لو ہم نے دامن جھاڑ دیا/مہ ناز رحمن

احفاظ کا حلقہ ء احباب بے حد وسیع تھا، اس میں صحافی، شاعر، ادیب ،کرکٹر، ٹریڈ یونینسٹ اور سیاست دان سبھی شامل تھے۔احفاظ سے شادی کے بعد میں ان سب کی بھابھی بن گئی تھی۔پاکستان کے علاوہ بیرون ملک مقیم ان دوستوں میں سے ایک اشفاق حسین بھی تھے۔جن کی فیض صاحب سے محبت کا ثبوت کئی کتابوں کی شکل میں سامنے آچکا ہے۔یعنی اشفاق سخن ور ہی نہیں،فیض اور فراز جیسے سینئر شعرا کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کے عاشق بھی ہیں اور اس کاعملی ثبوت بھی دیتے ہیں۔ان کی کلیات کے بارے میں لکھنے سے پہلے مجھے ان کا ایک مضمون یاد آگیاجس میں انہوں نے فراز کے آخری ایام کے ایک بیرون ملک دورے میں اپنے گھر میں ان کے قیام کے دوران ان کی دیکھ بھال کا ذکر کیا تھا۔میں تو خودغرضی اور بے ادبی کے اس دور میں اسے ادب اور احترام کی ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھتی ہوں۔اپریل 2020میں احفاظ کی وفات کے بعد اشفاق جتنی مرتبہ اپنی کسی نئی کتاب کے ساتھ کراچی آئے تو شہناز احد اور مجاہد بریلوی کی وساطت سے ان سے ملاقات بھی ہوئی اور اور پریس کلب یا آرٹس کونسل میں ان کی نئی کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت بھی کی۔ اس مرتبہ آرٹس کونسل کی عالمی اردو کانفرنس میں انہوں نے اپنی کلیات تھمائی تو سوچا کہ اتنا عرصہ بعد اب ڈیولپمنٹ اور ایڈوکیسی کے جھنجھٹ سے آزاد ہوئی ہوں تو کیوں نہ ان کی شاعری کے بارے میں لکھنے کی جسارت کی جائے۔لیکن جیسے ہی لکھنے کا سوچتی ہوں کوئی نہ کوئی اور بات ان کے اور احفاظ کے دوستوں کے بارے میں یاد آ جاتی ہے۔ جیسے پاکستان کے بارے میں جون ایلیا کا جملہ یاد آ رہا ہے ‘‘یہ سب علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی’’۔اسی طرح کراچی میں دنیائے شعر و ادب اور طلبہ سیاست کے ہنگامے بھی ان ہی جیسے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنیوالے گھرانوں کے ‘‘لونڈوں’’کی بدولت تھے۔لوئر مڈل اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ان لڑکوں نے دنیا ئے شعر و ادب میں اپنی ذہانت اور قابلیت کا سکہ جمایا۔خیر اس وقت ذکر ہو رہا ہے، اشفاق کی کلیات کاـ‘‘لو ہم نے دامن جھاڑ دیا’’، جو ان کا آدھی صدی سے کچھ زیادہ عرصہ کا تخلیقی سرمایہ ہے۔احفاظ اور دیگر کی طرح ‘‘ان کا بچپن بھی کراچی کی ایک کچی آبادی میں گزرا۔پیلے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی،گندی گلیوں میں دھوپ کا دامن تھامے ہوئے،محلے کے لڑکوں کے ساتھ ننگے پاؤں بھاگنا دوڑنااور گھر والوں کے ساتھ روکھی سوکھی روٹی کھا کراطمینان کی چادر اوڑھ کر ،انہوں نے چین سے رات بھر سونااور خوش رہنا سیکھا۔’’
اس دور کے بہت سے طلبا کی طرح وہ بھی بائیں بازو کی طلبا تحریک سے متاثر ہوئے۔ان کے نو جوان دل میں بھٹو صاحب سے بے پناہ محبت کی چنگاری اسی زمانے میں شعلہ بن کر بھڑکی۔پہلی بار اپنی نظم پیپلز پارٹی کے ایک جلسے میں ہی پڑھی تھی۔اسی زمانے میں ینگ رائٹرز فورم کا قیام عمل میں آیاجس کے حوالے سے میرے ذہن میں پہلا نام مجاہد بریلوی کا آتا ہے ، اشفاق حسین بھی اس تنظیم سے وابستہ ہو گئے تھے۔اس تنظیم کے سرپرستوں میں سبط حسن، فہمیدہ ریاض اور ڈاکٹر قمر عباس ندیم شامل تھے۔اس تنظیم نے ن م راشد کے ساتھ تقریب منعقد کی تو اس میں اشفاق کو ایک نوجوان شاعر کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا جسے وہ آج بھی اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔طالب علمی کا دور ختم ہونے کے بعد سوویت پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور آرٹس کونسل میں ملازمت کی اور پھر ضیا آمریت کی ہول ناکی نے ان کو بھی ہم میں سے بہت سوں کی طرح عارضی یا مستقل ہجرت پر مجبور کر دیا۔اشفاق کے لئے یہ ایک طرح سے اپنے لئے پسپائی کا راستا اختیار کرنے کا عمل تھا۔
تلاش رزق بھی پیش نظر رہی لیکن
ہماری نقل مکانی میں ایک جبر بھی تھا
کلیات کی ابتدا میں 2001-2023کے دوران لکھی گئی غزلیں شامل ہیں۔ایک شعر پیش خدمت ہے:
وہ آئے، جس کی جیب میں دولت ہو درد کی
بازار عشق ہے یہاں مہنگائی چاہئیے
1980 -2000کے دوران لکھی گئی غزلوں میں سے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گی:
کیوں میری جڑیں جا کے زمیں سے نہیں ملتیں
گملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں
کس سے جنگ لڑیں گے، کس کو فتح کریں گے ہم
دشمن کے ہتھیار خود اپنے گھر سے نکلے ہیں
اک عمر چاہئیے کہ سمجھ میں وہ آ سکے
لیکن اب اتنا وقت بھلا کس کے پاس ہے
1971-1980میں لکھی گئی غزلوں کا ایک شعر ملاحظہ ہو
اس دور کی ہے یہ اک ضرورت
ہجرت کوئی سانحہ نہیں ہے
قطعات، رباعیات اور متفرقات میں سے پیش خدمت ہے:
اگر اک کافرہ کوڑا نہ پھینکے سرور دیں پر
تو نبیوں کے نبی اس کی عیادت کو چلے جائیں
وہ سنت تو پیمبر کی تھی لیکن تم سمجھتے ہو
کہ اک کافر کو ماریں اور جنت کو چلے جائیں
میری پیاری شاگرد اور دوست ڈاکٹر شہناز شورو کے بقول ‘ اردو شاعری میں اس وقت بہت کم ایسے شعرا ہیں جن کے پاس ادبی ثقافت،بردباری اور تہذیبی رکھ رکھاؤ، جو کہ اردو شاعری کا ایک دل نواز سرمایہ ہے اور بلاشبہ اشفاق حسین ان میں سے ایک ہیں۔ان کے پاس ادبی روایات کا تسلسل بھی ہے اور علم مجلسی کی دل ربائی بھی۔’

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply