہے، اس لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ غزل جدید بھی ہو اور کلاسیکی اصولوں کی پابندی بھی کرے۔ لیکن آگے کہتے ہیں؛ “اور مضمون آفرینی کے لیے کلاسیکی غزل کی روایتی لفظیات کی پابندی ضروری نہیں”___ میرے جیسا عام قاری کیا آج کی تاریخ میں کئی جامعاتی پروفیسر بھی اس بیان کو نہ سمجھ پائیں گے۔لیکن ہم اسے سمجھنے کی کوشش ضرور کریں گے۔غور کیجیے تو مذکورہ بیان کی ابتداء میں فاروقی صاحب مضمون آفرینی کو جدید غزل کی بنیادی صفت بتاتے ہیں۔سیدھے لفظوں میں کہا جائے تو کوئی  نیا مضمون پیدا کرنا یا کسی پرانے مضمون کو نئے انداز میں پیش کرنا مضمون آفرینی کی دو بنیادی صورتیں ہیں۔ظاہر ہے یہ کلاسیکی شعریات کی دین ہے اور بقول فاروقی؛ خیال بندی یا مضامین خیالی کوپرانے زمانے میں عام طور پر “مضمون آفرینی” کی ہی ضمن میں رکھتے تھے اور ایسے خیالات کو، جن کی بنیاد تجرید اور غیر عملی تصورات پر ہوتی تھی،نازک اور پیچیدہ کہا جاتا تھا”۔یعنی جدید غزل میں علامتیت اور امیجزم کے ذریعہ جو تجریدی اور غیر عملی بلکہ داخلی فضا تیار کی جاتی تھی، فاروقی صاحب نے اسے مضمون آفرینی کی ذیل میں رکھ کر جدید ہونے کا جواز بخشا۔لیکن یہ جواز ابھی تک نامکمل تھا کیونکہ تجریدی اور غیر عملی تصورات تو کئی  کلاسیکی شعرا کی شاعری میں بھی ملتے ہیں پھر ساٹھ کے بعد کی غزل میں ایسا کیا تھا کہ اسے جدید کہا جاتا۔اس کے لیے فاروقی صاحب نے نئی  لفظیات کا جواز پیش کیا کہ “مضمون آفرینی کے لیے کلاسیکی غزل کی روایتی لفظیات کی پابندی ضروری نہیں”۔یعنی ایک طرح سے جدید غزل کے لیے پرانے مضامین کو نئے انداز میں برتنے کی راہیں آسان کردی گئیں اور یوں غزل کے مزاج میں جدت لانے کے لیے پہلے ایک تھیوری تیار کی گئی  پھر اس کی عمل آواری (Practice) کو مزید آسان بنانے کے لیے نئی  صورتیں وضع کی گئیں جیسے نئی  لفظیات، علامتیت، امیجزم، تشکیکیت، استفہامیہ، ابہام اور نفی (Negation) وغیرہ۔حتی کہ موضوعات کی سطح پر بھی فاروقی صاحب نے یہ کہہ کر جدید غزل کا موقف بالکل واضح کردیا کہ؛
“داخلی اور معنوی حیثیت سے میں میں اس شاعری (بشمول غزل) کو جدید سمجھتا ہوں جو ہمارے دور کے احساسِ جرم، خوف، تنہائی، کیفیتِ انتشار اور اس ذہنی بے چینی کا (کسی نہ کسی نہج سے) اظہار کرتی ہو جو جدید صنعتی اور مشینی اور میکانیکی تہذیب کی لائی ہوئی مادی خوش حالی، ذہنی کھوکھلے پن، روحانی، دیوالیہ پن اور احساسِ بے چارگی کا عطیہ ہے.”(4)
اب “غبار حیرانی”کی شاعری کی طرف آئیے۔ان غزلوں میں میر و غالب کے اثرات کے علاوہ ایک اور بنیادی صفت مضمون آفرینی بھی ہے۔کیونکہ ان میں ایک دم نئے مضامین تو نہیں ہیں البتہ پرانے مضامین کو نئی  وضع کردہ صورتوں جیسے؛ تشکیکیت، استفہامیہ اور ابہام کے تحت اس طرح برتا گیا ہے کہ ذہن میں معنی کے کئی  نئے دریچے کھلتے ہیں۔مثلاً یہ چند اشعار دیکھیے؛
اب یہ دھن چھوڑ بھی دو اس کو کہاں پاو گے
گھر چلو ورنہ کہیں اور نکل جاو گے
میں جس سے خود کنارہ کر چکا تھا
مقابل پھر وہی دریا ہوا ہے
اک ہوا آخر اڑا ہی لے گئی  گرد وجود
سوچیے کیا خاک تھے اس کی نگہبانی میں ہم
سربسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے
اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے
نہ جانے خاک ہوجانے کی لذت کب میسر ہو
ابھی تو ایک مدت سے ہے خدمت خاک اڑانے کی
پہلا شعر اپنی ظاہری ساخت میں یوں تو محبوب کو پانے کی خواہش اور جستجو سے متعلق معلوم ہوتا ہے جو کہ ظاہر ہے کوئی  نیا مضمون نہیں ہے، بلکہ کلاسیکی شعری روایت میں تقریباً ہر شاعر نے اسے اپنے انداز میں باندھا ہے۔لیکن جس انداز میں احمد محفوظ نے اسے باندھا ہے وہ جدید شعریات کا خاصہ ہے کلاسیکی شعریات کا نہیں۔مثلاً، لفظ “اس” بظاہر ایک عام سا لفظ ہے جس کا بطور نشان (Signifier) اپنا کوئی  امتیاز نہیں بلکہ اس کا تصور (Signified) تب تک نامکمل ہے جبتکہ یہ کسی دوسرے بڑے اور واضح لفظ سے نہیں جڑتا، حتی کہ بعض اوقات اس کے تصور کو مکمل ہونے میں ایک جملے کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن جدید شاعری میں یہ لفظ اپنے مخصوص استعمال کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔یوں کہیے کہ اس کا معنیاتی تفاعل کسی واضح لفظ/ نشان کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور اثر انگیز ہوتا ہے۔آپ سوچ رہیں ہوں گے کیسے؟ تو دیکھیے کہ اس شعر میں جدت کا احساس اسی لفظ “اس” سے پیدا ہوتا ہے۔غور کیجیے تو یہ لفظ شعر میں ایسی جگہ پر استعمال ہوا ہے جو ہماری توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ہم سوچنے لگتے ہیں کہ یہ “اس” کون ہوسکتا ہے؟ اور اسے identify کرنے یعنی اس کے Signified کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا یہ لفظ ایک طرح سے شعر کی مضمون آفرینی کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔اس لفظ سے شعر میں بیک وقت استفہامیہ اور تشکیک کو جنم ملتا ہے۔وہ اس طرح کہ جب ہمارے لیے یہ جاننا ضروری بن جاتا ہےکہ شاعر کو “کس” کی تلاش ہے تو ہمارا ذہن مختلف قیاس آرائیاں کرنے لگتا ہے، جیسے؛ کیا واقعی اسے محبوب کی تلاش ہے؟اگر ایسا ہے تو شاعر کو گھر لوٹنے کی صلاح کون دے رہا ہے؟ کیا وہ وہی کلاسیکی کردار “ناصح” ہے؟ یا پھر شاعر کا شعور (Consciousness) ہے؟ ہم بھی قیاس کرنے لگتے ہیں کہ ممکن ہے کہ شاعر کو اپنے آپ کی تلاش ہو اور شعر میں جو کردار اسے گھر لوٹنے کی صلاح دیتا ہے وہ شاعر کا شعور ہو۔ یعنی یہ شعر شاعر کے معروضی اور موضوعی وجود کے درمیان کا مکالمہ بھی تو ہوسکتا ہے۔گویا یہ ساری تشکیکی فضا شعر کے اس مضمون کو رد کرتی ہے جسے ہم نے ابتداء میں محبوب کو پانے کی خواہش پر قیاس کیا تھا۔اسی طرح دوسرے شعر میں دیکھیے وقت یا حالات سے دوبارہ سامنا ہونا اگرچہ اس شعر کا بنیادی مضمون ہے جو کہ نیا نہیں ہے مگر ان حالات کو identify کرنے کا عمل شعر کے معنوی سفر کو بڑھاتا ہے۔جو قاری تشکیکی ذہن کا حامل ہوگا، ضروری نہیں کہ وہ لفظ “دریا” سے برے وقت یا حالات کی ہی تاویل نکالے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ “دریا” کو شعور زیست سے تعبیر کرے کیونکہ زندگی کی لایعنیت کے شعور سے زیادہ کربناک کوئی  دوسری شئے  تو نہیں ہوتی اور بقول کامو بعض دفعہ شعورِ زیست کی اسی کربناکی سے بچنے کے لیے انسان فلسفیانہ خودکشی کا مرتکب ہوجاتا ہے یعنی زندگی کی حقیقت سے کنارہ کرکے کسی غیر حقیقی تصور میں پناہ لیتا ہے۔

julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply