ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے/شاہین کمال

زندگی کسی کے لیے آسان نہیں کہ دنیا دارالامتحان ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ سب کے سوال نامے مختلف ، آزمائش منفرد مگر خلاصی کسی کی نہیں ۔
سوشل میڈیا کا میدان سب کے لیے یکساں کھلا اور ہر صاحبِ فون اسے بمقدار صلاحیت و ظرف استعمال میں بھی لا رہا ہے۔ یہاں سب کچھ پوسٹ ہوتا ہے۔ وہ معاملات بھی جن پر پہلے سات پردے ڈالے جاتے تھے۔ اب سب کچھ طشت از بام ہے ۔ خلوت یا پرائیویسی کا اہتمام اب خال خال ۔ کیا کھایا، کیا خریدا، کیا پہنا اور کہاں گئے یا کہاں جانا ہے ؟ ساری تفصیل با تصویر حاضر ۔ یاد رکھنے کی بات محض اتنی کہ یہ سب تصویر کا ایک رخ ہے۔ وہ رخ جو دکھانے والا دکھانا چاہتا ہے۔ اس ورچوئل تصویر کو آمنا و صدّقنا ماننا، ماننے والے کی غلطی اور اس کی چاہ میں مبتلا ہونا کم عقلی کی دلیل ۔ اس دنیا میں نہ تو کوئی کامل ہے اور نہ ہی سو فیصد آسودہ ۔ ہر شخص ہزارہا مشکلوں اور آزمائشوں میں مبتلا کہ سب کے اپنے اپنے دکھ اور آزار ہیں۔ کسی کا ہر وقت کا رونا تو کوئی بالکل بےفکرا اور خوش باش نظر آنے کی سعی میں ہلکان ۔ حقیقت بس اتنی کہ ہم وہی دیکھتے اور جانتے ہیں جو دکھانے والا دکھا رہا ہوتا ہے۔ یہ دکھانے والے کی مرضی پر منحصر کہ وہ ناظر کو اپنا کون سا روپ دکھانا پسند کرتا ہے ۔ اسے بس پردہ سیمیں پر چلتی پھرتی تصاویر جتنی ہی اہمیت دیجیے اور بس.

آپ کے اس ورچوئل سفر میں سینکڑوں لوگ آپ کے ساتھی بنیں گے مگر یاد رہے کہ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

آپ کے حلقے میں شامل تمام احباب آپ کے بہی خواہ ہوں ،یہ ضروری نہیں. کچھ صرف ٹوہ لینے کے لیے ہم رکاب تو کچھ اس بات کے شدت سے متمنی کہ آپ کب لڑکھڑاتے ہیں، کب کسی فاش غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں تا کہ آپ کا ریکارڈ لگایا جاسکے یا ممیز بنائی جائے۔ کچھ احباب بظاہر شگفتہ و ہمدرد مگر حسد کی آگ سے سوختہ۔ دنیا کے سو رنگ اور بھانت بھانت کے لوگ۔ ورچوئل ورلڈ ایک جہاں حیرت ہے۔ یہ ایک ایسی راہِ پُر خار جو شدید احتیاط کی متقاضی۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر قیامت کے صُور پھونکے جانے تک انسانوں کی خوشیاں اور غم یکساں ہیں۔ نہ کوئی مکمل طور پر مطمئن اور نہ ہی کوئی کلی طور پر بد حال۔ سو جو کچھ نظر آرہا ہے اسے محض تماشے کے طور پر دیکھیے کہ اس میں شامل ہونے کی خواہش عبث ۔ کسی پوسٹ سے کچھ مثبت سیکھنے کو ملتا ہے ضرور سیکھیے، مگر خدارا نہ تو کسی کو آئڈیلائز کیجیے اور نہ ہی کسی کے ناز و غمزہ سے متاثر ہوکر لاحاصل کی لوبھ میں مبتلا ہو کر نعمتِ موجود کو حقیر اور کمتر جانیے ۔

julia rana solicitors

جیسی بھی زندگی ملی ہے، اس کا شکر اور اسے بہتر سے بہتر کرنے کی لگن اور کوشش ہی ہمارا مطمع نظر ہونا چاہیے ۔
خوش رہیے اور خوش رکھیے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply