’’کسی بستی کا ایک شخص بھی دکھی ہو،اور پوری بستی کے ضمیر میں خلش نہ ہو تو یہ وقت، ماتم اور ملامت کا ہے۔
اپنی ڈائری سے :میں ڈائری میں ہر بات درج نہیں کرتا۔صرف وہ بات درج کرتا ہوں، جسے نظم میں کہہ سکتا ہوں ،نہ کسی مجلس میں ۔یہاں تک کہ اپنے والد حمزہ سے بھی نہیں۔
دل میں وسوسے آتے ہیں۔ روح میں عجب ہول اٹھتے ہیں۔ کوئی دغدغہ،کوئی اندیشہ، کوئی تشویش میرے حواس کو اچانک اس طرح گرفت میں لے لیتی ہے، جس طرح داغستانی عقاب پلک جھپکتے غریب خرگوش کو اپنے پنجوں میں بھینچ لیتا ہے۔
میرا تجربہ ہے کہ ڈائری کے اوراق ، دل کی سچی حالت کا سامنا کرنے کی سب سے محفوظ ’جگہ ‘ ہیں۔ مجھے کاغذ کی جگہ، آوار کی جگہ سے کم عزیز نہیں ہے۔کئی بار تو یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر مجھے’ کاغذ کی جگہ‘میسر نہ ہوتی تو میں آوار کی گلیوں میں دیوانہ بن کر پھرا کرتااور کسی روز کسی وادی میں سدا کے کے لیے روپوش ہوجاتا۔
تشویش، میرے دل کو اس دن سے گھیرے ہوئے ہے، جس دن ابا کی عبادت کو آوار کے احباب تشریف لائے تھے۔ ان میں ایک سارنگی نواز بھی تھا۔ وہ آوار کے ایک کسان کے طنز سے اندیشہ مند تھا۔ کسان نے اسے کہا تھا کہ تمھاری قسمت کتنی اچھی ہے؛بس سارنگی بجاتے ہو ،پیسے بھی ملتے ہیں اور واہ واہ بھی۔
ابا نے سارنگی نواز کو اگرچہ مطمئن کردیا تھا، مگر میرے دل میں کسان کی یہ بات کھب گئی ہے کھیتی باڑی ، سارنگی نوازی کے مقابلے میں جوکھم کا کام ہے۔ ہل کی انی اور سارنگی کے تار میں بہت فرق ہے۔ مجھے راتوں کو اکثر نیند نہیں آتی۔ میں نے کئی بار محسوس کیا ہے کہ آدھی رات کو میرے بے چراغ کمرے میں ایک سایہ میرے سامنے آکر ٹھہر گیا ہے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر کہتا ہے :رسول ،تم چلتے پھرتے ، جہازمیں سفر کرتے، عالی شان ہوٹلوں ، اپنے گھر کے گرم اوطاق میں بیٹھ کر، کہیں ،کسی وقت نظم لکھ سکتے ہو، مگر ہم کسان ؟…..
اس کا ہر کہا،ان کہا لفظ میرے دل میں ترازوہوجاتا ہے۔ ایک نظم لکھنا کس قدر آسان ہے اور اناج کاایک دانہ اگاناکس قدر مشکل کام ہے۔رسول ، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ ، یہ تقسیم کس نے کی ہے؟ اس کا دل ، آوار کے کچھ انسانوں کے لیے اتنا بے رحم کیوں واقع ہوا ہے؟ میں اس کسان کا مرجھایا چہرہ دیکھتا ہوں۔ اس چہرے میں آوار، داغستان، دنیا بھر کے کسانوں کے مغموم ،محزون چہرے دیکھتا ہوں۔ اپنا دل پکڑ لیتا ہوں۔ان کے ہاتھوں کی کھردری جلد پر نظر ڈالتا ہوں۔ا ن کی آنکھوں میں….فلک، زمانے ،سب صاحبان ِ اختیار، خدا ، ہم شاعروں سے …. شکوے اور رنج کی امڈتی گھٹامانند دیکھتا ہوں،جو ابھی یا کسی دوسرے وقت برسے گی۔ میں شرمندہ بھی ہوتا ہوں اور خوف زدہ بھی۔
میں خود سے کہتا ہوں، رسول ،کسی بستی کا ایک شخص بھی دکھی ہو،اور پوری بستی کے ضمیر میں خلش نہ ہو تو یہ وقت، ماتم اور ملامت کا ہے۔ رسول ، تم سب سے پہلے اپنی ملامت کرو۔تم فخر سے کہتے ہو کہ تمھاری شاعری میں آوارستان کی مٹی کی مہک اور نمک کے سوا کچھ نہیں،لیکن اسی مٹی سے گندم ،جو ،مکئی اگانے والا کسان دکھی ہے ۔جس بستی کے شاعر خوش حال اور کسان بدحال ہوں، اس بستی کے شاعروں کی ملامت بجا ہے۔ رسول ،تم ان سب کا ماتم کرو ، جن کے دل اپنے ہم جنسوں کے دکھ اور مصیبت کو محسوس کرنے سے عاجز ہوگئے۔ وہ شاعر ہوں، گویے ہوں، اہل حرفہ ہوں یا اہل صنعت ، ساہوکار ہوں ،پنچائتی بزرگ ہوں، سیاست دان ہوں، ملا ہوں یا دانش ور۔
ملامت ،ماتم اور آہ وفغاں کے بعد بھی کچھ مقامات ہیں۔ غوروفکراور محاسبے کے مقامات۔
کون شاعر ہوگا، کون کسان؟ یہ تقسیم کس نے کی ؟اس سوال نے مجھے متفکر وبے کل رکھا ہے۔
ایک زمانہ تھا ، جب میں سمجھتا تھا کہ یہ تقسیم ِ کار، دو طبقاتی نظام کی پیداوار ہے۔ کچھ لوگ ہاتھ سے، کچھ ذہن سے، کچھ تخیل سے محنت کریں گے۔ اور ایک طبقہ ، ان کی محنت کے ثمر کا بڑا حصہ اپنے پاس رکھے گا، قلیل سا حصہ انھیں دیا کرے گا۔ میں اب بھی یہ سمجھتاہوں کہ بی فاختہ دکھ جھیلتی ہے،اور کووں کی ایک ٹکڑی انڈے کھاجاتی ہے۔ میں اس کسان کو بتانا چاہتاہوں کہ میری شاعری میں فاختہ کے دکھوں پر افسوس اور انڈے کھاجانےو الے کووں پر طنز موجود ہے۔
جس شاعر کے شاعری میں اپنی مٹی کا نمک موجود ہو ،مگر اسی مٹی کے انسانوں کے آنسوؤں کا نمکین پانی موجود نہ ہو، اس کی ملامت جائز ہے…… لیکن اب اس عمر میں، جب کسی بات کی جلدی نہیں ہوتی، نہ کہیں آنے جانے کی، نہ کسی سے بحث جیتنے کی اور نہ کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی چٹک ہوتی ہے ، میں سوچتا ہوں کہ کوئی شخص اپنی یااپنے کسی ہم جنس کی مرضی اور ضرورت کے تحت شاعر بنتا ہے نہ سارنگی نواز نہ چتر کار۔ جس طرح آدمی اپنی جنس کا انتخاب نہیں کرتا،اسی طرح اپنے فن کار ہونے کا انتخاب بھی نہیں کرتا۔
مجھے داغستان کا ایک شخص یاد آتا ہے۔وہ قالین بافی کاکام کرتا تھا۔ اچانک اس کا دل ، اپنے پیشے سے بھر گیا۔ اس نے کئی پیشے آزمائے۔ پہلے ماہی گیری کی۔ اس کے بعد چرواہا بن گیا۔ پھربیناچی (معمار) ۔ کچھ ہی دنوں میں بیناچی کے پیشے سے بھی اکتا گیا۔ وہ شاعروں میں اٹھنے بیٹھنے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے مصرعے موزوں کرنے لگا۔ کوئی مصرع ایک شاعر کا،کوئی سطر کسی دوسرے شاعر ، کوئی ٹکڑاکسی اور شاعر کا لیتا؛ کچھ کو اصلی صورت میں برقرار رکھتا، کچھ میں ردّ وبدل کرتا۔ کسی نے ا س کے کان میں یہ بات ڈال دی کہ وہ پیدائشی شاعر تھا،لیکن اسے یہ جاننے میں تیس برس لگ گئے۔ وہ چار سال تک نظمیں لکھنے کی مشق کرتا رہا۔ چار لائنوں کی ایک اچھی نظم بھی نہ لکھ سکا۔بالآخر وہ قالین بافی کرنے لگا۔
سب فن کار ، فن کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت بھید، اسرار، چیستاں، معمے ہیں، مگر فن کی صلاحیت سے بڑھ کر کوئی اسرار ہے نہ بھید۔ کسے یہ صلاحیت ملے گی ،کسے نہیں، ضرور یہ فیصلہ کہیں ہوتا ہے۔ کہاں؟ مجھے اس کا ٹھیک جواب نہیں معلوم، مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ یہ فیصلہ ماں باپ ، اساتذہ، ملا، پنڈت، بادشاہ نہیں کرسکتے۔ فن کی صلاحیت اگر بیج ہے تو یہ کسی بازار میں دستیاب بالکل نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی سیارے پر اس کا وافر ذخیرہ موجود ہو اور جس لمحے ، آدمی ایک ننھی سی جان کی صورت شکم مادر میں ہوتا ہے، ایک برق کی صورت کسی پراسرار واسطے سے آدمی کو منتقل ہوجاتا ہو۔ واللہ اعلم۔
مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے ہم جنسوں پر کوئی خصوصی استحقا ق رکھتے ہیں۔خصوصی استحقاق کے نام کی اگر کوئی چیز ہے تو وہ فقط اپنی محنت وریاضت سے حاصل ہوا کرتی ہے۔ صلاحیت، فطرت کی طر ف سے ہے؛ استحقاق وامتیاز، آدمی کے خونِ جگر سے ہے۔ میں نے تجربہ کیا ہے کہ خون ِجگر سے حاصل کیے گئے امتیاز میں فخر ونخوت نہیں ہوتے، ایک سچا انکسار موجود ہوا کرتا ہے۔ لوگوں کو باہم جوڑنے والی واحد چیز سچا انکسار ہی ہے!رسول نے مصنوعی انکسار والے بہت شاعر ادیب ، اساتذہ دیکھے ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ کسان اور فن کار دونوں محنت کش ہیں۔فن کار کی محنت کا میدان تخیل ہے۔ ایک کسان ہی کی مانند ہی فن کار’سنگلاخ زمنیوں ’ میں مصرعوں ،سُروں ، رنگوں کی نمود کرتے ہیں۔ دنیا کاکوئی سماج، ثقافت کے بغیر نہیں۔ کسانوں ، اہل حرفہ اور فن کاروں کے بغیر کسی ثقافت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کسان و کاری گر، ثقافت کی مادی ومحسوس صورت کو وجود میں لاتے ہیں۔ شاعر، چتر کار، نغمہ گر ، فلسفی ، پنڈت ، ملا ، سائنس دان ، استاد ثقافت کی تخیلی وذہنی صورتوں کے موجد ہیں، مگر یہ کسانوں اور کاری گروں کے مرہون ہیں۔سب ایک تار میں بندھے ہیں۔ آوارستان کی جس گلی میں میرا گھر ہے، اسی گلی میں چار گھر کسانوں اور دو گھر دست کاروں کے ہیں۔ میں اس کسان کے سامنے یہ اعتراف کرنا چاہتاہوں کہ اگر یہ چھ گھر نہ ہوں تو رسول کا شاعرانہ تخیل ،ایک دشت ِ بے اماں ہو۔
میں اس کسان سے ایک اور بات بھی کہنا چاہتاہوں۔ بالائی طبقہ ہر جگہ ہے۔کہیں اس کی صورت ایک ہے، کہیں اس نے اپنی صورت بدل رکھی ہے اور کہیں نقاب چڑھارکھا ہے۔ یہ طبقہ صرف بڑے شہروں میں نہیں، ایک عام سی بستی اور اس بستی کی ایک گلی، اور ایک گلی کے ایک گھر میں بھی ہوا کرتا ہے۔جس جنگل میں فاختائیں ہیں، وہیں کووں کے پرے بھی ہیں۔ اس سچائی کو عام کرنا اورفاختاؤں کو کووں کی چیرہ دستیوں سے بچانا، انھی کی ذمہ داری ہے، جن کے پاس فن ہے،اور یہ فن لوگوں کو مسحور کیا کرتا ہے۔
میں اس کسان سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ جس طرح کسان کے اناج کا کثیرحصہ لے جاتا ہے، اسی طرح بالائی طبقہ ،فنکاروں کی محنت اپنے حق میں کر لیا کرتا ہے۔ وہ فن کاروں کو لالچ دیتا ہے، ڈراتا ہے، ان کی خوشامد کرتا ہے،انھیں خریدتا ہے اور اپنے لیے نظمیں ، کہانیاں لکھواتا ہے۔ ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ فن کار لالچ میں آجاتے ہیں، ڈر جاتے ہیں، اور بِک بھی جاتے ہیں۔ صرف غریب ، بے بس فنکار نہیں، صاحبِ ثروت ، مشہور فن کار بھی۔ شاعروں میں حریص ، بزدل ، جاہ پسند ہوا کرتے ہیں، جس طرح باقی سب طبقات میں ہوا کرتے ہیں ۔ اس سچائی کو عام کرنا بھی فن کاروں کی ذمہ داری ہے۔
میرے آس پاس ایسے شاعر ، مصنف، ٖڈراما نگار، چتر کار موجود ہیں جو داغستان کی بڑی روشن ، خوش حال ، امید سے لبریز مگر جھوٹی تصویریں دکھاتے ہیں،تاکہ انھیں ماسکو میں کوئی بڑا منصب یا اعزاز مل جائے۔
ایک شاعر کو یہ فیصلہ تو کرنا ہی ہوتا ہے کہ اسے ماسکو میں اعزاز چاہیے یا تاریخ اور عوام کے حافظے میں جگہ ؟
(رسول حمزہ توف کی روح سےمعذرت کےساتھ)
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں