کون سی بات کب،کہاں ،کیسے کی جائے؟-عبدالرحمٰن خان

گفتگو خواہ آپسی بات چیت کی شکل میں ہو، کسی آفس و ادارے کی میٹنگز میں ہو یا پھر عوامی اجتماعات و کانفرنسوں میں خطابات کی صورت ہو، اگر اس کے بنیادی اصولوں کا لحاظ نہ کیا جائے اور موقع و مخاطب کے مطابق اس میں وقتاً فوقتاً بدلاؤ نہ لایا جاتا رہے تو نہ وہ مؤثر ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی متوقع  نتیجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ بات آپ ترنم سے کریں یا بنا ترنم کے، پر درج ذیل اساسی امور کا لحاظ کسی بھی مؤثر گفتگو کے لئے بیحد لازمی ہے

۱۔ مخاطب کی پہچان:

سب سے بنیادی کام ہے کہ آپ کو اپنے مخاطب کی جانکاری ہونی چاہیے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے کیا، کیسی اور کتنی گفتگو کرنی ہے۔ مثلاً آپ کسی غیر یا کم پڑھی لکھی عوام سے مخاطب ہیں اور وہاں آپ ادب دانی، ثقیل الفاظ، انگریزی و عربی اور سنسکرت کی بھاری بھرکم عبارات، استعارات و کنایات اور دقیق اصطلاحات کی زبان استعمال کر رہے ہیں تو پھر آپ خود کو تو صلاحیت مند تصور کرلیں گے مگر اپنے سامعین کی نظر میں نہایت ہی احمق نظر آئیں گے۔ اس کے برخلاف، آپ کسی آفس میٹنگ میں یا اہل علم کے سیمینار میں یا آئمہ و دعات کی  ورکشاپ میں اپنی بات رکھ رہے ہیں اور وہاں مترادفات، مکررات کا استعمال کرتے ہیں یا پھر اصطلاحات و اختصار اور مصادر و عبارات پر اکتفاء کرلینے کے بجائے تفصیلات و تراجم کا بھی سہارا لے رہے ہیں تو بھی آپ سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہے۔

۲۔ موقع و مناسبت کا خیال:

کہاں اور کس وقت کیا گفتگو کرنی ہے، اس بات کا خیال بھی از حد ضروری ہے اثراندازی کے لئے۔ آپ کسی گاؤں کے اجلاس میں اگر فقہ و اصول حدیث کے دقائق پر یا گاؤں کی مسجد میں چند غیر پڑھے لکھے بوڑھوں کے سامنے دیے جارہے درس میں اسماء الرجال پر ۔۔ یا پھر اس کے برعکس علما و آئمہ کے سیمینار میں وضوء و تیمم کے طریقے پر گفتگو کر رہے ہیں تو یہ بھی خانہ پُری سے زیادہ شاید کچھ نہ ہوگا۔ موقع کی مناسبت بھی بہت اہم ہے، آپ کو کسی اسکول میں “مسلمان اور تعلیم” کے حوالے سے منعقد تعلیمی پروگرام میں تاثرات رکھنے کی دعوت دی گئی اور آپ نے عقائد و بدعات پر راگ الاپنا شروع کردیا تو آپ کی بات کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو مؤثر نہ ہو پائے گی۔

۳۔ خود کا اپنا انداز:

خواہ عام بات چیت ہو یا عوامی گفتگو، بہت سے لوگ کسی اور کا انداز کاپی کرنے کی اکثر کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ انداز و طریقۂ کار آپ کا اپنا ہونا چاہیے نہ کہ کسی اور کا کوئی مستعار اسلوب۔ وگرنہ پوری گفتگو کے دوران سامع آپ کا موازنہ اصل سے کرنے میں مصروف ہوگا اور آپ کی بات کا اثر صفر سے بھی کم ہوگا۔

۴۔ تیاری و تمرین:

خواہ آپ باہمی گفتگو میں ہوں یا عوامی پلیٹ فارم پر، جو بولنا ہے اس کی تیاری و مشق اساس ہے آپ کی کامیابی کی اور آپ کی باتوں کی اثراندازی کی۔ تیاری و تمرین ہمیشہ اس خیال سے ہونی چاہیے کہ آپ کی تیار کردہ گفتگو متعینہ وقت میں ختم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے موضوع سے متعلق بھی ہو اور موضوع کی درکار وضاحت کے لئے کافی بھی ہو۔

۵۔ مخاطب کا ردعمل:

گفتگو میں سامع سے آئی کانٹیکٹ بنائے رکھنا بہت اہم اصول ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ سننے والا آپ میں دلچسپی بھی لے رہا ہے یا نہیں، اس کا ردعمل آپ کو یہ سمجھنے کے لئے کافی ہونا چاہیے کہ آپ اپنی بات جاری رکھیں یا پھر اپنی جگہ پہ واپس آجائیں۔

۶۔ خود اعتمادی اور باڈی لینگویج:

دو باتیں اس حوالے سے ضروری ہیں۔ اگر آپ ذاتی گفتگو کا حصہ ہیں تو آپ میں خود اعتمادی یعنی سیلف کانفیڈینس کا ہونا اور اسی کے مطابق آپ کی باڈی لینگویج کا ہونا بیحد ضروری ہے۔ آپ میں اعتماد کی کمی ہے تو آپ کی جیب میں بھلے بلین روپے ہی کیوں نہ ہوں اور آپ کے ہاتھ میں کوئی بڑے سے بڑا پلان ہی کیوں نہ ہو، مخاطب بآسانی آپ پر بھروسہ کر ہی نہیں پائے گا۔ عوامی اسٹیجوں سے بات کرنے کی صورت میں خود اعتمادی و اسٹرانگ باڈی لینگویج کے ساتھ ساتھ ایک تیسری چیز بھی لازمی ہے اور وہ ہے اس بات کا خیال کہ آپ ایسی جگہ کھڑے ہوکر ایسے اینگل سے کلام کریں کہ تمام سامعین تک آپ کی نگاہ جاسکے، حتی کہ اگر پروجیکٹر کا نظم ہے تو دھیان رکھا جائے کہ آپ کی رویت زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔ بعض لوگوں کی باتیں بڑی عمدہ ہوتی ہیں پر ڈائس پر کانپتے ہلتے نظر آتے ہیں جس سے افادیت زیرو میں بدل جاتی ہے۔ اسٹرانگ باڈی لینگویج کا حصہ یہ بھی ہے کہ آپ کو خیال رہے کہ آپ کا اسٹیج کون سا ہے۔ آپ کانفرنس یا اجلاس میں ہیں تو ضروری ہے کہ زیادہ اچھل کود کے بجائے ڈائس پر جمے رہ کر طمانیت و سکون کے ساتھ صرف ہاتھوں یا آنکھوں اور سر کے اشارے سے گفتگو کریں، اگر آپ ورکشاپ یا تدریب کنڈکٹ کر رہے ہیں تو یہی اصول الگ ہوجائے گا اور وہاں اسٹیج پر چلنا دوڑنا، حسب ضرورت اچھل کود، آواز میں طمانیت کے ساتھ سختی، ہاتھ و زبان و سر کے ساتھ باقی جسمانی اعضاء کی بھی حرکات یہاں افادیت کا حصہ بن جائیں گی۔

۷۔ طمانیت و سکون:

دوران گفتگو خود کے اعصاب پر کنٹرول افادیت سے براہ راست مربوط ہے۔ بیچ بیچ میں ہلنا ہلانا، کھجانا، بال و کپڑے درست کرنا، ہاتھوں سے کھیلنا، پیر ہلانا یا ٹیپ کرتے رہنا جیسی غیر ضروری حرکات آپ کو کمزور کرنے کے لئے کافی ہیں، خواہ معاملہ آپسی گفتگو کا ہو یا عوامی تقاریر و خطابات کا۔ اسی طرح اگر آپ اسٹیج پر ہیں اور سامعین کی اتھل پتھل سے آپ کے تیور بگڑ جاتے ہیں تو یہ بھی آپ کا اپنے اعصاب پر گرفت نہ ہونے کی ہی نشانی ہے۔

۸۔ تلخیص:

ضروری ہے کہ آپ اپنی بات کے اختتام پر خلاصاتی نکات سامع کے سامنے رکھیں۔ مثلاً آپسی گفتگو میں بات ختم ہونے سے قبل کچھ اس طرح کہ “بھائی! تو طے یہ ہوا کہ ہم فلاں کام کریں گے، پانچ لاکھ کا پروجیکٹ ہوگا، اگلے چھ ماہ میں مکمل اسے کرنا ہوگا، استثمار و منافع میں آپ کا حصے داری پچاس فیصدی ہوگی، ماہانہ آڈیٹ کی تفاصیل اگلے ماہ کی پہلی تاریخ کو دونوں کے ای میل میں آجائے گی ۔ وغیرہ”۔ یہی طریقہ عوامی خطابات کا بھی ہونا چاہیے۔ البتہ عوامی گفتگو میں ضروری ہے کہ خلاصہ آپ کے معینہ وقت کا ہی حصہ ہو اور آپ کی پوری تقریر کے ایک سے تین فیصدی وقت اور مشمولات سے زیادہ پر مشتمل بالکل نہ ہو۔

۹۔ قوت سماع:

سننا بولنے سے زیادہ اہم ہے۔ ذاتی بات چیت میں آپ کے لئے ضروری ہے کہ سامنے والے کو برابر یا زیادہ کا وقت دیں، جب وہ بولے تو درمیان میں نہ ٹوکیں اور نہ غیر ضروری جسمانی ردعمل کریں بلکہ اسکی بات غیر ضروری بھی ہو تو بھی بغور سنیں اور اسکے مکمل کرلینے کے بعد ہی ردعمل کریں۔ عوامی اسٹیجوں پر بھی سماعت کی اہمیت اتنی ہی ہے۔ آپ خطیب ہیں تو بھی ضروری ہے کہ اپنی بات رکھ لینے کے بعد باقیوں کو اسی طرح سنیں جیسا کہ آپ چاہتے تھے کہ آپ کو سنا جائے، سماعت ہی کے آداب میں سے ہے کہ اگر آپ کو اسٹیج پر جلوہ افروز رہنے کی سعادت ملی ہے تو آپ وہاں آڑھے ٹیڑھے، ہلتے ڈُلتے، آتے جاتے، موبائل کا استعمال یا بغل والوں سے بات چیت کے بجائے اس طمانیت کا مظاہرہ کریں جو کسی جلوہ افروز کے لئے زیب ہے۔

julia rana solicitors

۱۰۔ ریکارڈنگ اور تنقید: عوامی پروگراموں میں خطیب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیان کی ریکارڈنگ سنے اور تجزیہ کرے کہ اس نے کیا کچھ غلطیاں کی ہیں اور کیا کچھ مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر اس نے وقت سے زیادہ گفتگو کی ہے تو وہ اپنی تقریر سے فلٹر کرے کہ کون کون سی باتیں ایسی تھیں جنہیں نکالا جاسکتا تھا، کہاں کہاں بیجا تکرار ہوئی جن سے بچا جاسکتا تھا، تاکہ موضوع بھی مکمل رہتا اور وقت کے اندر گفتگو ختم بھی ہوجاتی۔ اسی طرح اسے دوسروں کو، ان کے تاثرات اپنے حوالے سے انکے نقد کو بھی سننا چاہیے کہ بسا اوقات ہماری اپنی آنکھیں وہ سب نہیں دیکھ پاتیں جو ہمیں دیکھنا چاہیے ہوتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply