اپنشد مختصر تعارف/مبشر حسن

“Upanishads”
پہلے ہندوستانی مذہب ہندومت کے ماخذوں کی تاریخ وادی سندھ کی تہذیب کے متعلق حالیہ دریافتوں میں کچھ پیچیدگی کی حامل رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب بھی میسو پوٹیمیا، چین اور مصر کی تہذیبوں کے ساتھ ہی پروان چڑھی۔
وادی سندھ کی تہذیب (4000) تا 2200 ق م) کا ایک مرکز ہڑپہ شہر تھا جس کے رابطے میسو پوٹیمیائی اور غالباً دیگر شہروں کے ساتھ بھی تھے۔ ہڑپہ کی کھدائی بیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔ وہاں سے ملنے والی مہروں کی تحریر ابھی تک پڑھی نہیں جاسکی۔ یہاں کے مذہب کو قبل از تاریخ ہندومت قرار دیا جاتا ہے۔
ہم ہڑپہ کی مذہبی خصوصیات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں الخصوص مذہبی اشنان اور شیو سے مشابہت رکھنے والے ایک دیوتا کی عبادت کے متعلق ….. وہ بعد کے ہندو مت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ہڑپہ بھی پدرسری معاشرہ لگتا ہے، اگر چہ وہاں ایک دیوی ماں بھی موجود تھی ۔ ایران اور افغانستان تک پہنچنے والے ہند یورپی قبائل یعنی آریاؤں نے وادی سندھ کی تہذیب کا خاتمہ نہیں کیا تھا۔ لگتا ہے کہ یہ پانی کی کمی اور دیگر فطری وجوہ کے باعث ختم ہوئی ۔ غیر معمولی تنوع کی حامل ہندو مذہبی روایت کی تاریخ نہایت پیچیدہ اور تقریباً تمام حوالوں سے متنازعہ ہے۔ لیکن ہم اس کا ایک بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر سکتے ہیں ۔ اوریجنل ہندومت میں سے تین بدعتیں نکلیں : جین مت، بدھ مت اور سکھ مت ۔ ان تینوں میں کافی کچھ مشترک ہے۔
تقریباً 900 قبل مسیح میں رگ وید نے اپنی حتمی صورت اختیار کی ۔ سنسکرت لفظ ویڈ کا مطلب علم ہے، اور اس سے بالخصوص ہندوؤں کا مقدس علم بھی مراد ہے۔ ویدوں کے چار مجموعے ہیں جن میں سب سے اہم رگ وید 1028 بھجنوں پر مشتمل ہے۔ تیکنیکی لحاظ سے اپنشدوں کی بجائے رگ وید کو اس کتاب میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کی تدوین ہندوستان میں فن تحریر متعارف ہونے سے بہت پہلے ہوئی تھی اور اس کے موخر بھجن وحدانیت کی جانب رجحان رکھتے ہیں ۔ یہ نظریہ نہایت شاندار اور مکمل طریقے سے اپنشدوں میں بیان ہوا ہے جو رگ وید کی زیادہ فلسفیانہ اور شاعرانہ شاخ ہیں۔
ان اپنشدوں نے ہندو فکر پر اہم ترین اثر ڈالا اور بودھی و مغربی فکر پر بھی ۔ مغرب میں شوپنہاور اور بعد ازاں وِٹگنسٹین وغیرہ نے اسے مقبول بنایا۔ وٹگنسٹین نے لکھا، سانپ کی روح تمہاری روح ہے، کیونکہ تم اپنے ذریعہ سے ہی باقی سب کی روحوں سے واقف ہوتے ہو ۔ یوں اس نے اپنی حقیقی تحریک آشکار کی ۔ وہ شوپنہاور کے لیے اپنی چاہت کے ذریعہ اپنشدوں تک پہنچا۔
آج ہندوستان سے باہر کے چند ایک افراد نے ہی رگ وید کے بھجن پڑھے ہوں گے لیکن پڑھے لکھے زیادہ تر لوگوں کو اپنشدوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور معلوم ہے ۔ اپنشد اصل میں تین الفاظ آپ + نی + شد کا مرکب ہے جس کا مطلب استاد کے قریب بیٹھ کر سننا ہے۔ اپنشدوں کی تعداد تقریباً 200 ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر بعد میں لکھی ہوئی تفسیریں ہیں۔ حقیقی اور جاندار اپنشدوں کی گنتی 20 سے زیادہ نہیں ۔ ہمیں ان کے مصنفین کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ بابلی داستان گل گامش اور ہومری نظموں کے ابتدائی حصوں سے بعد میں تحریر ہونے کے باوجود اپنشد میں ہی نوع انسانی نے پہلی مرتبہ شعوری طور پر غور و فکر کر کے دیوتاؤں کی تعریف میں کہانیاں لکھیں اور شہوانی محبت بیان کی ۔ ان کی مختلف تفاسیر کی گئی ہیں ۔
اپنشدوں کا نفس مضمون یہ ہے کہ برہمن ( بر ہما) اور آتما ایک ہی چیز ہیں ۔ برہمن کائنات کا سچ ہے۔ آتما داخلی انفرادی سچ ہے ۔ اپنشدوں میں اس امر کو متعدد طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ تصوف کو پسند نہ کرنے والے عیسائی اس پر بہت سیخ پا ہوئے کیونکہ وہ اپنے مذہب کو کامل سچائی خیال کرتے ہیں۔ انہوں نے ہندومت کے ساتھ ساتھ بدھ مت کو بھی الحاد پرستی قرار دیا۔ عیسائی عقیدے کے مادی لحاظ سے کامیاب مکتبہ ہائے فکر کے مقابلے میں اپنشد کہیں زیادہ روادار اور منکسر المزاج ہیں۔ ان میں خارجی قوتوں کے سامنے اظہار اطاعت بہت کم ہے اور نام نہاد کافروں کو مارنے کا جذبہ اور بھی کم ۔ انہوں نے ایک بچے کے ذہن کے ساتھ آغاز کیا جو پیراڈاکس کو بڑوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔ چنانچہ مندوکیہ اپنشد میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ برہما نے ہر چیز سب کچھ اور کچھ بھی نہیں یا کوئی بھی چیز نہیں، متعین کی ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پیراڈاکس مضحکہ خیز معلوم ہو، لیکن یہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں ہماری قیاس آرائیوں سے زیادہ مضحکہ خیز نہیں ۔ ہم لاشیئت یا نیستی کو نہیں سمجھ سکتے ۔ کیا کسی چیز کا نہ ہونا لاشیئیت ہے ، یا کیا Nothing‘ کے حوالے سے یہ نظریہ محض احمقانہ ہے؟ ۔ اس اپنشد سے دو پرندوں کی مشہور کہانی نکلی :
دوستی کے بندھن میں بندھے دو پرندوں نے ایک ہی درخت پر اپنے گھر بنائے ۔ ایک پرندہ ادھر ادھر نظر ڈالتا اور میٹھے پھل پر چونچ مارتا ۔
شخصی ذات ادھر ادھر دانہ چگنے سے تھک کر رنجیدگی میں ڈوب جاتی ہے، لیکن جب وہ ریاضت کے ذریعہ جان لیتا ہے کہ دوسری لاشخصی ذات در حقیقت روح ہے تو رنجیدگی غائب ہو جاتی ہے۔
روح کو پالینے والا خود ہی روح بن جاتا ہے۔
بریہد آرنیک اپنشد کہتا ہے : ” روح ( آتما ) سے آگاہ ہو جانے والا شخص خود ہی آتما ، ہر چیز بن جاتا ہے ۔
کیونکہ جب تک دوئی رہتی ہے ایک دوجے کو دیکھتا ہے، اسے سونگھتا ہے، اسے سنتا اور اس سے بات کرتا ہے، اسے جانتا ہے ؛ لیکن جب سب کچھ ایک ہی ذات میں متحد ہو جائے تو دوجے کو کون دیکھ سکتا ہے ، وہ دوسرے کو کیسے دیکھ سکتا ہے ؛ دوجے کو کون سونگھ سکتا ہے، وہ دوجے کو کیسے سونگھ سکتا ہے؟ کون دوجے کو سن سکتا ہے؟ وہ دوجے کو کیسے سن سکتا ہے؟ کون دوجے سے بول سکتا ہے، وہ دوجے سے کیسے بول سکتا ہے؟ کون دوجے کے متعلق سوچ سکتا ہے؛ وہ دوجے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے؟ کون دوجے کو جان سکتا ہے؛ وہ دوجے کو کیسے جان سکتا ہے؟
بہ الفاظ دیگر : اصل شہود شاہد و مشہود ایک ہے۔
(حیراں ہوں ، پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں ! )
کچھ اہم اپنشدوں کے مترجم یو آن مسکارو نے سپینوزا کا ایک قول نقل کیا ہے
” رحمت نیکی کا انعام نہیں بلکہ بذات خود نیکی ہے۔ نیکی میں مسرت نہ ملنے کی وجہ یہ نہیں کہ ہم اپنی تحریصات کو قابو کرنے کے اہل ہیں، بلکہ ہم اپنی تحریصات پر قابو پانے کے اہل ہونے کے باعث نیکی میں مسرت پاتے ہیں”
اپنشدوں کی فکر عیسائی انداز کی پیوریطانی (Puritanical) نہیں ۔ کیا کوئی شخص ایک عیسائی کا م سوتر کا تصور کر سکتا ہے؟ ہندومت کا مطمع نظر صرف جنسی سرگرمی ہی نہیں بلکہ جنسی سرگرمی میں پائی جانے والی خود غرضی ہے ( جسے وتساین کی کام سوتر میں بہت سراہا گیا ہے ۔ ) اصل ہدف ننھی سی ذات ہے ، محیط کل معلوم ہونے والی انا ہے، شاخ پر افسردہ بیٹھا ہوا پرندہ ہے ۔ لیکن حقیقت میں موجود شخصیت (ذات) بہت چھوٹی اور غیر اہم ہونے ، اور اس کی مسرتیں محض سراب انگیز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ شر کی مدح سرا ہے۔
یہاں دوزخ محض ہستی کا روز کا معمول ہے جس سے نجات نا ممکن ہے۔ اپنشندوں کے مصنفوں نے مسرت اور مسرت کے حصول کی غیر مختتم تلاش کو خیر سے تمیز کیا ہے۔ ان کی نظر میں صرف ایک مسیحی مسرت تھی : معرفت ذات یعنی اپنے آپ کو جاننا۔ یہ مطلق نیکی تھی ۔ ان کا نفسیاتی تجزیہ جنس پر مرکوز آرتھوڈوکس عیسائی اسٹیبلشمنٹ کی نسبت زیادہ گہرا اور حقیقت پسندانہ تھا۔ ایک جدید ہندوستانی فلسفی کے الفاظ میں سماجی فرائض کی بے لوث انجام دہی کے ذریعہ فلسفیانہ غور و خوص سے سچا علم ذات حاصل ہوتا ہے ۔ ہندوستانی فلسفہ مادے کو غیر حقیقی ثابت کرنے کی کوششوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا نظریہ ایسے فلسفہ کے لیے فطری طور پر موافق ہے۔ لیکن یہ بات اہم نہیں کہ ہم مادے کے حقیقی ہونے پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں ۔ اپنشدوں اور ان کے بعد کی تحریروں (رگ وید بھی اسی سمت میں گامزن تھا ) کا جذبہ اس قسم کے کے امتیازات پر انحصار نہیں کرتا۔ ایک مرتبہ اگر اپنے تجربہ کے ذریعہ کل – کے اتحاد کی تفہیم حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں تو ہم نجات پاسکتے ہیں ۔ اس عمل کو کبھی بھی آسان نہیں کہا گیا اور نہ ہی یہ خیال پایا جاتا ہے کہ زندگی گزارنی نہیں چاہیے۔ یہ مقصد پانے کی ایک نہایت شاندار راہ ہمیں دھمپد“ میں ملتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply