ولائت یونیورسٹی میں میرا ایک انڈین ہم جماعت تھا جو اکثر دیر سے ہی کلاس میں پہنچتا تھا۔ایک دن دیر سے آیا تو میں نے پوچھا خیر ہے یار آج پھر لیٹ آئے ہو؟
او بھائی جان کل دارُو پی بیٹھے رات نوں،تاں کر کے۔
ہر روز ہی دورو پیتے ہو؟میں نے پوچھا۔
نہیں نہیں کبھی کبھی،بس کسی موقع پہ۔
میں نے کہا کیسا موقع چاہیے ؟
یہی کہ جس روز کام پہ جاتا ہوں تو واپسی پہ جسم ٹوٹتا معلوم ہوتا ہے،تھکان دور کرنے کو دو پیگ لگا لیتا ہوں،اور جب چھٹی ہو تو انجوائے کرنے کو دو گھونٹ پی لیتا ہوں، اس کے علاوہ کبھی کبھار دوست یار مل جائیں تو ذرا من کا بوجھ ہلکا کرنے کو گلاس اُٹھا لیتا ہوں۔ویسے نہیں پیتا۔
اس کے بعد کوئی دن بچتا ہے؟میں نے پوچھا۔
اس نے دانت دکھا دیے۔
فرد واحد ہو یا قوم،سب کو کُچھ کرنے یا نہ کرنے کا کوئی بہانہ چاہیے۔اب سپین ہی دیکھیے۔جب بھی سپین والے ماموں سے بات ہوتی ہے ان کے ہاں کوئی میلہ،کوئی سرکس ،کوئی کھیل تماشا چل رہا ہوتا ہے۔ان لوگوں کو میلوں کی عادت ہے،ہلے گُلے کی عادت ہے۔انہیں بس کوئی بہانہ چاہیے،کبھی بہار آنے کا،کبھی گرمی آنے کا۔
آج کل سعودی عرب بھی اپنی نئی عادات بنا رہا ہے۔کٹر دھرمی لباس اتار کے، خام تیل کے خمار سے نکل کے وہ بھی نئی دنیائیں دیکھ رہے ہیں،نئے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ایم بی ایس کے ویژن دو ہزار تیس کے مطابق سعودی عرب کا بڑی آمدن کا ذریعہ انٹرٹینمنٹ اور سیاحت ہوگا۔چند سال پہلے تک سعودی نیشنل ڈے منانے کا تصور بھی نہیں تھا،مگر پچھلے کُچھ سالوں سے باقاعدہ چھٹی منائی جاتی ہے،کہیں کنسرٹ اور کہیں کار ریس ہوتی ہے،سرکار باقاعدہ آتش بازی کرتی ہے،بلکہ پچھلے سال تو ریاض ائیر شو بھی اسی موقع پہ دیکھا تھا۔ہر سال سردیوں کے چار ماہ “ریاض سیزن” کے نام سے چلنے والے ایونٹ اسی نے سعودیہ کا چہرہ ہیں۔
ریاض سیزن میں ہر سال کُچھ نہ کُچھ نیا اور مختلف ہوتا ہے۔پہلے سال محض چند کنسرٹ تھے،اور بس۔اگلے سال اس میں ریاض بولیوارڈ کا اضافہ ہوا،جہاں رنگ رنگ کے برانڈز اور کھابے کھلے۔اس سے اگلے سال دوبئی کے گلوبل ویلج کی طرز پہ بولیوارڈ ورلڈ کا اضافہ ہوا،اس سال ریاض سیزن میں بولیوارڈ رن وے کا اضافہ ہو رہا ہے جس کے لیے سعودی ائیر لائن کے ریٹائرڈ جہاز جدہ سے خاص آ رہے ہیں۔یہ جہاز ریاض ائیرپورٹ پہ بھی آ سکتے تھے،یا ریاض میں گراؤنڈ جہاز بھی استعمال کیے جا سکتے تھے۔مگر جدہ سے ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے یہ جہاز بذریعہ سڑک ریاض پہنچے ہیں۔جہازوں کا یہ زمینی سفر باقاعدہ سیلیبریٹ کیا گیا ہے۔جابجا چھوٹے موٹے شہروں میں ان جہازوں کے استقبال ہوئے ہیں،لوگ سڑک کنارے کھڑے جہازوں کی اس “پرواز” کو انجوائے کرتے رہے ہیں۔پچھلے ایک ہفتے سے یہ جہاز سوشل میڈیا پہ چھائے ہوئے ہیں۔
جہازوں کے اس سفر کی باقاعدہ تشہیر کی گئی ہے۔ایک سوچے سمجھے انداز سے جدہ سے ریاض تک کا یہ سفر تصویری شکل میں شائع کیا گیا ہے۔یہ جہازوں کا سفر سعودی کلچر اور لینڈ سکیپ کی تشہیری مہم بن گیا۔سیاحت اور انٹرٹیمنٹ سے کتنی ملازمت نکل رہی ہے اور کتنی آمدن آ رہی ہے وہ لایعنی سی بحث ہے۔مدعا یہ ہے پچھلے چند سالوں میں ایک سخت گیر،بنیاد پرست عرب معاشرے کا امیج دنیا کی نظر میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔
ایک ہم ہیں،سات لاکھ چھیانوے ہزار مربع کلومیٹر پہ پچیس کروڑ کا بوجھ جن کا شاید آگے جانے والا گئیر ہی خراب ہے۔
معاشی،معاشرتی،اخلاقی ہر طور پہ ہر آنے والا دن پچھلے سے بدتر ہے۔ابھی کل ہی ایک ہمسائے کو ہمارے قومی ترانے کی دُھن پسند نہیں آئی اور انہوں نے احتجاجاً کرسی سے اپنی تشریف اُٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔چلو وہ تو پتھر کے زمانے کے لوگ ہیں اس پہ اپنی عام جنتا کا رویہ یہ ہے کہ چونکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے قومی ترانے پہ کھڑے ہونے کو شرک کہہ رکھا ہے تو یہ شرک ہی ہے لہذا ہمسائے کی جے ہو۔البتہ یہ دونوں ہمسائے بھوک سے مرنے کو عین جائز سمجھتے ہیں،افلاس ان کے نزدیک توکل کا دوسرا نام ہے ہاں جب کام توکل سے آگے نکل جائے تو سود پہ قرضے کھانا بھی جائز ہے۔
رہے نام مولا دا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں