بینکاری وہ شعبہ ہے جس میں آ کر کامیاب آدمی بھی افتخار جالب ہو جاتا ہے اور جمیل الدین عالی کو بینک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ کر بھی اپنی پہچان دوہا جیسی صنف ِادب بتانی پڑتی ہے۔اوروں کا ذکر کیا ہم خود بینک میں آنے سے پہلے اچھی خاصی غزل کی مشق کیا کرتے تھے نظمِ آزاد لکھنے لگ گئے۔
تنقید نگاروں کو بینک میں جاب کرنی پڑے تو وہ آڈٹ کے شعبے میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ آڈٹ والوں کا کام ہی غلطیاں پکڑنا ہے۔ بینک میں رہ کر اگر کوئی شاعر شعر بچا پایا ہے تو وہ افتخار عارف ہے۔جب شعر بچا لیا تو آغا حسن عابدی کا بینک ڈوب گیا۔ آغا حسن عابدی کے بینک کے انجام کے بعد کسی بینک نے کسی شاعر کو گھاس نہیں ڈالی۔اسی لیے تو اب بینکرز شعرا میں افتخار عارف کے سے کلام کی تاثیر بھی نہیں۔
لینن نے تو خدا کے حضور بھی بینکوں کی شکایت لگا دی تھی
رعنائی تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بینکوں کی عمارات
پتہ چلا لینن کے زمانے میں بھی بینک زیادہ برانچیں کھولنے کے عادی تھے۔ لینن اگر خدا کے حضور بینکاروں کے شکایت لگاتا تو لسانی تشکیل کرنے والوں کے خلاف لگاتا۔بس نثری نظم والے اقبال کے اس شعر کے پہلے مصرع کو کچھ اچھا نہیں سمجھتے۔اقبال ساجد اگر بینک میں ملازم ہوتے تو جمیل الدین عالی اور افتخار جالب سے دو دو ہاتھ کرتے۔آخر انہوں نے فراق، فیض اور فراز کو بھی تو پٹخنی دی تھی۔بینکر کبھی اچھا شاعر نہیں ہو سکتا یقین نہ آئے تو تنویر قاضی کی شاعری پڑھ لیں۔کلیات کی اشاعت کے بہت سارے مخفی فوائد بھی ہوتے ہیں اس کے بعد شاعر کی کوئی اور کتاب جو نہیں آنی ہوتی۔
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
اس مصرع کی پہلی خوبی یعنی قہاری بینک کے آڈیٹر میں پائی جاتی ہے وہ جب کسی برانچ کے آڈٹ کرنے پہنچتے ہیں تو ان کی آنکھیں قہاری کا مکمل نمونہ ہوتی ہیں۔
ہمارے محسن علی عباس زیدی بھی بینکر تھے ان کو دیکھ کر ہی مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ بینکوں میں نفیس لوگ بھی ڈھونڈنے سے مل ہی جاتے ہیں۔انہوں نے بینک والا حساب کتاب شاعری میں جاری رکھا اور شعر بھی گنتی کر کے کہا
رکھ رہا ہوں اپنے کار ِ خیر کا اک اک حساب
روز گن کر وردِ اللہ الصمد کرتا ہوں میں
بینک میں ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں شاعر نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور اگر ہوتے بھی ہیں تو جمیل الدین عالی اور افتخار جالب جیسے ہوتے ہیں۔ان دونوں کو شاعر شاعر نہیں مانتے اور بینکار بینکار نہیں مانتے اور مرتضیٰ برلاس کا شعر یہاں بھی فِٹ بیٹھتا ہے ۔اگر فنون اور اوراق دو بینک ہوتے تو ان کے سیکورٹی چیف ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹر انور سدید ہوتے۔
بینکار کو اپنے آپ کو منوانے کے لیے ہمیشہ دوسرا شعبہ چننا پڑتا ہے۔
اگر کوئی نقاد بینک جوائن کر لے تو اس کے مضامین کے نام کچھ یوں ہوں گے
روپیہ اور مابعد جدیدیت اور
نثری نظم اور روپے کی گرتی ہوئی ساکھ
اور بھی کئی عنوان ہو سکتے ہیں۔ہم نے ساری زندگی بینک میں گزاری۔کسی شاعر نے آ کر اکاونٹ کھلولنے کا نہیں کہا سوائے شہزاد احمد کے۔ایک خدا کا نظام الاوقات ہے اور ایک بینکوں کا۔بینکوں کے نظام میں وقفہ نہیں ہوتا۔بینک میں طلوع و غروب کے الگ ہی اوقات مقرر ہیں۔مشتاق یوسفی ساری عمر بینک میں گزارنے کے بعد بھی ادیب ہو کر ہی ریٹائر ہوئے۔
بینکار کی سول سروس کے مقابلے میں وہی حیثیت ہے جو غزل کے مقابلے میں نثری نظم کی ہے۔
اگر حساب کتاب کا کوئی افسر ہو سکتا ہے تو وہ محتسب ہے۔کیا ذومعنی ادارہ ہے۔بھولا اگر شام کو گھر آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے بینکر اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بینکر نہیں کہتے۔ریاض مجید نے کسی بینکار دوست کی بینک میں سر تا پا غرقابی دیکھ کر ہی
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیا تھا اور آپ ہی رو بھی پڑا تھا۔
روس کے ٹکڑے ہوتے وقت اگر فیض زندہ ہوتے تو کبھی ” لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے” نہ لکھتے۔وہ کہتے لازم ہے کہ ہم کبھی نہیں دیکھیں گے۔
موت و حیات کا فلسفہ ہمیں بینک میں آ کر ہی معلوم ہوا کہ بینک کے اندر رہ کر معلوم ہوا
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام ِزندگی
ہے یہ شام ِزندگی صبح دوام ِزندگی
اگر ادبی پرچوں کے مدیران بینک میں ہوتے تو وہ بینک کو بہت بدنام کرتے آخر انہوں نے نثری نظمیں شائع کر کر کے پرچوں کا نام بھی تو نام ڈبویا ہے۔بینک میں بہت سفارش چلتی ہے ادب میں سفارش چلتی ہی نہیں یہاں خود نام بنانا پڑتا ہے۔
Laugh all the way to the bank
کا مطلب ہم بینک کا تمسخر اڑانا سمجھتے تھے۔ڈکشنری میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کا مطلب تیزی سے پیسہ بنانا ہے۔ویسے ڈکشنری کا لفظ بھی پنجابی لفظ ” دیکھن ” سے ماخوذ ہے۔
سب سے زیادہ شاعر محمکہ تعلیم میں ہوتے ہیں اسی لیے تعلیم کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔بینک اسی لیے ترقی کر رہے ہیں کہ وہاں ایک آدھ شاعر ہی پایا جاتا ہے۔حلقہ ارباب ذوق کو بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے تشبیہ دینا خوب سجتا ہے کہ دونوں جگہ مشورے بہت دیے جاتے ہیں۔بینکار پیسے پر گرتا ہے اور شاعر پیسے کے لیے بالکل ہی گر جاتا ہے ریڈیو پاکستان کے مشاعرے کا اعزازیہ اس کی عین شہادت ہے۔دو اور دو چار ہوتے ہیں اس کا پتہ یا بینکار کو ہوتا ہے یا شاعر کو کہ شاعر کے پاس ہوتے ہی دو چار ہیں۔
شاعر پر شعر نازل ہوتا ہے وہ غزل کہنے کے بعد اپنے پیٹی بھائیوں پر پر نازل ہو جاتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں