کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پراپیگنڈا کیا ہوتا ہے؟
کیا آپ. جانتے ہیں آپکو کیسے کنٹرول ککا جارہا ہے؟
کیا آپ. پراپیگنڈے کی سائنس سمجھنا چاہتے ہیں؟
کیا آپ خود کو. پراپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچانا چاہتے ہیں؟
اگر ان سوالات کے جواب “ہاں” میں ہیں تو یہ پوسٹ آپکے لیے ہے.
تحریر لمبی ہے اور قسط میں لکھنے سے تسلسل ٹوٹ برقرار نہیں رہتا.
آپکی آسانی کے لیے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے.
Summary And Key Takeaways From ” Age of Propaganda: The Everyday Use and Abuse of Persuasion” By Anthony R. Pratkanis
پارٹ 1
پراپیگنڈا ایک ایسا عمل ہے جو صدیوں سے مختلف انداز میں جاری ہے، اور ہمیشہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہا ہے۔ چاہے ہم جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، پراپیگنڈا ہماری سوچ، فیصلوں اور رویوں پر اثر ڈالتا ہے۔ “Age of Propaganda” آپ کو یہ سکھاتی ہے کہ پراپیگنڈا کیسے کام کرتا ہے، اس کے طریقے کیا ہیں، اور آپ کیسے اس سے بچ سکتے ہیں۔
مختصراً یہ کہ کتابAge of Propaganda کا مقصد یہ ہے کہ آپ پراپیگنڈے کے حربوں کو پہچان سکیں، ان کے اثرات کو سمجھ سکیں، اور بہتر فیصلے لینے کی مہارت حاصل کر سکیں۔
اس پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ایک چیز جاننا ضروری ہے.
Difference Between Persuasion
کتاب میں قائل کرنے (Persuasion) اور پراپیگنڈا کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے:
1. قائل کرنا (Persuasion):
قائل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں دلائل، حقائق اور منطقی باتوں کی بنیاد پر کسی کو اپنی بات ماننے پر راضی کیا جاتا ہے۔
2. پراپیگنڈا:
اس کے برعکس پراپیگنڈا جذباتی، مبہم، یکطرفہ اور من گھڑت انداز میں بات پیش کرتا ہے تاکہ آپ کی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔
کتاب کا مختصر خلاصہ
کتاب Age of Propaganda پڑھنے والوں کو اس بات سے سے آگاہ کرتی ہے کے معاشرے میں کیسے میڈیا، سیاستدان ، کمپنیاں اور مختلف ادارے پراپیگنڈا کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ یہ حربے انسانی نفسیات کو نشانہ بنا کر لوگوں کو متاثر کرنے، ان کی رائے تبدیل کرنے، اور انہیں مخصوص فیصلوں پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
کتاب کی تفصیلی سمری
کوشش کی ہے کہ اس سمری میں آپکو پراپیگنڈے کی سائنس اور ہر وہ چیز سمجھا سکوں جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہے.
عام طور پراپیگنڈا کو عام طور پر سیاست سے جوڑا جاتا ہے، جہاں طاقتور لوگ اپنی مرضی عوام پر نافذ کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ ڈکٹیٹرز اور زیادہ تر رہنما پراپیگنڈا اور قائل کرنے کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں تاکہ عوام کو اپنے مقاصد کے مطابق چلایا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی انسانی نفسیات کو متاثر کرکے ایک طریقہ ہے جو حقیقت کے بجائے ایک من گھڑت دنیا کا تصور پیدا کرتی ہے۔
لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ پراپیگنڈا صرف سیاست تک محدود نہیں ہے۔ کمپنیاں اور مختلف تنظیمیں روزانہ کی بنیاد پر پراپیگنڈا کا سہارا لیتی ہیں تاکہ ہمیں اپنی مرضی کے خلاف چیزیں خریدنے پر مجبور کریں یا ایسے گروہوں میں شامل کریں جو ہمارے فائدے کے بجائے نقصان دہ ہوں۔ مثال کے طور پر، مارکیٹنگ کمپینز ہمیں غیر ضروری چیزوں کی خریداری پر آمادہ کرتی ہیں، اور کبھی کبھی ہمیں نقصان دہ کلٹس کی طرف مائل کرتی ہیں۔
مثلاً، قائل کرنے PreSuasion میں ایک مؤقف اور اس کے مخالف دلائل کو پیش کرکے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ حقائق کی بنیاد پر ایک مضبوط فیصلہ کیا جا سکے۔ اس عمل میں، لوگ مختلف ذرائع سے معلومات کا موازنہ کرتے ہیں اور اپنی رائے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، بشرطیکہ ان کے سامنے معقول اور منطقی دلائل ہوں۔
دوسری طرف، پراپیگنڈا ایک ایسی تکنیک ہے جو عموماً حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے اور لوگوں کو ان کے حقیقی فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کتاب میں ان دونوں طریقوں کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہوئے، قارئین کو یہ سکھایا گیا ہے کہ وہ پراپیگنڈا کے اثرات کو کیسے کم کر سکتے ہیں اور ایک بہتر معاشرہ کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔
What is Propaganda?
پراپیگنڈا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں پیغام کو الجھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اسے سمجھے بغیر قبول کر لیں۔ اس کا مقصد کسی کو اپنے خیالات کا موقع دینا نہیں ہوتا، بلکہ ان کے دماغ کو چپکے سے قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔
پراپیگنڈا کرنے والا عام طور پر ایک خاص طریقے سے اپنے پیغام کو پیش کرتا ہے تاکہ لوگ حقیقت پر غور نہ کر سکیں۔ یہ تکنیک ایک طرح سے آپ کی توجہ اصل بات سے ہٹانے کا حربہ ہے۔
فرض کریں کہ آپ کو گوشت کا ایک پیکٹ دکھایا جاتا ہے جس پر لکھا ہو “75% lean ground beef”۔ زیادہ لوگ اسے خریدیں گے، چاہے وہی گوشت “25% fat” کے ساتھ ہو۔ اس طرح کے الفاظ ہمارے فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ایک چمکدار انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح پیٹرول پمپس پر “cash پر ڈسکاؤنٹ” لکھا ہوتا ہے لیکن اصل میں یہ کریڈٹ کارڈ چارج سے بچنے کا طریقہ ہوتا ہے۔
Why is Propaganda So Effective?
پراپیگنڈا کرنے والے کا مقصد ہوتا ہے کہ سامنے والے کو اتنا مشغول رکھا جائے کہ وہ اصل پیغام کی حقیقت پر غور نہ کر سکے۔
TV Ads (ٹی وی کے اشتہارات)
ٹی وی اشتہارات اس کی ایک زبردست مثال ہیں۔ جہاں رنگ برنگے نظارے ، میوزک، تیزی سے بدلتے مناظر اور مختلف عناصر استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ آپ کا دماغ الجھ جائے۔ آپ اشتہار کو پوری توجہ سے نہ بھی دیکھیں، تب بھی وہ آپ کے دماغ میں رہ جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کو کوئی اچھا Jingle یا رنگین ویڈیو یاد ہو جائے، تو آپ غیر شعوری طور پر اسی پروڈکٹ کو خرید لیں گے جب آپ بازار جائیں گے۔
پراپیگنڈا ہمیشہ دو چیزوں پر مبنی ہوتا ہے:
1. Source Credibility (پیغام دینے والے کی ساکھ)
پراپیگنڈا کرنے والے لوگ اکثر ایسے مشہور یا معزز افراد کا انتخاب کرتے ہیں جو عوام کو پسند ہوں۔
مثلاً مشہور کھلاڑی اکثر ناشتے کے سیریل کے اشتہاروں میں نظر آتے ہیں۔ ان کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر وہ صحت مند ناشتے کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کو بھی یہی کرنا چاہیے۔
2.Misleading Messages (گمراہ کن پیغامات)
پراپیگنڈا کے ذریعے آپ کو ایسی معلومات دی جاتی ہیں جو سچائی کو توڑ مروڑ کر آپ کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں، چاہے وہ حقیقت نہ ہوں۔
مثال کے طور پر، اسپرین کے ایک اشتہار میں دعویٰ کیا جاتا ہے: “ہماری کمپنی کی اسپرین سب سے تیز اثر کرتی ہے”۔
یہ دعویٰ سن کر آپ کو لگتا ہے کہ یہ برانڈ دوسروں سے بہتر ہے، لیکن حقیقت میں وہ یہ نہیں بتاتے کہ باقی برانڈز بھی تقریباً اسی طرح اور اتنی ہی تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ طریقہ پراپیگنڈا کا ایک عام حربہ ہے، جو معلومات کو جان بوجھ کر ادھورا یا مبہم چھوڑ دیتا ہے تاکہ صارف حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔
How Propaganda Tricks You
پراپیگنڈا کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کو ایک خاص خیال یا فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کرنا۔ چاہے وہ سچ ہو یا نہ ہو، ان کا مقصد صرف آپ کا دماغ قابو پانا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، ایک دوا کمپنی اس طرح کے اشتہارات بناتی ہے جو آپ کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کا پروڈکٹ سب سے بہتر ہے، چاہے حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو۔
پراپیگنڈا کرنے والا آپ کے دماغ میں آپ کی اجازت کے بغیر گھس کر آپ کے فیصلوں کو بدلتا ہے۔ یہ ایک حربہ ہے جو آپ کی توجہ، فیصلے اور سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
Understanding the Influence of Emotions and Persuasion
پراپیگنڈا صرف جھوٹ یا چالاک الفاظ کا ہنر نہیں؛ بلکہ یہ آپ کے جذبات اور سوچ پر اثر ڈال کر آپ کو اپنی طرف مائل کرتا ہے۔ پہلے ہم نے دیکھا کہ کیسے “source credibility” اور “misleading messages” کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اب ہم دو اور طریقے سمجھیں گے: persuasion اور emotions۔
Persuasion: How Our Minds Are Made Vulnerable
پراپیگنڈا کرنے والے ہمیں اس طرح قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا ذہن ان کے نظریے کو قبول کرنے کے لیے کمزور ہو جائے۔
Example: TV and Crime Stories
ٹی وی پر دکھائے جانے والے جرائم کے مناظر حقیقت سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، حقیقی زندگی میں جرائم ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر سے دُہری تعداد میں کم ہوتے ہیں۔
پھر بھی پراپیگنڈا کرنے والے ان مناظر کو میڈیا میں زیادہ دکھاتے ہیں تاکہ عوام کو منشیات کی جنگ، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے منصوبوں کی حمایت میں شامل کیا جا سکے اور ساتھ ہی معیشتی مسائل سے بھی توجہ ہٹائی جا سکے۔
Gun Companies (In USA)
گن بنانے والی کمپنیاں بھی اسی طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں۔ وہ گن کو ایک دفاعی آلے کے طور پر پیش کرتی ہیں، جیسے یہ آپ کو خطرناک دنیا سے محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔
Emotions: Decisions Made in the Heat of the Moment
جذبات: فوری فیصلوں کی نفسیات
پراپیگنڈا میں صرف منطق اور دلیل کا استعمال نہیں ہوتا؛ بلکہ جذبات کا بھی انتہائی مؤثر طریقے سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے تاکہ لوگ کسی خاص فیصلے یا عمل کے لیے آمادہ ہو سکیں۔
ریسرچرز Merrill Carl Smith اور Alan Gross نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک دلچسپ تجربہ کیا۔ اس تجربے میں کچھ افراد کو کہا گیا کہ وہ دوسرے کمرے میں بیٹھے لوگوں کو غلط جواب دینے پر جھٹکے دیں۔
یہ افراد اس عمل کے دوران زیادہ تر اس بات سے متاثر ہوئے کہ وہ کسی کو ذہنی دباؤ یا پریشانی میں ڈال رہے تھے۔ اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ جذباتی محرکات کسی بھی فیصلے کو آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب انہی افراد سے بعد میں کہا گیا کہ وہ Redwood Forest کے تحفظ کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کالز کریں، تو وہ تین گنا زیادہ جذبے سے اس کام کے لیے تیار ہو گئے۔
Redwood Forest:
یہ ایک مشہور قدرتی جنگل ہے جو امریکہ کے کیلیفورنیا میں واقع ہے۔ اس جنگل کا جنگلی ماحولیاتی نظام اور ہزاروں سال پرانے درخت عالمی سطح پر مشہور ہیں۔
یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ کس طرح جذبات، احساسات، اور مخصوص محرکات ہمارے فیصلوں اور رویے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اس تجربے سے بھی یہ ثابت ہوا کہ جذبات آپ کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ جب لوگ خوف یا احساسات میں ہوتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے فوری جذبات سے متاثر ہو کر فیصلے کرتے ہیں، بغیر نتائج کو جانچے۔
Role of Media And Entertainment in Propaganda
پراپیگنڈا کا سب سے طاقتور ہتھیار میڈیا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا نہ صرف آپ کو مشغول کرتا ہے بلکہ آپ کی سوچ اور فیصلہ سازی کو محدود بھی کر دیتا ہے۔
میڈیا میں معلومات کی بھرمار (Media Overload)
ہر دن ہم مختلف قسم کی خبریں، تفریحی مواد اور دیگر پیغامات وصول کرتے ہیں۔ مگر ان میں سے اکثر پیغامات وضاحت سے خالی ہوتے ہیں اور آپ کی توجہ مختلف سمتوں میں مبہم طریقے سے موڑ دیتے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر خبریں، تفریح، اور مختلف موضوعات ہمارے سامنے آتے ہیں، مگر ان میں سچائی یا وضاحت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔
انٹرٹیمنٹ کا اثر (Effect of Entertainment)
میڈیا نے تفریح کو ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بنا دیا ہے، اور ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔
میڈیا میں خبریں اب محض معلومات کا ذریعہ نہیں؛ بلکہ وہ تفریح کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
مثال کے طور پر:
دہشت گردی کی خبریں
مشہور افراد کے اسکینڈلز
قتل و غارت کے واقعات واقعات
یہ سب لوگوں کے جذبات کو چالاکی سے قابو پاتے ہیں اور انہیں سننے کا عادی بنا دیتے ہیں۔
کیوں یہ اہم ہے؟ (Why This Matters)
میڈیا اور تفریح کی عادت نے لوگوں کو ایسی خبروں سے دور کر دیا ہے جو ان کے ذہن پر بوجھ ڈال سکتی ہیں۔
لوگ سنجیدہ یا اہم مسائل سے گریز کرتے ہیں کیونکہ وہ آسان اور تفریحی مواد کو ترجیح دیتے ہیں۔
تفریحی خبر یا آسان پیغامات ذہن کو کم پریشان کرتے ہیں۔
(Why People Prefer Simplicity in News)
میڈیا اکثر خبروں کو اتنا سادہ بنا دیتا ہے کہ ان میں کوئی سنجیدہ یا پیچیدہ بات باقی نہیں رہتی۔
1. ساؤنڈ بائٹس (Sound Bites)
یہ “Sound Bites” وہ مختصر جملے ہیں جو سیاستدان اور میڈیا عوام کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہوتا ہے:
لوگوں کو بار بار جملے سنوائیں اور اپنی ایجنڈے کا حصہ بنائیں لیکن ان جملوں کے اصل مقصد کو سمجھنے سے روکیں
مثلاً 1968 میں نِکسن نے کہا:
“We will achieve honorable peace through the Vietnam War”
(ہم ویتنام کی جنگ کے ذریعے باوقار امن حاصل کریں گے)
یہ جملہ بہت عام، مبہم اور وضاحت سے خالی تھا۔
اس جملے کی وضاحت ہر شخص نے اپنے نظریے کے مطابق کی اور بغیر سوچے سمجھے نکسن کا ساتھ دیا.
یاد رکھیں کہ اس طرح کے جملے لوگوں کے ذہنوں میں مختلف انداز میں سمجھنے کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔
میڈیا میں “تفریح” اور “خبر” کے ذریعے ہماری توجہ مختلف سمتوں میں موڑ دی جاتی ہے۔
تفریحی مواد میڈیا کے ذریعے ہمیں سنجیدہ مسائل سے دور رکھتا ہے۔
سادہ خبریں اور ساؤنڈ بائٹس لوگوں کے دماغوں میں سوالات کی وضاحت کے بغیر اثر ڈال دیتے ہیں۔
پراپیگنڈا جذبات، تفریح اور سادہ الفاظ کے ذریعے آپ کے دماغ کو قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔
1. Persuasion:
آپ کے دماغ کو کمزور بنا کر آپ سے اپنی بات منوانا۔
2. Emotions:
تاکہ آہ بغیر سوچے سمجھے آپ کے جذبات کی بنیاد پر فوری فیصلےکریں.
3. Entertainment:
میڈیا اور تفریح کے ذریعے آپ کی توجہ ہٹانا تاکہ آپ سنجیدہ باتوں پر غور نہ کریں۔
یہ سب چیزیں مل کر ہماری روزمرہ کی زندگی میں پراپیگنڈا کو ایک مؤثر ہتھیار بناتی ہیں۔ اگلی بار جب آپ میڈیا میں کچھ دیکھیں، تو غور سے سوچیں کہ کیا یہ آپ کی اپنی رائے ہے یا کسی کی چالاک چالاک باتوں کا اثر۔
پارٹ 2
How Propaganda Takes Advantage of Our Social and Rational Nature
پراپیگنڈا کرنے والے ہماری فطرت کے کمزوریوں کو جانتے ہیں اور انہی کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ہم سماجی طور پر تعلق بنانے کے خواہاں ہیں اور اپنی باتوں کو منطقی طور پر جواز دینے کی عادت رکھتے ہیں۔ پراپیگنڈا کرنے والے ہماری اسی انسانی فطرت کا استعمال کرکے ہم. پر. کنٹرول حاصل کرتے ہیں۔
1. How We Justify Our Behavior
ہم انسان بطور انسان ہمیشہ اپنی غلطیوں کو سمجھنے یا اپنی عادات کو تسلیم کرنے سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔
پراپیگنڈا کرنے والے اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ہمارے جواز دینے کے طریقے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
(سگریٹ نوشی کی مثال)
سگریٹ پینے والے اس بات کی ایک بڑی مثال ہیں۔
کیوں سگریٹ چھوڑنا مشکل ہوتا ہے؟
سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے کی کوشش کرنے والے اکثر ناکام ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے سگریٹ نوشی کے فیصلے کے لیے مختلف بہانے بنا لیتے ہیں۔
1. “سب میرے دوست بھی پیتے ہیں۔”
2. “میں خوشی کے لیے سگریٹ پیتا ہوں۔ میں چھوٹی مگر خوشگوار زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔”
3.”میں سگریٹ سے اپنی سٹریس کم کرتا ہوں.”
یہ طریقے انہیں اپنی عادت سے باہر نکلنے سے روک دیتے ہیں۔
سگریٹ بنانے والی کمپنیاں اسی چیز پر انحصار کرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر صارفین ایک بار اپنی عادت کو جواز بنا لیں، تو انہیں عادت سے باہر نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
2. The Grand Falloon: Creating Group Identities
پراپیگنڈا میں “گرینڈ فالون” (Grand Falloon) ایک مؤثر حربہ ہے جو گروپ کے افراد کے درمیان تعلق، حفاظت اور یکجہتی کا احساس پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
گرینڈ فالون کیا ہے؟
“گرینڈ فالون” ایک تکنیک ہے جس کے ذریعے کسی مخصوص گروپ کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب کیا جاتا ہے اور باہر کے افراد سے دور کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے گروپ کے ارکان میں مشترکہ شناخت اور اتحاد کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
گرینڈ فالون کیسے کام کرتا ہے؟
1. گروپ بنانا (Creating a Group)
لوگ کسی خاص نظریے، عقیدے، مقصد یا خیال کے مطابق ایک ساتھ آ جاتے ہیں۔
اس گروپ میں شمولیت کے ذریعے افراد کو ایک خاص شناخت اور مقصد کا احساس ہوتا ہے۔
2. باہر والوں سے دوری (Exclusion of Outsiders)
گروپ کے باہر کے افراد کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ان پر تنقید کی جاتی ہے۔
ان کے عزائم یا نظریات کو نقصان دہ یا غیر متعلقہ قرار دیا جاتا ہے۔
3. اتحاد اور حمایت (Unity and Support)
جب لوگ باہر والوں سے دور ہو جاتے ہیں اور ایک گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو ان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق، حفاظت اور مدد کا احساس بڑھتا ہے۔
یہ اتحاد انہیں خطرات سے بچانے اور ایک دوسرے کے لیے حمایت فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
نتیجہ
“گرینڈ فالون” کی تکنیک لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے، ان میں اتحاد پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ باہر والوں کے خلاف منفی جذبات بھی پیدا کر سکتی ہے۔
یہ طریقہ اکثر پراپیگنڈا کے ذریعے طاقت حاصل کرنے یا نظریاتی مخالفت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ Rush Limbaugh ایک مشہور امریکی میڈیا شخصیت ہیں، جنہوں نے Grand Falloon تکنیک کو بہت اچھی طرح سے استعمال کیا۔
وہ اپنے حامیوں کو “Ditto-heads” کہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو ان کی ہر بات کو بغیر سوال کیے مانتے ہیں۔
وہ مخالفوں کو بدترین طریقے سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
مثال کے طور پر، وہ لبرلز کو “stupid” کہتے ہیں۔
وہ دیگر اقلیتوں کو بھی منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔
یہ طریقہ افراد کو ایک گروپ کی حفاظت کے لیے باہر والوں کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ اس طریقے سے خوف، تنہائی، اور گروپ کی اہمیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
3. How War Uses Propaganda
پراپیگنڈا کا ایک اہم مقصد جنگ میں عوام کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ جنگ میں لوگوں کو خوف یا جذبات کے ذریعے قابو پانا ضروری ہوتا ہے تاکہ حکومت اپنے مقاصد کو حاصل کر سکے۔
How Propaganda Works in War
(جنگ میں پراپیگنڈا کیسے کام کرتا ہے؟)
جنگ میں عوام کو قائل کرنے کے لیے پراپیگنڈا استعمال کیا جاتا ہے۔
خوف یا جذبات پیدا کر کے عوام کو کسی جنگ کی حمایت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
(عراق جنگ کی مثال)
2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا۔
انہیں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بتایا گیا کہ “Saddam Hussein خطرہ ہے۔”
اس کے ذریعے خوف پیدا کیا گیا کہ اگر امریکہ نے حملہ نہ کیا تو یہ خطرہ امریکہ کے لیے سنگین ہو جائے گا۔
مزید یہ کہ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ عراق کی آزادی کے لیے مدد کر رہے ہیں، حالانکہ ہزاروں بے گناہ عراقی شہری اس جنگ میں ہلاک ہو گئے۔
Fear and Rationalization
(خوف اور جواز):
یہاں عوام نے اپنے خوف کو کم کرنے کے لیے یہ جواز بنایا کہ ان کا اقدام عراق کے عوام کے لیے مددگار تھا۔
4. Nazis and Propaganda
(نازیوں کا پراپیگنڈا حربہ)
پراپیگنڈا میں Grand Falloon کے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے دشمنوں کو بدنام کرنا بھی شامل ہے۔
یہودیوں کے خلاف پراپیگنڈا:
نازی جرمنی نے یہودیوں کو معاشی استحصال کرنے والے، مالی بددیانت افراد کے طور پر پیش کیا۔
ان کے جسمانی خصائص (جیسے سانولی رنگت، بڑی ناک) کو نشانہ بنایا گیا تاکہ معاشرت میں ان کے خلاف نفرت بڑھائی جا سکے۔
یہ طریقہ جنگ کے دوران عوام کو ایک دشمن کے خلاف متحد کرنے کا حربہ تھا۔
(ویت نام جنگ کی مثال)
ویت نام جنگ امریکی فوج کے لیے ایک سبق تھی۔
کیوں؟
جنگ کے دوران امریکی حکومت نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے جنگ جاری رکھی، صرف اس خوف سے کہ اگر وہ جنگ سے باہر نکل گئے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ غلط تھے۔
نتیجہ:
جنگ کا مقصد واضح طور پر ختم ہو چکا تھا۔
آخر کار، مقصد “جتنے کے لیے جنگ” بن چکا تھا۔
یہ جنگ پراپیگنڈا اور خوف کی بنیاد پر چلائی گئی، نہ کہ حقیقی مقصد کی بنا پر۔
How Cults Use Propaganda Techniques
فرقے (Cults) یا مخصوص گروپس بھی پراپیگنڈا کا استعمال کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کا حصہ بن سکیں۔
لوگ عام طور پر سوچتے ہیں کہ فرقے لوگوں کا دماغ جادو یا سحر کے ذریعے قابو پاتے ہیں،
لیکن حقیقت میں وہ بھی دیگر گروپوں کی طرح وہی پراپیگنڈا کی تکنیکیں استعمال کرتے ہیں۔ فرقے بھی آپ کے دماغ کو قابو پانے کے لیے خاص طریقے استعمال کرتے ہیں، جو آپ کو ان کے ساتھ جڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
مخصوص گروپس Cultsکے تین اہم حربے
فرقے نئے افراد کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے درج ذیل تین حربے استعمال کرتے ہیں:
یہ تینوں حربے لوگوں کو فرقے کے جال میں پھنسانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
1. Reciprocity (باہم شکر گزاری):
Reciprocity
اس کا مطلب ہے جب کوئی آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، تو آپ بھی اس کا بدلہ چکانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
یہ گروپس نئے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے آپ کو کوئی تحفہ یا اچھی چیز دیتے ہیں۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی سے ملنے والے اچھے سلوک یا تحفے کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔
اس وجہ سے یہ تحفہ آپ کے دماغ میں ایک احساس پیدا کرتا ہے کہ آپ ان کے قرضدار ہیں۔
مثلاً Hare Krishna کے پیروکار اور تبلیغ کرنے والے گروپس ہیں جو لوگوں کو ایک پھول یا تحفہ دے کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
جب آپ ان کا تحفہ قبول کرتے ہیں، تو آپ لاشعوری طور پر ان سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
2. Distraction
یہ گروپس آپ کی توجہ ان کے اصل مقاصد سے ہٹا دیتے ہیں۔
وہ آپ کو کسی سرگرمی میں مشغول کر دیتے ہیں تاکہ آپ غور سے ان کے مقاصد پر نہ سوچیں۔
کیسے؟
وہ آپ کے ساتھ خوشگوار سرگرمیاں یا چیزوں میں الجھا دیتے ہیں۔
اس سب میں وہ مسلسل آپ کے ساتھ رہتے ہیں تاکہ آپ کو اکیلا وقت نہ ملے اور آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا حصہ بن جائیں.
3. Self-Sell
اس کا مطلب ہے جب ایک بار جب آپ ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، تو آپ بھی ان ہی کے طریقے سے دوسرے لوگوں کو ان کے گروپ کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب آپ ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں، تو وہ آپ سے توقع کرتے ہیں کہ آپ بھی دوسرے افراد کو ان کا حصہ بنائیں۔
یہ ایک طرح سے ان کا طریقہ ہے کہ آپ کو مستقل طور پر ان کے ساتھ جڑ کر رکھیں۔
مخصوص گروپس Cults کا دوسرا حربہ:
Isolation
یہ گروپس Cults اپنے ارکان کو معاشرت سے دور کر دیتے ہیں تاکہ وہ ان پر مکمل انحصار کریں۔
کیوں الگ تھلگ کرتے ہیں؟
1. وہ نہیں چاہتے کہ آپ اپنے خاندان، دوستوں، یا معاشرے کے دیگر افراد سے بات چیت کریں۔
2. ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ صرف ان کے گروپ پر انحصار کریں۔
3. وہ آپ کو سکھاتے ہیں کہ باہر کے لوگ برے یا خطرناک ہیں۔
یہاں یہ Grand Falloon Technique استعمال کرتے ہیں جس سے فرقے مخصوص گروپوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں۔
وہ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے گروپ کے باہر کے لوگ خطرناک ہیں اور ان سے دور رہنا چاہیے۔
یہ الگ تھلگ کرنے یعنی Isolate کا طریقہ آپ کو دوسروں سے دور کر دیتا ہے، اور آپ ان پر مکمل طور پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔
Traits or Cult Leaders
فرقوں کے رہنما کے خصوصیات
فرقوں یا گروپوں کے رہنما عام طور پر بہت بات چیت کرنے والے، دلکش، اور اثر انداز کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ سے لوگوں کو بہکانے میں ماہر ہوتے ہیں اور اپنی باتوں سے لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیتے ہیں۔
ان کا طریقہ کار
1. اپنی برتری کے دلائل پیش کرنا: فرقوں کے رہنما اپنے عقائد یا گروپ کو دوسرے لوگوں سے بہتر اور اہم ثابت کرنے کے لیے دلائل دیتے ہیں۔
2. شخصی فوائد کا یقین دلانا: وہ یہ باور کرواتے ہیں کہ ان کے ساتھ جڑنا یا ان کی پیروی کرنا آپ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
3. مختلف وجوہات پیش کرنا: وہ آپ کو ان پر یقین دلانے کے لیے مختلف طریقے، دلیلیں، اور احساسات کا سہارا لیتے ہیں۔
منطق کے چکر کا پھندہ
جب آپ ان کے ساتھ جڑتے ہیں تو آپ ایک طرح کے “منطق کے چکر” میں پھنس جاتے ہیں۔
جتنا زیادہ آپ ان پر اعتماد کرتے ہیں، اتنا ہی آپ ان کے عقیدے یا باتوں کو درست ثابت کرنے کے لیے شدید اقدامات کرنے لگتے ہیں۔
یہ چکر آپ کو منطق سے دور کر دیتا ہے اور آپ کی سوچ کو محدود بنا دیتا ہے۔
یعنی، آپ جتنا زیادہ ان پر یقین رکھتے ہیں، اتنی زیادہ آپ ان کی باتوں کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے اس کا منطقی جواز نہ بھی ہو۔
یہ ایک ایسا نمونہ ہے جو لوگوں کو مسلسل مزید انتہاپسندانہ اور جذباتی فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
پراپیگنڈا سے بچنے کے طریقے
پراپیگنڈا آج کے دور میں ہمارے معاشرے کا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ہمارے روزمرہ کے فیصلوں، سوچ اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پراپیگنڈا کے اثرات سے بچنے کے لیے ہم کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟
1. بچوں کو پراپیگنڈا سے بچانے کی تعلیم دیں
بچوں کی نفسیات ابھی ترقی کے مراحل میں ہوتی ہے، اس لیے وہ پراپیگنڈا سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ انہیں پراپیگنڈا کے جھوٹے اثرات سے بچانے کے لیے والدین اور اساتذہ کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔
انہیں سچائی سمجھائیں: بچوں کو پراپیگنڈا کی حقیقت کے بارے میں آگاہ کریں۔
سوالات پوچھنے کی عادت ڈالیں: بچوں کو سوال کرنے کا طریقہ سکھائیں۔
مثلاً اگر کوئی اشتہار کہتا ہے:
“یہ کھلونا آپ کو خوشی دے گا”۔
اور بچہ اس کی فرمائش کرتا ہے جبکہ یہ اس کے لیے نقصان دہ ہے
تو آپ بچے سے سوال کریں:
“کیوں؟ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ کھلونا تمہیں خوشی دے گا؟
ایسی عادت بچوں میں منطق، تحقیق، اور سچائی کی طرف رجحان پیدا کرتی ہے، جو انہیں پراپیگنڈا سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے.
2. سیاستدانوں، میڈیا، اور کمپنیوں سے سوال کریں
پراپیگنڈا کا ایک بڑا ذریعہ سیاست، میڈیا، اور کاروباری کمپنیاں ہیں۔ ان کے بیانات یا اشتہاروں سے متاثر ہونے سے پہلے سچائی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
بیانات کے پیچھے حقیقت تلاش کریں: اگر کوئی سیاستدان یا میڈیا کوئی بات یا دعویٰ کرتا ہے، تو اس کی سچائی کو جانچیں۔
معلومات کا تجزیہ کریں: اگر وہ سچ بول رہے ہیں، تو ان سے مزید معلومات حاصل کریں یا خود جاننے کی کوشش کریں.
مثلاً : اگر کوئی سیاستدان یا میڈیا بیان دے،
“ہم آپ کے مسائل حل کریں گے”۔
تو آپ سوال پوچھیں:
“کیسے؟ کب؟ اور کس طرح؟
یہ عادت آپ کو بغیر سوچے سمجھے پراپیگنڈے کے جھانسے سے محفوظ رکھے گی۔
3. میڈیا کے پیغامات کا تنقیدی جائزہ لیں
میڈیا آج کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے، جس کے ذریعے پراپیگنڈا آسانی سے پھیلتا ہے۔ میڈیا کی خبر یا اشتہار دیکھتے ہوئے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں:
خبر کی حقیقت چیک کریں: خبریں یا اشتہارات دیکھ کر فوراً یقین نہ کریں۔
معلومات کے مختلف زاویے سمجھیں: ایک خبر یا بیان کو مختلف انداز سے سمجھنے کی کوشش کریں۔
4. معلومات اور آپکی نالج کو بڑھائیں
جو جتنا باشعور اور تعلیم یافتہ ہوگا، پراپیگنڈا سے بچنے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اس لیے:
تحقیق، سوالات اور دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں۔
5. سوشل میڈیا کے اثرات سے ہوشیار رہیں
آج کل سوشل میڈیا پراپیگنڈا پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس پر دھیان سے کام لینا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ یا خبر دیکھ کر فوراً یقین نہ کریں۔
حقائق کی تصدیق کے لیے مختلف ذرائع کا جائزہ لیں۔
اگر آپکو یہ پوسٹ پسند آئی یا اس سے کچھ سیکھنے کو ملا تو اسے دوسروں کے ساتھ لازمی شیئر کریں تاکہ کسی اور کو بھی اس سے سیکھنے کا موقع ملے.
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں