معدنیات والا بابا ، سفید سونا اور پاکستان/سلیم زمان خان

کچھ روز قبل کوئٹہ کے مضافات میں اسپین کاریز کے قریب پہاڑوں میں دو مکرانی دوستوں کے ساتھ ( جن میں ایک مکرانی سردار بھی ہیں)ایک بابا جی سے ملاقات ہوئی۔۔ عجیب بات یہ تھی کہ بابا جی بھی قوم کے لانگو بلوچ ہیں  اور عرصہ 40 سال سے یہاں پر برطانیہ چھوڑ کر آ بیٹھے ہیں، جب میں نے ان کے مکرانی دوستوں سے ان کے بارے میں پوچھنا چاہا تو وہ خود بولے کہ مجھے یہاں کوئلہ کی حفاظت اور دیگر زمین کے نیچے کی مخلوق( معدنیات) پر پہرہ دینے کے لئے نورانی فوج نے تعینات کیا ہے۔ میں نے ایک ہی سانس میں بہت سے سوال پوچھے کہ آپ یہاں معدنیات کی حفاظت کیسے کریں گے  اور میری نظر میں پہلے کبھی معدنیات پر متعین بزرگ نہیں گزرا تو بولے، یاد ہے حضرت یوسف نے عزیر کو کہا تھا۔۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ○
ترجمہ :یوسف نے کہا کہ : ’’ آپ مجھے زمین کے خزانوں (کے انتظام) پر مقرر کر دیجئے۔ یقین رکھیے کہ مجھے حفاظت کرنا خوب آتا ہے، (اور) میں (اس کام کا) پورا علم رکھتا ہوں ۔ ‘‘
تو اس سے ثابت ہوا کہ اس دور میں زمین سے نکلنے والے تمام خزانوں پر حفیظ حضرت یوسف تھے۔
پھر داود علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ حمد وثنا کرتے تھے،اور انہیں حکم تھا کہ اپنے خزانوں کا علم اور اختیار انہیں دے دیں ۔
ترجمہ: ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا (سورہ سبا)
اسی طرح آقا کریمﷺ چونکہ امام الانبیاء ہیں تو ان کے غلاموں میں سے ایک طبقہ پہاڑوں اور معدنیات پر مقرر ہے۔ کتنی مقدار کس زمانے میں کس کی اجارہ داری میں کس استعمال میں دینی ہے ،اور کس طرح سے غاصب کے قبضہ سے بچانا ہے۔یہ ان غلاموں کی ڈیوٹی ہے، جبکہ ان کے مقابل انوناکی جو شیطان کی اولاد ہیں وہ ان کو زبردستی اپنے قبضے میں لے کر علاقوں اور قوموں کا استحصال کر کے معاشرتی اور معاشی ناہمواری پیدا کرتے ہیں۔جس سے بھوک،افلاس اور معاشرتی بے انصافی پیدا ہوتی ہے۔ اور ساتھ ہی کہا کہ مستقبل قریب کی جنگیں اب پٹرول پر نہیں بلکہ ان دھاتوں اور معدنیات پر ہوں گی جو آج اور آنے والے سالوں میں صنعت اور معیشت کی ترقی میں استعمال ہوں گی۔
لہذا بابا جی کے بقول وہ اور ان کے مکرانی دوستوں کی  ذمہ داری ہے کہ ان معدنیات کو اس سرزمین سے نکلنے میں مدد اور اس سے اس خطے کو استحکام بخشیں ۔
خدا جانے مستقبل میں بابا جی کی حکمت عملی کیا ہو گی کیونکہ
حکیم میری نواؤں کا راز کیا جانے
ورائے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں

تمام راستے واپسی پر میں سوچتا رہا کہ مستقبل میں تو Artificial intelligence کا دور ہے اس میں معدنیات کا کیا کام ۔۔ اچانک میرے ذہن میں لیتھیم آگیا۔۔ جو ان تمام AI پراڈکٹس میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کا لازمی جزو ہے اور میرے ذہن کی پرتیں کھلتی چلی گئیں۔

لیتھیم ایک کیمیکل element اور الیکٹرک گاڑیوں اور ری چارج ایبل بیٹری سے چلنے والی تمام مصنوعات کا بنیادی حصہ ہے یاد رہے ،ہمارے موبائل سے لیکر روبوٹس اور EV یعنی الیکٹرانک کاروں کا بنیادی جزو ہے۔یعنی اس وقت لیتھیم دنیا کا مستقبل ہے۔ اس وقت دنیا میں تیزی سے قیمتی ہوتے اس دھات کو اب دنیا میں white Gold یعنی سفید سونا کہا جاتا ہے۔ 2030 تک صرف الیکٹرک کاریں دنیا میں بکنے والی کل کاروں کا 65 فیصد ہو جائیں گی ایک اندازے کے مطابق 2030 تک 39.21 million الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر ہوں گی۔

ایک عام الیکٹرک کار کی بیٹری میں 8 کلوگرام لیتھیم lithium، 14 کلوگرام کوبالٹ cobalt اور 20 کلوگرام میگنیز manganese ہوتا ہے، لیکن یہ الیکٹرک کاروں پر منحصر ہے کہ اس کی بیٹری کس طرح بنائی گئی ہے۔۔ ایک Tesla Model S کار کی بیٹری میں 62.6 کلو گرام صرف لیتھیم ہوتا ہے۔

دنیا میں اس وقت امریکہ آسٹریلیا، چلی وغیرہ اس سے من موجی منافع حاصل کر رہے ہیں ۔2030 تک لیتھیم کی کھپت 2 ملین میٹرک ٹن سے تجاوز کر جائے گی ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لیتھیم کا مستقبل اور کھپت کیا ہو گی۔ امریکہ میں نویڈا میں دریافت ہونے والے لیتھیم کے ذخائر کو اس وقت دنیا کے بڑے ذخائر کہا جاتا ہے ۔

بس اتنا بتانا تھا کہ پاکستان کے علاقوں گلگت، بلوچستان ،خیبر پختونخوا اور کشمیر میں اس کے وسیع ذخائر ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں اس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔اس وقت پاکستان کے ان علاقوں کی بگڑتی سیکورٹی صورت حال ایک خطرہ کا نشان ہے اور مستقبل قریب میں یہ بین الاقوامی دہشت گردی کی زد میں مزید رہیں گے، کیونکہ افغانستان میں لیتھیم اور دیگر ان تمام دھاتوں کا جن کا استعمال AI ( آرٹیفشل انٹیلیجنس ) میں ہے ،کے وافر ذخائر موجود ہیں۔۔ اس کے علاوہ افغانستان میں
lithium-rich minerals like lepidolite, trilithionite, montebrasite,
کی بھی وافر مقدار ہے۔ لہذا مستقبل قریب میں سامراجی طاقتیں لیتھیم ، سیلیکون اور ان معدنیات سے بھر پور غریب اور خاص کر مسلمان ممالک پر حیلے بہانوں سے استعماری ہتھکنڈے آزمائیں گے۔

پاکستان جس کے ساتھ دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشت چائنا اور اس کا حمایت یافتہ بلاک موجود ہے۔ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا اور نادر موقع ہے کہ اپنے ان ذخائر کو جو موجودہ اور آنے والے دور میں AI کی صنعت میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ہیں کی کانکنی اور تجارت پر استعمار ی قوتوں کی آمد سے قبل توجہ دے،جو کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی دست وگریبان ہونے کی بھینٹ چڑھ جائے گا، اور شاید مستقبل قریب میں ہماری ان معدنیات سے ریکوڈک کے سونے کی طرح دوسری اقوام مستفید ہوں گی۔۔ جس کی بنیادی وجہ سسٹم میں موجود کالی بھیڑیں ہیں جو ریکوڈک کی طرح ملکی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔۔ اور ملازمت و سیاست کے بعد اس ملک میں رہنا بھی پسند نہیں کرتیں۔

julia rana solicitors

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply