شمس الرحمٰن فاروقی ممتاز شاعر، ناول نگار، مترجم، منفر د دانشور اور نقاد کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں لیکن” شب خون “کے ابتدائی زمانے میں یہ محض شاعر تسلیم کیے جانے لگے تھے ۔ ”گنجِ سوختہ“ کی اشاعت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ غزلیں اور نظمیں کہنے کا یہ بھی ایک اسلوب ہے اور جب فاروقی صاحب کا چوتھا شعری مجموعہ ”آسماں محراب “آیا تو اندازہ ہوا کہ ان کا اسلوبِ شاعری ہمارے دور کے عمومی اسلوب سے نہ صرف یہ کہ مختلف ہے بلکہ اپنے اندر بڑی تازگی رکھتا ہے۔ اس مجموعہ میں فاروقی صاحب کا وہ مشہور شہر آشوب بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ہماری سوسائٹی کے مختلف قسم کے ریاکاروں کے علاوہ ان استادوں کو طنز کا نشانہ بنایا جو اپنے گھٹیا مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اپنے شاگردوں کی ذہنی تربیت کرنے کے بجائے ان کی عزتِ نفس کا استحصال کرتے رہتے ہیں اور انہیں منافقت، چاپلوسی، خوشامد اور حاشیہ نشینی کافن سکھاتے ہیں۔
ہمارے ادب میں شمس الرحمٰن فاروقی کا اصل جو ہر اس وقت اور نمایاں ہوا جب ان کے نثری کارنامے تیزی سے منظر عام پر آنے لگے ۔جن میں” لفظ و معنی ، شعر، غیر شعر اور نثر، تنقیدی افکار، اثبات و نفی، انداز گفتگو کیا ہے، فاروقی کے تبصرے اور دوسری کتابوں“ سے یہ ثابت ہو گیا کہ شمس الرحمٰن فاروقی جہاں ایک طرف مغربی ادبیات کے شناور ہیں وہیں مشرقی کلاسیکی روایت کے امین بھی ہیں۔ وہ نہ تو مغرب سے بیزار ہوئے اور نہ انہوں نے مشرق سے حذر کی راہ اختیار کی ۔ ان کے علم کی ہمہ جہتی کا اس سے اندازہ لگائیے کہ وہ معانی و بیان عروض و آہنگ کی ترتیب ِنو میں منہمک رہے اور اس طرح طالبانِ فن کو فرسودہ مثالوں اور تعریفوں سے انھوں نے نجات دلا دی۔ یہی نہیں انہوں نے ”پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے“ جس بحر میں کہا گیا ہے اس کے بارے میں یہ بتایا کہ اس بحر کو میر نے عام کیا اور اسے نہایت کامیابی اور تنوع کے ساتھ برتا اس لیے اسے ”بحر ِمیر“ کا نام دیا جانا چاہیے ۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے جب ارسطو کی ”بوطیقا“ کا شعریات کے نام سے ترجمہ کیا تو کہا جاتا ہے کہ ارسطو کا صحیح مافی الضمیر اور مفہوم سامنے آیا۔ میرا محتاط اندازہ ہے کہ انگریزی، فارسی اور اردو کی شاید ہی کوئی کلاسیکی کتاب ہو جو فاروقی صاحب کی نظر سے نہ گزری ہو اور انھوں نے اپنی اُفتادِ طبع کے مطابق اس کا تجزیہ نہ کیا ہو اور یہی وجہ ہے کہ ان کے نظریات پامال راستوں سے ہٹ کر مرتب ہوئے۔ اور یہ حقیقت ہم سب پر روشن ہے کہ ادبی دنیا میں ان کے نظریات کو اعتبار حاصل ہوا۔ جیسے داغ کے وسیلے سے اقبال، غالب تک پہنچے ، فاروقی صاحب بھی تفہیم غالب سے میرؔ کے ”شعرِ شور انگیز“ تک پہنچے۔ ان کی کتاب ” شعرِ شور انگیز“ تین ہزار صفحات اور چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ اسے پڑھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے احساس ، فکر ،تخیل اور علم کے ارتباط ِباہمی نے فن کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ ” شعرِ شور انگیز ”میں ان کے مطالعے کا کینوس مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوا ہے اور اس کتاب سے انھوں نے میرؔ کو اس طرح آئینہ کیا ہے کہ اس میں اردو کے ہر بڑے شاعر کا عکس صاف نظر آتا ہے ۔ وہ جب میرؔ کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں تو صرف
اُردو ہی نہیں بلکہ فارسی اور انگریزی شاعری کی روایات بھی ان کے سامنے رہتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میر ؔکے زمانے میں الفاظ کا جو محل استعمال ہوا کرتا تھا اس کو بھی وہ پیش ِنظر رکھتے ہیں اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ان کے ماحول سے کبھی کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے ۔
شمس الرحمٰن فاروقی ”شعرِ شور انگیز “کو انتخاب میرؔ کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن یہ کتاب انتخاب کی اصطلاح سے ماورا ہے۔ اس پر کلاسیکی زبان کے ایک لفظ” شرح“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ خود انھوں نے ”شعر شور انگیز“ کے مقدمہ میں شرح نویسی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ہمارے یہاں شرحوں کا عام چلن رہا ہے ۔ غالب کو دیکھیے ۔ حالی ؔسے لے کر موجودہ دور تک ان کے اشعار کی بہت سی شرحیں لکھی گئیں ہیں ۔ شرح نویسی کی اس روایت کو فاروقی نے اس طرح توانائی بخشی کہ خود شرح کا مفہوم بدل دیا ۔ یہی نہیں بلکہ کبھی بھی تو ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے خود شاعر اپنے اشعار کی وضاحت کر رہا ہو ۔ شاعری کے بارے میں بعض نقادوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شعر کا مفہوم بطن ِشاعر میں مضمر رہتا ہے۔ یعنی اچھے شعر کی توضیح کما حقہ نہیں کی جاسکتی ۔شمس الرحمٰن نے “شعر شور انگیز” میں میرؔ کے ان حالات و کیفیات تک پہنچنے کی کوشش کی ہے جو شعر کی تشکیل ، تعمیر اور تخلیق کے وقت میرؔ پر طاری تھے۔ اسی لیے اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہم میرؔ سے اور قریب ہو جاتے ہیں اور اُن کی معنویت ہم پر اور روشن ہو جاتی ہے۔ ”شعر شور انگیز“ کے قارئین کے مبلغ علم کا حق ہے کہ وہ فاروقی صاحب کی توضیحات سے اتفاق نہ کریں ،لیکن اس حقیقت کو فراموش کرنا ممکن نہیں کہ ان کی دس برس سے زائد کی ریاضت اور محنتِ شاقہ کا سب سے بڑا حاصل یہ ہے کہ معنویت کے نئے باب کھل گئے۔ اور یہ ایسی ادبی خدمت ہے جس کی اس دور میں نظیر نہیں ۔ عام طور میر ؔکو سہل الحصول سمجھا جاتا ہے، کم از کم غالبؔ کے مقابلے میں میرؔ کو سمجھنا آسان معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ میر ؔنے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے، جس طرح انھوں نے لفظوں کو ترکیبوں اور بندشوں میں قید کیا ہے، اس کی تفہیم آسان نہیں بلکہ یہ جوئے شیر کا درجہ اختیار کر لیتی ہے لیکن ”شعر شور انگیز“ میں جوئے شیر بہا دیا گیا ہے۔ یہ وہ جوئے شیر ہے جس میں غواص ِمعانی کو ہر بار نئے موتی ہاتھ لگتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے سرشاری کے بہت سے مقامات آتے ہیں، ایسے مقامات بھی جہاں احتیاط کے بند ٹوٹ جاتے ہیں۔ ” شعر شور انگیز“ایک ایسا کارنامہ جو میر کی طرح شمس الرحمٰن فاروقی کے نام کو بہت دور مستقبل تک محیط کرنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں