کہانی/ حامد یزدانی

’’ کہانی سُنائیے نا، پاپا ! مجھے نیند نہیں آرہی‘‘۔

’’نہیں آج نہیں بیٹا، بہت تھکن ہو گئی آج تو ۔۔‘‘

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

’’ کِسے؟ کہانی کو ؟‘‘

’’ ارے نہیں، مجھے۔۔۔دن بھر کی مصروفیات نے تھکا کر رکھ دیا ہے۔ کل سُن لینا کہانی۔۔۔ضرور سناؤں گا کل ۔‘‘

’’ یہ بات تو آپ نے کل بھی کی تھی۔۔۔۔مگر آج سنا نہیں رہے ۔بس آج تو میں۔۔۔‘‘

’’اچھا، بابا، اچھا۔۔۔کہو، کون سی کہانی سنو گے۔۔۔؟‘‘

’’کوئی سی بھی۔۔۔‘‘

’’ پھر بھی، کچھ تو بتاؤ، کون سی کہانی، کس بارے میں؟‘‘

’’ کسی کےبارے میں بھی نہیں۔ ‘‘

’’ کسی کے بارے میں بھی نہیں۔‘‘

’’ اوہو، بیٹا میرا مطلب ہے کیا کیا ہو اس کہانی میں، کون کون ہو اس میں۔۔۔؟‘‘

’’ کوئی بھی نہ ہو اس کہانی میں۔۔۔‘‘

’’ کوئی بھی نہ ہو!؟ کیا مطلب؟ یعنی بالکل خالی ؟‘‘

’’ ہاں، بالکل خالی۔۔۔ ایمپٹی۔۔۔ای فار ایمپٹی۔۔۔‘‘

’’ اوہ، اب سمجھا، تم ایک سادہ کہانی سننا چاہتے ہو۔۔۔چِٹی سفید۔۔۔ ہے ناں؟‘‘

’’نہیں، سفید بھی نہیں۔۔۔۔کوئی رنگ نہ ہو اس کہانی کا۔۔۔‘‘

چلو، رنگ نہ سہی۔۔۔یہ تو بتاؤ دِکھنے میں کیسی ہو۔۔۔؟‘‘

’’ کیسی بھی نہیں۔ ‘‘

’’اچھا چلو یہ بتا دو، ہو کتنی لمبی چوڑی۔۔۔؟‘‘

’’نہ لمبی ہو ، نہ چوڑی۔۔۔‘‘

’’ موٹی۔۔۔؟‘‘

’’ نہیں۔۔۔‘‘

تکونی۔۔۔؟‘‘

’’نہیں‘‘

’’چوکور۔۔۔؟‘‘

’’ نہیں‘‘۔

مستطیل۔۔۔؟‘‘

’’نہیں۔۔۔‘‘

سٹار شیپ۔۔۔؟‘‘

’’نہیں‘‘۔

اچھا، ہارٹ شیپ میں چلے گی، ہے ناں۔۔۔؟‘‘

’’ نہیں، نہیں۔۔۔کسی شیپ میں نہیں۔۔۔‘‘

’’ کسی شیپ میں نہیں؟ اچھا چلو یہ تو بتا دو بال کیسےہوں اس کے۔۔۔؟‘‘

’’ بال ہوں ہی نہ اس کے۔۔۔‘‘

’’اور کان۔۔۔؟‘‘

’’کان بھی نہ ہوں۔۔۔‘‘

’’لمبے لمبے دانت ہوں اس کے۔۔۔ ہے ناں؟‘‘

نہیں، اس کے دانت نہ ہوں۔۔۔‘‘

ارے ارے اس کے دانت نہیں ہوں گے تو وہ کھائے گی کیسے۔۔۔؟‘‘

’’ وہ کھاتی کچھ نہیں۔۔۔‘‘

’’ ہاتھ ہوں اس کے۔۔۔؟‘‘

’’ نہیں بابا نہیں۔۔۔کہا ناں۔۔۔کچھ بھی نہ ہو۔۔۔‘‘

’’ دیکھو، اگر کچھ بھی نہ ہوتو کہانی بنے گی کیسے؟ کہانی میں کردار ہوتے ہیں، لوگ ہوتے ہیں، چیزیں ہوتی ہیں، واقعات ہوتے ہیں۔۔۔۔اور۔۔۔اور۔۔۔۔‘‘

’’نہیں، اس کہانی میں کچھ نہیں ہوتا۔۔۔‘‘

’’ یہ کیسی کہانی ہوئی جس میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔؟‘‘

’’ کوئی سی بھی نہیں۔۔۔‘‘

’’ کوئی سی بھی نہیں۔۔۔؟  تو بدمعاش کہیں کے۔۔۔تم اتنی دیر سے کیا سننے کی ضد کر رہے تھے۔۔۔؟ کہانی نہیں تو پھر کیا تم۔۔۔۔نونُو۔۔۔نونُو۔۔۔بیٹا۔۔۔سو گئے کیا؟‘‘

نونُو سو چکا ہے

اور شایدمیں بھی۔۔۔

شاید سبھی۔۔۔

مگر

 کہانی جاگ رہی ہے

کیونکہ کہانی کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمیشہ کُھلی رہنے والی آنکھیں۔۔۔! 

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply