سُون ضلع کونسل رہاڑہ (آزادجموں کشمیر) میں ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہا ں آج بھی گاڑی کی سانس پھول جاتی ہے، اس کی چُولیں ہل جاتی ہیں اور گوڈے آواز دینا شروع کر دیتے ہیں۔سواروں کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں اور کمر دوہری ہو جاتی ہے۔مجھےتو جب تک پُشت پر لات نہ پڑے سیدھا ہی نہیں ہوا جاتا۔خدانخواستہ اس علاقے میں اگر پیدل جانا پڑ جائے تویقیناً آپ کو ایک عدد ‘ون سی ‘کے ڈیزل انجن کی ضرورت پڑے گی۔پھر آپ بے فکر ہو کر کوسٹر کی طرح دھواں اڑاتے ہوئے جائیں۔ لیکن خیال رہے ،کسی کھائی میں اتر گئے تو پہلے آپ کے حصے ، پُرزے جمع کرنا پڑیں گےپھر کرین منگوانا پڑے گی۔ یوں آپ کی آخری رسومات بہت مہنگی پڑ سکتی ہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ یہ خرچ آپ کے بچوں کے نئےآئی فون اور پاپڑ کے لیے بچا لیا جائے اور آپ کی باقیات پر مٹی ڈال دی جائے۔ لہٰذا جب نعیم صاحب نے اپنا سفر نامہ ” سر کوہ آدم” مجھے تھماتے ہوئے بتایا کہ کو ہ آدم کی اونچائی سات کلو میٹر ہے تو مجھے ذرا بھر حیرت نہیں ہوئی۔یقینا ً یہ سفر وہی کر سکتا ہے جسے سفر کے بعد سیدھا کرنے کے لیے لات کی ضرورت نہ پڑے۔نعیم صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جو پچھلے غالباً پینتیس سال سے نئی نسل کو سیدھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔حال ہی میں انہوں نےبلدیاتی الیکشن میں اپنے حریفوں کو بھی سیدھا کیا ہے۔ہاں، اس سے قبل کہ سیدھا ہونے والی یہ محترم اور عوامی شخصیات مجھے سیدھا کروا دیں، یہ وضاحت ضروری ہے کہ نعیم صاحب نے انہیں لات سے نہیں ووٹ سے سیدھا کیا ہے۔لیکن مجھے شک ہے کہ لفظ ‘سیدھا’ پر بھی اعتراض ہو سکتا ہے۔ (اور اندازہ کیجیے کہ جہاں ‘ سیدھا’ لکھنے پر بھی انسان خوفزدہ ہو وہاں کیا لکھا جائے گا؟)۔سو متذکرہ حقائق کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ نعیم صاحب نے ووٹ لے کر خود کو سیدھا کیا ہے۔ یا خود کو اپنے ووٹروں کے حوالے کیا ہے کہ وہ انہیں اگلے پانچ سال تک پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے رہیں۔وہ اب تک کتنے سیدھے ہوئے ہیں ، وہی بتا سکتے ہیں ۔ البتہ میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ پانچ سال بعد وہ کتنےسیدھےہو چکے ہوں گے۔جس کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔لیکن اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوہ آدم سر کرنے کے بعد وہ سیدھے ہو گئے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ آدم ؑ ہمارے باپ ضرور مگر اب یہ کام ان کے بس میں نہیں رہا۔ بوقت رخصتی یہ کام انہوں نے اپنے ان بچوں کے سپرد کر دیا تھاجنہیں ووٹر کہا جاتا ہے۔
رہاڑہ کے لوگ زمانہ قدیم سے انگلینڈ کے پڑھے لکھے اور جمہوری کلچر میں رہ رہے ہیں۔ جمہوریت میں ان کی نمائندگی کرنے والے بھی یقیناً تعلیم یافتہ لوگ ہوئے ہوں گے۔لیکن ان میں کوئی لکھنے والا نہیں تھا۔ سو اب کی بار انہوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی لکھنے والا ان کا نمائندہ ہو۔ لہٰذا نعیم صاحب اپنے مینڈیٹ کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں۔ جب سے کونسلر بنے ہیں پانچ کتابیں شائع کروا چکے ہیں۔ اتنے مختصر وقت میں اتنی خدمت کسی نے نہیں کی ہو گی۔ اب کی بار تو انہوں نے کمال ہی کر دیا۔ سری لنکا میں جس پہاڑ پر آدم ؑ اترے تھے، وہاں پہنچ کر انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ آدم ؑ کی اولاد میں سے ہیں۔ یوں ان کے شجرہ پر اگر کسی کو شک تھا تو وہ انہوں نے پہلی فرصت میں دور کر دیا۔اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ “سرِ کوہ آدمؑ” ڈارون تک پہنچا دی جائے۔لیکن غلطی سے وہ مجھے تھما گئے۔ انہوں نے میری صحت کے پیش نظر اندازہ کر لیا ہو گا کہ ‘راستے میں ہے’۔ لیکن میرا ابھی ڈارون سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
نعیم صاحب ایک استاد ہیں، دو سکولوں کے مالک وارث ہیں، ڈسٹرکٹ کونسلر ہیں، شاعر بھی، سیاح بھی ۔ مجھے ان کی ان حرکات و سکنات کا پتہ چلا تو خوشی بھی ہوئی ، افسوس بھی۔ خوشی ان کے پھلنے پھولنے پر اورافسوس اپنی نالائقی پر ہوا۔ ان کے سفر سیاحت کی غرض سے ہیں۔ میرے سفر روزی روٹی کی تلاش میں۔ روزی کی تلاش مجھے پہلے پہل لاہور لے گئی۔ جہاں میرے دوست یونس خان نے اسے گھیر رکھا تھا۔ اڑھائی سال بعد وہ کسی کے ساتھ بھاگ کر عرب امارات چلی گئی۔ مجھے اس کے پیچھے جانا پڑا۔25 سال بعد اچانک ایک دن غائب ہوگئی اور مجھے بھی نکلنا پڑا۔ سوا دو سال کشمیر میں اس کا پیچھا کیا، مگر ہاتھ نہ آئی۔ ایک دن پتہ چلا اب کی بار اس نے اماں حوا کے شہر جدہ میں پناہ لی ہے۔ سو پچھلے ایک ڈیڑ ھ ماہ سے میں جد ہ پہنچنے کی بھاگ دوڑ میں ہوں۔ اس لیے بال کالے کرنے کی فرصت ملتی ہے نہ کنگھا کرنے کی۔کتابوں کی خریداری نے جیب خالی کر دی۔مگر پڑھنے کاوقت نہیں ملتا۔ بس سامنے رکھ کر انہیں دیکھتا رہتا ہوں۔ “سرکوہ آدمؑ” بھی بلا ناغہ صبح شام دیکھتا ہوں۔ گاڑی میں رکھی ہے کہ جب فرصت ملی دیکھ لیا۔آپ کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ کالم کتاب پڑھ کر نہیں دیکھ کر لکھا گیا ہے۔ لیکن یقین جانیے یہ اوقات فرصت میں دل لگا کر پڑھنے لائق کتاب ہے۔ اور میں اسے پڑھوں گا۔ یورپ امریکہ کشمیر کے کئی ایک سفرنامے لکھے گئے۔ مگر سری لنکا اور خصوصاً کوہ آدم ؑ کا یہ پہلا سفرنامہ میری نظروں سے گزرا ہے۔ جو ایک منفرد سفر نامہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں؛
“کوہ آدم ؑ بلند پہاڑ کی چوٹی کے چاروں کونے ابھار کر بنایا گیا ہے جس کے ٹاپ پر پاؤں کا نشان ثبت ہے۔ نقش پا پانچ فٹ چار انچ لمبااور دو فٹ چھ انچ چوڑا ہے۔یہ نقش پا سیدھا نہیں بلکہ عودی صورت میں ثبت ہے جس کو دیدہ زیب کمرہ بنا کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔مجھے بتایا گیا کہ یہ نقش پا حقیقی نہیں بلکہ اصلی نقش کا اوپری حصہ ہے جس کو سونے سے بنایا گیا ہے۔اصل نقش پا اس کے نیچے ہے جس تک کسی کو رسائی نہیں”۔
ڈاکٹر سورج نارائن سر کوہ آدم کے بارے میں لکھتے ہیں”مصنف نے اس سفرنامے کو مختلف مقامات اور مواقع کی منظر کشی کی مناسبت سے کہیں افسانوی اور کہیں بیانیہ انداز و اسلوب سے مزین کیا ہے یہی اس سفرنامے کا وصف ہے۔اس سفرنامے میں سری لنکا کے قومی تہواروں ،عقائد، رسم و رواج، لسانی، ثقافتی، تہذیبی خواص کے ساتھ ساتھ تاریخی، جغرافیائی، معاشرتی اور معاشی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔۔۔”۔
ڈاکٹر ظفر حسین ظفر صاحب لکھتے ہیں”مجموعی طور پر زیر نظر سفرنامہ اپنے مشاہدات، تجربات، منظر نگاری اور مکالمہ نگاری میں اپنے موضوع پر بہترین لوازمہ ہے”۔
قیوم امام ساقی صاحب کا ماننا ہے کہ ” اس سفرنامے کو کچھ اس انداز سے تحریر کیا ہے کہ سری لنکا کی تاریخ، تہذیب، کلچر اور اجتماعی اور قومی سوچ کا ہر پہلو ایک رومانوی فلم کی طرح پرکشش محسوس ہو رہاتھا”۔

میں نعیم خان صاحب کو آدم ؑ کے نقش قدم تک پہنچنے اور اس کی روداد خوبصورت انداز میں بیان کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے ان کا یہ سفر جاری رہے گا جس سے ان کے قاری مستفید ہوتے رہیں گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں