کرایہ دار ۔ گھر داماد ۔۔۔۔۔فہد احمد

گزشتہ چند روز  سے   عرفان صدیقی  صاحب کی گرفتاری کا چرچہ ہے اور شنید ہے کہ

کیس کرایہ داری وغیرہ کا ہے ، مخالفین و حامیوں کے جانب سے کیے جانے والے  الزامات و  اس کے سیاسی محرکات سے قطع نظر ، یہ واقعہ میں قابل مذمت سمجھتا ہوں۔  آپ سوچ رہے ہوں کہ شودے گھر  جوائی کا اس صدیقی صاحب سے کیا لینا دینا  ؟   اس کا  خلاصہ اگلی سطور میں کرتے  ہیں۔

کچھ احباب کے نزدیک  یہ گرفتاری آوٹ آف وےکی گئی  ہے ۔  جبکہ یہ روٹین کی کاروائی ہے ، آپ سوال کر سکتے ہیں روٹین کی کاروائی کس طرح ؟ کیا  یہ ان موصوف سے امتیازی سلوک ہوا ہے ؟

تو عرض ہے کہ اس قانون کا اطلاق سختی سے پچھلےکچھ عرصے میں ہو رہا ہے ، دہشت گردی کے خطرات و فراڈ وغیرہ کے پیش نظر یہ قانون پیش کیا گیا اور اس کے تحت کاروائیاں کی جاتی رہی ہیں ، جس کے مثبت ثمرات کے ساتھ منفی پہلو بھی اجاگر ہوئے ہیں ۔

جن پہ میں خودحیران ہوں کہ اتنا عرصہ کیوں بات نہیں کی گئی، شاید اس لیے کہ متاثرین عام غریب لوگ تھے ۔

ایسا ہی ایک واقعہ کچھ عرصہ  قبل ایک عزیز کےساتھ ہوا ، یہ عزیز غریب انسان ہیں، اپنی زوجہ کے ساتھ  اپنی  ساس کے دیے گئے ایک گھر میں رہائش پذیر تھے ،  جو انکی ساس کو وراثت میں ملا  تھا، خاندانی نظام کی وجہ سے بھائیوں سے کاغذات طلبی کی نوبت نہیں  آئی تھی کبھی، ایسے میں انکے محلے میں سرچ آپریشن ہوا، پولیس افسران پہ مشتمل ٹیم انکے پاس بھی پہنچی،  دونوں میاں بیوی اَن پڑھ  ہونے کی وجہ سے اور کچھ پولیس کی روایتی دہشت کی وجہ سے خوف زدہ ہو گئے ، پولیس کے سوالات و کاغذات کی طلبی پر یہ کہا گیا کہ ہم  اپنی والدہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں مگر اہلکار کاغذات دکھانے پہ بضد رہے ،  جو بر موقع دستیاب نہیں تھے، محلے والوں کی گواہی و مقامی پولیس افسران کی گواہی کو بھی نظر انداز کیا گیا،  ایسے میں شوہر کو گرفتار کر کے تھانےلے جایا گیا، ان صاحب کے دیگر عزیز اقارب کو پتہ لگا تو تب تک انکا ریکارڈ بھیجا جا چکا تھا ، انکی ساس کے کہنے کے باوجود کسی قسم کے تعاون سے انکار کیا جاتا رہا،  جس پہ تعلقات استعمال کیے جانے پہ اتنی  سہولت دی گئی کہ موصوف کو تھانے میں مار پیٹ  سے بچا لیا گیا، انکے خاندان نے اسی رات کاغذات وغیرہ  مکمل کیے اگلی صبح عدالت پیش کیا گیا، کرایہ داری ایکٹ کے تحت دفعات لگا کر بھاری جرمانہ کیا گیا جس کی ادائیگی کے بعد رہائی تو ہو گئی مگر ایک رات  و دن انکے اہل خانہ نے پریشانی میں جاگ کر گزارا، تعلقات استعمال نہ کیے جاتے تو عین ممکن تھا کہ دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ ہو سکتا تھا۔

یہ صاحب  گھر تو  واپس آگئے مگر  کہانیاں جو ہر زبان زدِ  عام ہوئیں محلہ داری میں ہونے والی ذلت و لوگوں کی باتیں کہ  فلاں کے گھر پولیس  گھس گئی سے تنگ ا ٓ کر گھر چھوڑ گئے ۔

ازراہ  مذاق اکثر سناتے ہیں کہ،  مرو اتنا تو میں گھر جوائی بن کہ ذلیل نہیں ہوا تھا جتنا اس دن ہو گیا۔

قوانین کے مطابق ہر کرائے دار کو پولیس سٹیشن میں رجسٹر کرانے و کرایہ نامہ کی قانونی کاروائی کے علاوہ اگر اپکے اپنے عزیز و اقارب بھی اپکی  جگہ رہائش  پذیر ہیں تو انکو  بھی مکمل کاغذی کروای کرانا لازمی ہے  چاہے انہیں کرایہ دا ر کے طور پہ  ہی رجسٹر کرایا جائے ۔

قصہ مختصر کہ ایسے واقعات کے سدباب کے لیے بھی قانون سازی کی ضرورت ہے وہیں اس طرح کی کاروای سے پہلے مقامی پولیس کی انٹیلی جنس پہ بھروسہ کیا جا ےتو بھی شاید معاملات بہتر ہو سکتے تھے  ۔ہم وطن عزیز کی سکیورٹی صور ت حال کے پیش نظر ہنگامی صورت حال میں ہونے والے اقدامات کو سمجھتے ہیں لیکن وہیں اس بات کی امید کرتے ہیں کہ اہل اقتدار  حکام  اس متعلق عام عوام کو ہونے والی پریشانی سے بچانے کے لیئے لائحہ عمل بھی طے کریں۔کیوں کہ ہر شخص نہ  عرفان صدیقی صاحب کی طرح سیاسی و ذاتی تعلقات رکھتا ہے نہ اس غریب کی کوئی شنوائی  ہوتی ہے۔ خدارا  ہم عوام پہ رحم کیا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *