دوسری شادی اور زندگی پر اس کے اثرات(4)-عامر کاکازئی

ہم نے جب یہ سیریز لکھی تو سمجھانے کے لیے میڈیا کی مشہور ہستی عامر لیاقت حسین کی مثال دی جس پر کچھ دوستوں نے میڈیاکا بندہ کہہ کر اعتراض کیا۔ اب آپ کو کچھ مثالیں حقیقی زندگی سے دیتے ہیں، واقعات اصلی ہیں، مگر نام اور مقام  بدل دیے گئے  ہیں۔

پہلی داستان : خان صاحب تبلیغی حلقوں میں کافی مشہور اور مالدار شخصیت تھے ان کے دو جوان بیٹے اور چار جوان بیٹیاں تھیں۔اب بیٹے ہی بزنس سنبھال رہے تھے۔ ایک دن تبلیغی دوستوں کی محفل میں دوسری شادی کا قصہ چھیڑا گیا تو جذبات میں آ گئے ۔کچھ تبلیغی دوستوں نے رشتہ ڈھونڈا اور ایک غریب خاندان کی جوان بیٹی سے نکاح کر بیٹھے۔ پھر کہانی کی شروعات ہوتی ہے کہ پہلی اولاد اور بیوی کی طرف سے شدید مخالفت، ان کا داخلہ پہلے گھر میں ان کے بڑے بچے بند کر دیتے ہیں۔ جائیداد تو تھی، اس لیے ایک دوسرے گھر میں اپنی دوسری بیوی کے ساتھ شفٹ ہو جاتے ہیں۔ بڑے بچے آہستہ  آہستہ  سب کچھ اپنی ماں کے نام کروا لیتےہیں۔ دوسری سے بھی تین بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آخر ایک دن وہ اللہ کے حضور پیش ہوۓ اور اب سختی شروع ہوتی ہے دوسری بیوی اور بچوں کی کہ ان کو مکمل بےدخل کر کے اس کے گھر پر بھی قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ غریب باپ اور بھائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس واقعہ میں دوسری بیوی اور بچے خوار ہو گئے۔

دوسری داستان : چودھری صاحب کے چار طالب علم نوجوان اولادیں ہیں۔ تین بیٹے اور ایک بیٹی۔ اللہ کا کرم تھا کہ دو فیکٹریاں ،گلبرگ میں دو کنال کی کوٹھی سمیت لاتعداد جائیداد، لاتعداد گاڑیوں میں مرسیڈیز تک شامل تھی اور بیشمار پیسہ۔ ایک دن کچھ دوستوں کے ساتھ ایک محفل میں جانے کا اتفاق ہوا اور ایک جوان لڑکی پر دل ہار بیٹھے۔ شادی ہوئی اور پھر اس کی زلفوں میں ایسےگُم ہوئے کہ سب کچھ اس پر لُٹا بیٹھے۔ کچھ سالوں میں جب سب کچھ ختم ہو گیا تو اُس لڑکی نے بابے کو ٹیکسی پر بیٹھا کر اس کےگھر بھیج دیا۔ صدمے سے فالج ہوا اور آجکل بڑے بیٹے کے پاس ہیں۔ پہلی بیوی سمیت کوئی بھی بچہ منہ نہیں لگاتا، بس سارا دن مفلوج حالت میں ایک کمرے  میں پڑا رہتا ہے۔ دو کنال کا گھر جس میں رہتے تھے، اس کو بیچ کر بڑے نے چھوٹا موٹا بزنس شروع کیا۔اب کرائے  کے گھر میں رہتے ہیں ، دوسرے دو بیٹوں میں سے ایک دبئی میں ٹیکسی چلاتا ہے اور تیسرا امریکہ میں پمپ پر کام کرتا ہے۔  چودھری صاحب کی ایک غلطی نے پورے خاندان کو محل سے اُٹھا کر جھونپڑی میں پٹخ دیا۔

تیسری داستان  : ملک صاحب شہر کے جانے پہچانے بزنس مین تھے۔ چار شادی شدہ بیٹے اور ایک بیٹی ، زندگی اچھی گزر رہی  تھی کہ ایک دن پتہ چلا کہ دوسری شادی کر چکے ہیں۔ اس جھٹکے نے پہلی پر ایسا اثر کیا کہ وہ چھ ماہ کے اندر اندر مر گئی۔ بس مرنے کی دیر تھی کہ وہ دوسری کو گھر لے آئے، اس کے بعد کہانی شروع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ سوتیلی ماں پہلے باپ کو سب بچوں سے بدظن کرواتی ہے اور ایک ایک کر کے سارے بیٹے گھر چھوڑ کر جانا شروع کر دیتے ہیں۔ آخر میں شادی شدہ بیٹی  پر چوری کا الزام لگوا کر اس کے لیے بھی اس کے باپ کے گھر کا دروازہ بند کروا دیتی ہے۔  اب حالت یہ ہے کہ ملک صاحب بیماری اور بڑھاپاکی وجہ سے بستر کے ساتھ لگ گئے ہیں کوئی بچہ ملنے نہیں آتا۔ البتہ خرچہ بھیج دیتے ہیں۔ ملک صاحب کی ایک غلطی کی وجہ سےان کا خاندان ٹوٹ گیا اور آج وہ تنہا ہیں ، اپنے بچوں سے بات کرنے کو ترس گئے  ہیں، مگر سب بچوں کو ان سے شدید نفرت ہے۔ کوئی بھی ملنا ایک طرف فون پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ (دوسری بیوی ملنے بھی نہیں دیتی)

چوتھی داستان : سائیں کے تین ٹین ایج بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔ اپنے آفس میں آنکھ مٹکا کر بیٹھے اور چھپ کر دوسری شادی کرلی۔ مگر خوشبو اور شادی چھپ نہیں سکتی۔ جب پہلی بیوی کو پتہ چلا تو گھر میں داخلہ بند کر دیا، بچوں نے نفرت کا اظہار کیا اوربولے کہ

Papa you are a cheater. We hate you and don’t try to meet us again

پہلی بیوی مالی اور تعلیمی طور پر مضبوط تھی۔ اس لیے سائیں کی بے وفائی سے مالی طور پر ککھ فرق نہ پڑا۔ مگر آج کل سائیں جس کا عشق کا بھوت ایک سال میں ہی اُتر گیا ، اب اپنے دوستوں میں بیٹھ کر بچوں کو یاد کر کے روتا ہے۔ ملنا چاہتا ہے مگر بچوں نے دیکھنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

اوپر بیان کیے گئے سچے واقعات دیگ کے چند دانے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات سے دنیا بھری پڑی ہے۔ اس لیے تھوڑے کو زیادہ جانیں اور کوئی حماقت کرنے سے پہلے ہزار بار اپنی فیملی کا سوچیں۔

یا پھر

اگر ٹھرک شروع سے ہی ہے تو بجائے شادی کرنے کے شیخ رشید کی طرح زندگی گزاریں۔

(اگر اپ کے پاس کوئی مثبت یا منفی واقعہ ہے تو شیر  کیجیے)

 

Facebook Comments

عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply