علامہ اقبال کا نظریہ خودی اور آج کا مومن/مہوش عابد

علامہ اقبال وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلندرانہ مزاج، فلسفیانہ سوچ اور ایک مومن کی اعلیٰ صفات سے نوازا۔ ان کا پیغام دراصل انسان کو اس کی حقیقی طاقت اور مقصدِ حیات کا شعور دیتا ہے۔

اقبال کا تصورِ خودی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے؟”

لیکن کیا آج کے مومن میں وہ خودی باقی رہ گئی ہے؟ کیا وہ وہی مومن ہے جس کا تصور اقبال نے پیش کیا؟

خودی کا فلسفہ اور اس کا عملی نفاذ

اقبال کی نظم اسرارِ خودی ہمیں خود کو پہچاننے، اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اور اپنی تقدیر کے معمار بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ نظم ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کی پہچان کر لے، اپنی روح کی طاقت کو سمجھ لے، اور اپنی خودی کو بلند کرے تو اللہ کی نصرت بھی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

اقبال ہمیں ایک ایسی زندگی گزارنے کا درس دیتے ہیں جہاں ہم دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کریں۔ ان کے مطابق، کامیابی ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنے عزم میں پختہ ہوتے ہیں، جو مشکل حالات میں ثابت قدم رہتے ہیں اور جو مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔

شاہین: مومن کی مثالی تصویر

اقبال نے مومن کو شاہین سے تشبیہ دی ہے، جو بلند پرواز، خوددار، اور بے خوف ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک مومن میں درج ذیل خصوصیات ہونی چاہئیں:

1. بلند پرواز: شاہین اونچائی پر اڑتا ہے اور چھوٹے مفادات کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ایک مومن کو بھی ہمیشہ اپنے مقاصد بلند رکھنے چاہئیں۔

2. خودداری: شاہین مردار نہیں کھاتا، یعنی دوسروں کی دی ہوئی چیزوں پر گزارا نہیں کرتا۔ مومن کو بھی خوددار اور غیرت مند ہونا چاہیے۔

3. تیز نگاہی: شاہین کی نظر بہت گہری ہوتی ہے۔ اسی طرح مومن کو بھی اپنی زندگی کے مقاصد پر گہری نظر رکھنی چاہیے، تاکہ وہ دھوکہ نہ کھائے اور اپنی راہ سے نہ بھٹکے۔

4. عملیت پسندی: شاہین حال میں جیتا ہے، نہ ماضی کا اسیر ہوتا ہے، نہ مستقبل کی فکر میں مبتلا۔ مومن کو بھی حال میں رہتے ہوئے اپنے مستقبل کی تعمیر کرنی چاہیے۔

خود پر قابو: کامیاب زندگی کی کنجی

اقبال کے مطابق ایک مومن کی سب سے بڑی طاقت اس کی اپنی خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت ہے۔ آج کے دور میں، جہاں مادی خواہشات اور وقتی آسائشوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے، ایک سچا مومن وہی ہے جو اپنی خواہشات کو قابو میں رکھے اور صرف وہی چیز اختیار کرے جو اس کے لیے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔

عشق اور قربانی: مومن کی حقیقی پہچان

اقبال کے فلسفے میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

“جس کا دل نہیں ٹوٹا، اس میں رب داخل نہیں ہوتا۔”

عشق کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر، اللہ اور اس کی مخلوق کے لیے قربانی دینے والا بنے۔ ایک حقیقی مومن وہی ہے جو دوسروں کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔

فقیری: دولت سے بے نیازی

اقبال کی فقیری دراصل وہ طرزِ زندگی ہے جہاں انسان کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ دنیاوی چیزوں کا غلام نہ بنے۔ اسلام غریبی کو پسند نہیں کرتا، بلکہ ہمیں خوددار اور مضبوط بننے کا درس دیتا ہے، تاکہ ہم نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکیں بلکہ دوسروں کی بھی مدد کر سکیں۔

عملی لائحہ عمل

آج کا مومن اگر واقعی اقبال کے تصورِ خودی کو اپنانا چاہتا ہے، تو اسے اپنی زندگی میں جدوجہد، خودداری، بلند ہمتی، عشق، اور ایثار کو شامل کرنا ہوگا۔ اقبال کا پیغام مایوسی یا ناکامی کا نہیں، بلکہ امید، عمل اور کامیابی کا پیغام ہے۔ اگر ہم اپنی خودی کو پہچان لیں اور اپنی زندگی کو مثبت اصولوں پر استوار کر لیں، تو کامیابی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔

julia rana solicitors

یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک حقیقی مومن بننے اور دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کی طرف لے جا سکتا ہے!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply