ایڑا کیہڑا ؟ -کبیرخان

ایساڈِنگا ٹیڑھا شخص ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ کوئی شرم نہ لحاظ ، نچلے دھڑ پرفقط اک “سی تھروُ”دھجی چپکائے گدھے گھوڑے بیچ کر سویا پڑا تھا۔ چھی چھی چھی۔۔ ارے یہ ناروے کا بیچ نہیں ،جہاں گوریاں گورے فقط دھوپ کا چشمہ زیب تن فرماکر سنولانے کو تشریف لاتے ہیں۔اور سارا سارا دن سورج سے ملہیاں کرتے رہتے ہیں۔ بھائی صاحب!یہ راولاکوٹ کا نجی میٹرنٹی ہوم ہے، یہاں “ٹیننگ”کا رواج نہیں ہے۔ یہاں تو اپنے “کھُنبے ٹہاسل لگانے” کے لئے بھی سر تا پا سائیدار لوئی، کمبل ،کھیس دھر کر بیٹھنا پڑتا ہے۔ اس قسم کی کھلی ننگی حالت میں کسی جذباتی مسلمان نے دیکھ لیا تو گھر کا راستہ نہیں ملے گا۔ جدھر بھاگو گے ،پیچھے فتاوی کے کنستر کھڑکتے جاویں گے۔ پھر نہ کہنا کسی نے بتلایا نہیں۔

ہم نے تو از رہِ تلطّف اُسے یہ بھی بتا دیا کہ جس ڈبل بیڈ پر تم نے بلاشرکتِ غیرے “مگدول” مچا رکھا ہے، یہ تمہارے “ہوتوں سوتوں”کی جاگیر نہیں، نجی ہسپتال کی ملکیت ہے۔ اور اس پر تمہاری بادشاہی ڈسچارج سلپ پر مہر لگنے تک ہے اور بس۔ اس کے بعد تُم بھی ہم میں سے، ہم جیسے۔وہ کیا کہتے ہیں۔۔ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز۔لیکن اُس نے ایک عدد اینٹھن تلے ہماری بات مل دل کے وہ پرےدھر دی۔ ایسا رویّہ تو اَکّی پہلوان نے کبھی اکھاڑے میں نہیں اپنایا۔ پھر بھی ہم نے اٗس کی طرف دوستی کی چھنگلیا بڑھائی تو اُس نے جھٹ سے دونوں مُٹھیاں اور آنکھیں سختی کے ساتھ بھینچ لیں،اور ٹانگوں کی جوڑی بھی اسی کام پر لگا دی۔ہم نےسوچا دیر سے آنے پر ہم سے نالاں ہے۔چنانچہ اُسے منانے کے لئے اک خدا ہونی اُس کے سامنے رکھی کہ : تم خیرسے سیانے بیانے مرد جنے ہو ، اچھی طرح جانتے ہو گے کہ پرائی نوکری کی کیسی کیسی مجبوریاں ہوتی ہیں ، فوراً چھُٹّی ملنا آسان نہیں ہوتا ۔پرائی تابعداری میں دیر سویر ہو ہی جاتی ہے۔ خدا ہونی کہو تو تم نے کون سا ہمارا انتظار کر لیا۔دوسری بات یہ ہے کہ دُنیا بھر میں مردمان کو میٹرنٹی لِیوّ صرف امریکہ وغیرہ میں ملتی ہے۔ اِس خطّہ کے مُسلوں کو اُس وقت تک جائے وقوعہ پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی، جب تلک معاملہ اچھے سے ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔ اس کے باوجود جنٹلمین پرومس رہا کہ تمہیں مسلمانی ہم اپنے دستِ شفا آلود سے بقلم خود بٹھائیں گے۔ یہ ایک مُسلے کا دوسرے مُسلے سے وعدہ ہے۔ اور اس اہم دینی فریضہ کی ادائیگی کے لئے آلات حرب و ضرب ہم پڑاٹ والے مستری سے”چھنڈوا”کر خود لائیں گے۔ اس پر بھی وہ “اکڑیسیں” ہی توڑتا رہا۔ سختی کے ساتھ بھینچی بائیں آنکھ میں باریک سی درز پیدا کرکے اُس نے اک نگہ غلط انداز ہم پر ڈالی تو ہم سمجھ گئے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ ہم نے جھٹ کہا کہ دیکھ لو،تمہارے مُتشرع بابا تک کو ہسپتال کے “ببّوں” نےدفعہ 144کے ڈنڈے سے جائےوقوعہ سے سوا سو قدم پرے ہانک کے رکھا ہو گا۔ وہ تو ہمارا چشمہ ، بریف کیس اور ٹوہر ٹہکہ دیکھ کر چوکیدار پسیج گیا، اور ننگے سر سلیوٹ بھی دے مارا۔ مور اوور کے طور پراُس نے اپنا اسٹول ذرا سا سرکا کر ہمیں رستہ بھی دے دیا۔ ورنہ ہم بھی فرضی احاطہ سے دس قدم پرے کھڑے ابھی تلک شرعی پاجامہ اور نیت درست کر رہے ہوتے۔

ہمیں بجا طور پر یقین تھا کہ ہماری درد بھری کہانی سُن کر وہ پسیج گیا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے پوچھا ، ہسپتال میں کیسا لگتا ہے۔۔۔؟ ، بولا۔۔ ٹیں۔پوچھا ، اپنے جہاں سے آ کر ہماری دُنیا کو کیسا پایا؟۔ بولا۔۔۔ِ ٹیں۔ پوچھا،قدرتی نلکی کے ذریعہ ایک ہی قسم کا اَن پانی پیتے پیتے تنگ آگئے ہو گے،منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئےکچھ چٹ پٹا ازقسم پکوڑے شکوڑے کا من کرتا ہو توگا؟۔بولا ٹیں۔ اُس کی ٹیں ٹیں سُن کر ہم یہ فیصلہ نہ کرپائے کہ وہ انسان کا پُتر ہے یا طوطے کا بچـہ؟۔ وہ جو کچھ بھی تھا ،تھا الگ سا۔ جی تو ہمارا بھی کرتا تھا کہ اسے اپنی گودی میں لے کر دیکھیں لیکن اُس کا میٹریل بہت کچّا کچّا سا لگ رہا تھا ۔چنانچہ محتاط فاصلہ سے ہی گپ شپ پر اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن گپ شپ کے دوران جب “سُٹ پنجہ” کا مرحلہ آیا تو وہ سوچکا تھا۔۔ ہم نے اس سے زیادہ کچّا پِلؔا آدمی اتنے قریب سے کبھی نہیں دیکھا۔

اگر عام آدمی “چارے قضا” اُس کا سراپا بیان کرنا چاہے تو سب سے پہلے اُس کی سِری دکھائی دیتی ہے ، جو “کپّ ٹُک کے “اپنے رفیق پہاپے جیسی ہے ۔ قد ڈانگوں کے گزوں سے ماپنے جوگا ۔ پتلا اس قدر کہ بوقت ضرورت خود ڈانگ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔وہ بابا کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرنے جاتا ہے تو عام آدمی کے برعکس پانچ مختلف جوڑوں سے فولڈ ہوتا ہے تب کہیں جا کر سجدہ سہو ادا کرپاتا ہے۔ اُس کاسب سے بڑا پروبلم یہ ہےکہ اسکول یونیفارم کی پتلون کو اس کے ذاتی کولہوں پر اٹکنے کی سہولت میسّر نہیں ہے ۔،”بھروٹی”(لکڑی کا گٹھّا) کی طرح “سُل مُل” کرنا پڑتی ہے۔ اُس کے ہاتھ پیر بابا کے دست و پا سے پتلے اور کہیں زیادہ لمبے ہیں ۔(آپ نے کبھی دھنی کی روشنی میں بچّوں کو دیوار پر اپنے اعضا کے عکس ڈال کر کھیلتے دیکھا ہے؟۔۔ بس ویسے ہی)۔ اس کی والدہ ماجدہ اور بہنیں اُس سے بنا کر رکھتی ہیں کہ اُن کی چیزیں چھت کی درزوں میںڈال کر وہ مُکرہی نہ جائے۔ ہم نے بچشم دید خود اُسے کھیلتے دیکھا تو نہیں لیکن اُس کا دعویٰ ہے کہ وہ فُٹ بال کا کھلاڑی ہے۔ (ہماری دلی خواہش ہے کہ اُسے کھیل کے میدان میں بھاگتے دوڑتے اور کم ازکم ایک بار “لمّ سلّم”ڈھتےدیکھ سکیں)۔ ہم چشم تخیّل سے دیکھ سکتے ہیں کہ فٹبال گراونڈ میں اک نسینی اُچھلتی کودتی ،ادھراُدھر بھاگتی ، فاول مارتی گرتی پڑتی، اُٹھ کر ڈہتی پھرتی ہے۔اور عجب نہیں کہ اُسے گول پوسٹ کے ساتھ جوڑ کر کھڑاکردیں تو باہر جاتی گیندیں بھی اپنے گول میں ڈال دے۔اس نسینی کا دوسرا نام سردار عبدالرحمان خان ہے۔ اُس کا ہیئر اسٹائل دیکھ کر ہمیں اپنے کُلفی چاچا مرحوم بے طرح یاد آتے ہیں۔ ایک زمانہ میں مرحوم کی ساری شخصیت سمٹ کر اُن کے بالوں میں رچ بس گئی تھی۔ زمانہ طالبعلمی میں اُن کا بیشتر وقت آئینہ کے سامنے کنگی بدست گذرتا تھا۔ ہمارے ممدوح کا وقت بھی عجب نہیں کہ وہیں گذرتا ہو۔ یوں بھی اپنے آبا کی سنت پر چلنا کوئی بُری بات تھوڑی ہے۔ ہمارا ممدوح اپنے برادرِ اکبر لاریب خان کی شادی میں بطور شہ بالا شریک ہوا تو رسم کے مطابق ہمارے لئے بھی ویسا ہی پشاوری چپل اور جوڑا لے آیا جیسا اُس نے اپنے لئے خریدا تھا۔ وہ جوڑا دیکھ کرہم اتنے ہی “مچے”(غیر متوقع مسرّت کو ہماری مادری بولی میں مچنا کہتے ہیں)کہ بن سوچے سمجھے وہی جوڑا اور چپل پہن لئے۔ لیکن دھیرے دھیرے پشاوری چپل نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ اور ٹھیک نکاح کے بیچ ہم اس مقام صبر تک پہنچ چکے تھے کہ جہاں چپل اُتار کر سر پر رکھ بھاگنا واجب ہو چلا تھا۔ ہمیں زندگی میں پہلی بار معلوم ہوا کہ زیادہ تر پٹھان بھائی پشاوری چپل کا اسٹریپ کھلا کیوں رکھتے ہیں۔ اُس نے اسی لباسِ مجاز میں ہمارے کیمرے سے ہماری جو تصویریں بنائیں،ہم نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مٹائیں ، پھر بھی کچھ یہاں سے وہاں ہو گئیں ۔ اُنہی تصاویر کی بنیاد پر بعض ہمدردان نے ہمارا دُکھ درد کچھ یوں بانٹا کہ اس کی وضاحت کرتے کرتے ہم “پھاوے “ہو گئے ۔ مانا کہ بندہ دوجے کے بیاہ میں کبھی کبھی سینٹی بھی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ہر حسّاس مرد کا دوسرے کی آزادی سلب ہوتے دیکھ کر دُکھی ہونا بنتا بھی ہے۔ لیکن یار ! بیٹے کی شادی پر اس قدر جذباتی ہونا کچھ اچھا نہیں لگتا۔” ایک ہمدم دیرنہ نے ہمیں دلاسا دیا۔ اور خود بھی آبدیدہ ہو گیا۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک ہمیں بھی اُس کی شادی میں ویسے ہی پشاوری چپل اُس کو گفٹ کرنے کا کم از کم ایک موقع عطا کردے ۔پھر ہم اُس کی “کھُڈّانیاں” دیکھیں۔ چند ایک ایسے پیدائشی نقائص کے سوا وہ اتنا ٹھیک ٹھاک ہے کہ محتاط سے زیادہ محتاط بندہ بھی اپنے منہ سے ٹیٹنی بجا کر اُسے پاس مارکس دے سکتا ہے۔

julia rana solicitors

ہم نہیں جانتے کہ وہ طالب علم اچھا ہے یا شاگرد بہتر۔ لیکن بیٹا سانبھ کے رکھنے جوگا ہے۔ وہ نہ نہ کرتے جوان ہوا جا رہا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ کبھی کسی کونے سےیہ شکایت نہیں ملی کہ اُس نے “میری دوات توڑ دی۔ ، چیک دے کر مجھے ڈسک سے نیچے گرا دیا۔اس نے میری چَگّیں لگائیں ، مجھے بھوتنی کا کہا۔، میرے بستے میں بھونڈ ڈالا، میرے تھیلے سے ککڑولا اُڑایا” ،وغیرہ وغیرہ۔ ہاں اُسے ایک ٹانگ پر اُچھل اُچھل کر “مقبول بٹ زندہ ہے” اور “کشمیر ہمارا ہے” کے نعرے لگاتے ہم نے بچشم دید خود دیکھا ہے۔ ایک بار تو نعرے کے ساتھ خود بھی اتنا اچھلا کہ اپنے پوٹے پر لینڈ کرگیا۔ پھر کچھ یاد آیا تو آپی آپ کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا۔ تب سے ہم مطمئن ہیں کہ اسے گر کر اُٹھنا بھی آگیا ہے۔ بس دل کرتا ہے کہ کبھی بڈالی کے میدان میں اسکے خلاف کبڈی کھیلیں اور اُس ایڑے کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا مزا لے کر دیکھ لیں۔ لیکن اس سے زیادہ جی کرتا ہے کہ اس کا بیاہ ہو، اور ہم اپنے مہربان جفت ساز مصری بھائی سے بھینسے کے پائیدار چمڑے کا تِلّےدار جوڑا(کھُسّہ)بنوائیں اور دُلہے کو پہنائیں۔ اُس کے منہ پر کھپّی اور کھپّی پر سہرا چڑھوائیں ۔ پھر”پارے ڈھاکے” کے رستے پا پیادہ بارات لے جائیں۔۔۔۔۔ دے شِمرکوُں کہ شِمرکوُں۔۔۔۔ ۔ اور جب سسرال پہنچ کر لنگڑاتا ہوا دوُلہا “در پکڑائی” کا تقاضا کرے تو دُلہن والیاں بھر بھرجھولیاں سِٹھنیاں واریں۔ ویسے آپس کی ایک بات اور بھی ہے کہ وہ لائسینس کے بغیر سوزوکی مہران بہت اچھی طرح چلا لیتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ وہ چار تہوں میں فولڈ ہو کر اس کے اسٹیرنگ وہیل کے پیچھے فِٹ بھی ہو جاتا ہے۔ اس سے ہمیں کبھی کبھی شک سا گذرتا ہے کہ وہ “بندے دا پُتر” ہے یا بلا کا بچّہ ؟۔ ایک بات اور کہ وہ لم ڈھینگ ہمیں پیارا بھی بہت ہے۔ لیکن یہ بات اُسے بتانے کی نہیں۔ اپنی بات ختم کرنے سے پہلے ڈاکٹر سِتّی بے(عدین) اور محترمہ میڈم جی (بھین) کے کانوں سے اک “گوشہ “گذار کرنا ہے کہ ہمارے ممدوح کے سائز کی کوئی “چہنگا جھولتی”نار تاڑ کر رکھ لیں۔موسم صاف ہوتے ہی ڈرم ڈرم ڈِگا ڈھینکا۔۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply