تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے/ گل بخشالوی

اڈیالہ جیل میں دہشت گردوں اور سزائے موت کے قیدیوں کے لئے مختص سات فٹ چوڑا ی اور 8 فٹ لمبی موت کی کوٹھڑی میں قید ریاست ِ مدینہ ثانی کا خواب دیکھنے والے ، آ زاد اور خود مختار پاکستان کا نعرہ لگانے والے، پاکستا نی عوام کے امنگوں کے ترجمان سابق وزیر ا عظم عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنانے کے لئے امریکی غلا م آئین اور قانو ن سے بالا تر ہر وہ گھناونا قدم اٹھا ر ہے ہیںجو دین مصطفی اورعظمت ِ پاکستان کی توہین کے مترادف ہو !

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عمران خان اور بشر بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے دوسرے مقدمہ میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیر محمد احمد، جو آج میجر جنرل ہیں بھی 22، گواہوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل سے آئی ٹی وی نیوز کو اپنے ایک انٹرویو میں نومنتخب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو انتخابی فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’ میں وزیر اعظم اسٹارمر اور  ان کی کابینہ، جنہوں نے واقعی عوام کی حقیقی مرضی سے اور بغیر کسی انتخابی ہیرا پھیری کے کامیابی حاصل کی ہے، سے کہتا ہوں کہ ذرا تصو ر کریں کہ اگر ان کی یہ غالب فتح ہی چرا لی جائے، تو آپ کے دیس اور دیس کی عوام کا کیا حال ہو گا ، پاکستان میں اس منظر نامے کی تصویردیکھیں جس میں ایک پارٹی بمشکل 18 نشستیں حاصل کر سکی اور اس نے بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی پار ٹی کامینڈیٹ چوری کر کے حکومت بنائی اور طاقت کے سرچشمہ عوام کے ارمانوں کا خو ن کیا ، جہاں آپ سے آپ کی پارٹی کا نشان ہی چھین لیا گیا ہو آپ کی پارٹی کے رہنماو ں کو یا توحراست میں لے لیا گیا ہو یا انہیں اس وقت تک عذاب زندگی میں مبتلا رکھا ہو جب تک وہ اپنی وفاداریاں تبدیل نہ کرلیں یا پھر سرے سے سیاست کو ہی خیرباد کہہ دیں۔

پاکستان کا دانشور طبقہ خاموش ہے لیکن ان کے قومی جذبات اور احساسات ان کے چہروں پر لکھے نظر آرہے ہیں ، وہ کہہ رہے ہیں،اگر یہ غاصب لوگ پاکستان کی پیٹھ مضبوط نہیں کرسکتے تو کم از کم پاکستان کی پیٹھ پر دشمنوں کے ساتھ مل کر لاٹھیاں تو مت برسا ئیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے برطانیہ کے وزیر اعظم کو آج کے پاکستان اور گذشتہ انتخابی کل کا آئینہ دکھایا ہے لیکن غلاموں کا غلا م ترجمان پرنٹ اور سوشل میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا ، لکھتے ہیں  ، عمران خان نے برطانیہ سے مدد مانگ لی ۔
جب کہ آزاد اور خود مختار پاکستان کا خواب دیکھنے والے کہتے ہیں ،
کمینوں کے سینگ نہیں ہوتے وہ اپنے خاندانی اخلاق اور قول و فعل سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔

پاکستان کی تین بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائد ین سے درخواست ہے ، خدا کے لئے پاکستان کی عوام کو نورا کشتی کے کھیل میں اپنے جلسے اور جلوسوں میں خوار مت کریں ، تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے ، اپنے خطابات میں تم جو کہتے ہو وہ ہی کچھ عمران خان پاکستان میں چاہتا ہے ۔ تو پھرتمہاری کون سی مجبوری ہے کہ تم امن و استحکام ، قومی اور مذہبی خوشحالی ، آز اد اور خود مختار خوبصورت پاکستان کے لئے تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، قومی راہزنوں کے آلہ کار بن کر قو می راہبروں کا خون کرتے ہوئے اپنی آخرت کو کیوں بھول جاتے ہو۔

اقوام عالم کے باشندے سوچ رہے ہیں، اگر پڑھے لکھے لوگ جاہلوںکی غلامی کریں تو اس سے بڑی بد نصیبی پاکستان کی اور کیا ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply