کارل مارکس نے صحافت کے بارے میں بہت خوبصورت بات کی ہے کہ صحافت اس اطلاع کا نام نہیں کہ فلاں انسان مر گیا بلکہ صحافت اس اعلان کا نام ہے کہ یہاں کوئی مرنے والا ہے۔ہمارے صحافی بھائی اب اس کی الٹی سمت چلنے کو اصلی تے وڈی صحافت سمجھتے اور جانتے ہیں اور لطیفہ بازی کو ہی اپنا ہنر سمجھتے ہیں۔ اپنے ہاں ان کے علاوہ ہمیں آئے دن نئے نئے سیاسی لطیفے سننے کو ملتے ہیں۔جو لطیفے سنا رہے ہوتے ہیں اصل میں وہ خود بھی ایک لطیفہ ہی ہوتے ہیں۔ویسے لطیفے کے لفظ پر غور کرنا چاہیے کہ اس لفظ کا مادہ کیا ہے اور لطیفہ کیوں خلق کیا جاتا ہے۔لطیفہ تخلیق کرنے والا حد درجہ چالاک آدمی ہوتا ہے اور وہ کئی اینگلز کو مدنظر رکھتا ہے۔
سیاست دانوں سے بھری بس سڑک سے قلابازیاں کھاتی ہوئی ایک درخت سے ٹکرا بالاخر ایک غریب کسان کے کھیت میں الٹ گئی۔غریب کسان نے ان سیاست دانوں کی حالت دیکھی اور ان پر رحم کھاتے ایک اجتماعی قبر کھودی اور ذاتی بیلچے کی مدد سے ایک ایک سیاست دان کو احترام کے ساتھ اس قبر میں دفن کر دیا۔ایک ہفتے بعد پولیس کمشنر غریب کسان کے ہاں پوچھ گچھ کے لیے آیا اور کہا مجھے اطلاع ملی ہے کہ جو سیاست دان تم نے اجتماعی قبر میں دفن کیے ہیں ان میں کچھ زندہ تھے۔اے غریب کسان تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہو گے۔کسان نے کہا ان میں سے بہت سارے یک زبان ہو کر کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں مگر کمشنر تم تو جانتے ہو یہ سیاست دان بہت جھوٹ بولتے ہیں۔
ایک ڈاکو نے ایک دفعہ ایک امریکی کانگریس مین کو گھیر لیا اور خنجر اس کی پسلیوں سے لگاتے ہوئے حکم دیا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے میرے حوالے کر دو۔کانگریس مین کافی ہشیار آدمی تھا اس نے کہا تم مجھے جانتے نہیں ہو میں ایک سیاست دان ہوں۔ڈاکو نے ہنستے ہوئے کہا پھر تو تم مجھے میری رقم واپس کرو گے۔نکالو۔
ایک سردار صاحب کافی عرصے سے یو پی میں رہ رہے تھے اور وہیں ان کی کسی سے دوستی ہو گئی۔انہی دوست کے بیٹے سے سردار صاحب کی بہن سرجیت کور سے شادی ہو گئی۔سرجیت کور اسی ماحول میں رچ بس گئی۔اب اس کا خیال تھا کہ اپنی بیٹی کی بھی شادی بھی وہیں کریں گی۔دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ مائیکے کے سرداروں سے دور ہی بھلے۔بیٹی کا بر دیکھنا شروع کیا تو کسی طرح خبر ان کے مائیکے والوں کو بھی ہو گئی۔بچپن میں وریام سنگھ نے خالہ سرجیت کور کی بیٹی کو دیکھا ہوا تھا۔وریام سنگھ کی والدہ نے اپنی بہن سے رشتہ مانگا اور کہا کہ میں چند دنوں کے لیے وریام کو آپ کے پاس بھجوا دیتی ہوں۔آپ بھی اس کو دیکھ لیں واہگرو کی کرپا سے وریام آپ کو پسند آ جائے گا۔یوں ہم بچپن کی بچھڑی دو بہنیں پھر اکٹھی بیٹھ سکیں گے۔وریام جھٹ تیار ہو گیا۔تھا تو سردار ہی۔انجانی خوشی سے بے حال ہو ہو جا رہا تھا۔اس کی ماں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہماری تہذیب اور ہے اور خالہ سرجیت کا رہن سہن اداب آداب اور ہو گیا ہے۔وہاں جا کر آداب و تسلیمات گزارنے ہیں اور جی ابا حضور جی امی حضور کہنا ہے۔آداب عرض ہے کو تکیہ کلام بنا لو اور اپنے ہونے والے ساس سسر کو آداب آداب کہنا ہے۔وریام سنگھ ریلوے اسٹیشن پر اترا اور سسر کو ملتے ہی آداب چچا حضور کہا۔ابھی اس حملے سے سسر صاحب سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ اس نے دل میں سوچا وریامیا سس نوں سلام نہیں کرنا۔وریام آگے بڑھا اور ساس کے سامنے آداب بجا لایا اور آداب خالہ اماں کا فائر کھول دیا۔اب سسر ساس تو وارے نیارے ہو رہے تھے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ساس آگے بڑھی وریام کا ماتھا چوما اور کہا میں تو ڈر رہی تھی لیکن آپ کے عادات ِشریفہ اور آداب ِمکالمہ دیکھ کر تو میں نہال ہو گئی۔اتنی اچھی زبان اتنا اچھا شین کاف۔ایسے آداب کیا کہنے کیا کہنے۔سردار کا اندر والا سردار انگڑائی لے کر بیدار ہوا جھٹ بولا یہ تو کچھ بھی نہیں آپ کی آنکھیں تو اس وقت پھٹیں گی جب میں میٹھے دودھ آلی کھیر کو سویٹ ڈش کہوں گا۔
یہاں بھی چار عشروں سے مسلسل آواز آ رہی ہے کہ ہم شبانہ روز محنت کر کے ملک و قوم کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جائیں گے۔یہ دودھ والی کھیر کو سویٹ ڈش کہنا ہی تو ہے۔
سعادت حسن منٹو کے شاھکار افسانے ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’ کا پاگل سکھ کردار بشن سنگھ چند بے معنی اور بے ربط لفظوں پر مشتمل ایک جملہ بولتا ہے اور افسانہ میں یہ تین چار مرتبہ ادا کیا گیا ہے۔ قاری اس جملہ سے افسانے کے پس منظر میں بہت محظوظ ہوتا ہے۔ اس جملے کو آج کے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں پڑھیں اس کا ایک ایک لفظ نئی معنویت اور جہت لئے ہوئے ہے۔
اوپر دی گڑ گڑ،دی اینکس ، دی بے دھیانا ، دی مونگ دی دال ، آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان۔ سنا ہے کہ جب بھارتی مصنف ، صحافی اور سیاست دان ششی تھرور لندن کی مین سڑک پر بڑی بڑی عمارتوں کے سامنے سے گزرا تو کہا ” یہ سب عمارتیں ہندوستان سے لوٹے ہوے پیسے سے بنی تھی “۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر مالیہ کئی گناہ بڑھا دیا تھا۔ بنگال کے آخری مقامی ہندوستانی حکمران نے سترہ سو چونسٹھ میں آٹھ لاکھ سترہ ہزار پاؤنڈ مالیہ وصول کیا تھا جو اگلے سال کمپنی نے ڈبل یعنی سترہ سو پنسٹھ میں چودہ لاکھ ستر ہزار پاؤنڈ وصول کیا اور بعد ازاں لارڈ کارن وولز نے سترہ سو ترانوے میں چونتیس لاکھ پاؤنڈ تک پہنچا دیا ۔ کمپنی نے بھاری رشوتوں اور بہتوں کی صورت میں خوب مال اکٹھا کیا۔ اس کے نتیجے میں سترہ سو ستر میں خوفناک قحط برپا ہوا اور کمپنی نے اپنے ایک مراسلے میں لکھا کہ بنگال کی ایک تہائی آبادی ہلاک ہو گئی ہے ۔
یہ اس لوٹ مار کی ہلکی سی جھلک ہے جو برطانیہ نے ہندوستان میں کی۔دنیا کو مہذب بنانے کے زمرے میں ” سونے کی چڑیا ” سے بہتر اور کون ہو سکتا تھا ۔ مارکس نے بالکل ٹھیک تجزیہ کیا تھا کہ سرمایہ داری نظام میں ایک قوم دوسری قوم کے استحصال سے جبکہ ایک فرد دوسرے فرد کے استحصال سے دولت مند بنتا ہے۔اب آپ سے کیا پردہ یہاں بھی پاکستان کو “سونے کی چڑیا” سمجھنے والے اور میٹھے دودھ والی کھیر کو “سویٹ ڈش” کہنے والے اکثریت میں ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں