• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سیاسی دھما چوکڑی کی گرج میں طلوع ہوتا ہوا 2019ء کا سورج — غیور شاہ ترمذی

سیاسی دھما چوکڑی کی گرج میں طلوع ہوتا ہوا 2019ء کا سورج — غیور شاہ ترمذی

تحریک انصاف کی  22 سالہ طویل جدوجہد اور پھر  اقتدار کے تخت  پر براجمان ہونے کے بعد مسلسل ایک دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے- عمران خان  کی ساری جدوجہد کا مرکزی نقطہ یہی تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت ملک کو لوٹ کھسوٹ رہی ہے اور ان دونوں نے اقتدار پر آنے کے لئے باریاں لگائی ہوئی ہیں- اسی پروپیگنڈہ کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بناتے ہوئے عمران خان  اور ان کی جماعت نے الیکشن 2018ء میں مرکز سمیت صوبہ خیبر پختونخوا  اور صوبہ پنجاب میں اپنی حکومتیں بنانے میں کامیابی حاصل کی جبکہ صوبہ بلوچستان کی حکومت روایتی طور پر مرکزی حکومت کی حریف ہی ہوا کرتی ہے-

صرف صوبہ سندھ ہی وہ واحد نقطہ اقتدار تھا جہاں تحریک انصاف کی بجائے پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور اپنی حکومت بنائی- دسمبر 2018ء کے اختتامی دنوں میں تین (3) وفاقی وزراء سندھ سے پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کے لئے اندرون سندھ کے دورہ جات کرنے, پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے اور گورنر راج نافذ کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں-

پی ٹی آئی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ چونکہ عدالت عظمی کے حکم پر بنی وفاقی تحقیقاتی اداروں کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم) نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کئے ہیں اس لئے وہ مستعفی ہوں یا ان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد سے گرایا جائے گا- حکومتی وزراء کے دعووں کے مطابق ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے 20 سے 22 ممبران صوبائی اسمبلی اس وقت بھی رابطہ میں ہیں جو اسمبلی کے اندر سے قائد ایوان کی تبدیلی کے لئے پی ٹی آئی کی حمایت کریں گے- مگر وفاقی وزراء یہ بتانا بھول ہی گئے ہیں کہ ان تمام متوقع فارورڈ بلاک امیدواران میں سے ہر ایک وزارت اعلی کے لئے بذات خود امیدوار ہے جبکہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائینس کے ممبران وزارت اعلی اپنے گروپ کا حق سمجھتے ہیں- اس کے علاوہ موجودہ قائد حزب اختلاف سید شمیم نقوی بھی وزارت اعلی کے لئے خود کو تحریک انصاف کا امیدوار سمجھ رہے ہیں- واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس (99) سیٹیں ہیں, تحریک انصاف کے پاس (30) سیٹیں, متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (21) سیٹیں, گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (14) سیٹیں, تحریک لبیک پاکستان (3) سیٹیں اور متحدہ مجلس عمل کی (1) سیٹ ہے- اس طرح پیپلز پارٹی کی (99) سیٹوں کے مقابلہ میں حزب اختلاف کی (69) سیٹیں ہیں-

دوسری طرف پیپلز پارٹی کا یہ کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو حکومت کرنا شروع کر دینا چاہئے اور خود کو کنٹینر والی اپوزیشن کے کردار سے حکومتی پارٹی کے کردار میں تبدیل کرنا چاہئے- پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جے آئی ٹی کی بے بنیاد اور ناقص رپورٹ کو حتمی تفتیش اور عدالتی فیصلہ سمجھ کر سندھ حکومت گرانا چاہتی ہے جس کے لئے وہ گورنر راج کے نفاذ, فارورڈ بلاک بنانے جیسے اقدامات کرکے 1990ء کی دہائی کی سیاست کو دوبارہ قومی منظر نامہ میں شامل کر رہی ہے- پیپلز پارٹی کے مطابق سندھ اسمبلی میں حکومتی ممبران اور اپوزیشن ممبران کے تعداد میں فرق اتنا بڑا ہے کہ نہ تو پیپلز پارٹی سے اتنا بڑا فارورڈ بلاک بن سکے گا اور نہ ہی عملا” گورنر راج کا نفاذ ممکن ہو گا-

پیپلز پارٹی قیادت کا یہ الزام بھی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ان کی قیادت پر بےبنیاد الزامات لگا کر دراصل 18ویں ترمیم کی واپسی اور سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کے لئے پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈال رہی ہے- پیپلز پارٹی کے ان دونوں الزامات کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ دو وفاقی وزراء کے بیانات میں 18ویں ترمیم کی واپسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بارے بات کی گئی ہے- وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے البتہ ایک نجی ٹیلی ویڑن شو میں یہ واضح تردید کی کہ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں گورنر راج لگانا چاہتی یے یا 18ویں ترمیم کی واپسی کے لئے پیپلز پارٹی پر کوئی دباؤ ڈال رہی ہے-

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگلے سال 2019ء میں حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج سیاسی استحکام قائم کرنا ہوگا کیونکہ اقتصادی بحالی کے لئے درکار سازگار پرامن ماحول صرف سیاسی استحکام کا مرہون منت ہوتا ہے- مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خاں کو اپنی جارحانہ سیاست کو اپوزیشن والے مزاج کی بجائے حکومتی مزاج میں تبدیل کرنے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ ن لیگ پر جاری مقدمات اور گرفتاریوں کے بعد پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی گرفتاری اور ان پر مقدمات سے سیاسی درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جائے گا جس سے شدید سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہوگا اور اقتصادی بحالی کے لئے درکار پر امن ماحول بھی شدید ابتری کا شکار ہو جائے گا-

آنے والے سال میں اپوزیشن کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کی قیادت پر چلنے والے مقدمات کے بعد پارٹی چلانے کے لئے متبادل قیادت پر بھی اگر ویسے ہی مقدمات اور ریفرنس  دائر ہو گئے تو ان کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوتا جائے گا- فی الحال تو اپوزیشن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اور خود حکومت ہی پےدرپے غلطیاں کرکے اپنے لئے اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی سیاست کا رخ جارحانہ اپوزیشن مزاج سے حکومتی مزاج کی طرف تبدیل ہوا تو اپوزیشن کے لئے مشکلات کھڑی ہونا شروع ہو جائیں گی- ان مشکلات میں اپوزیشن کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی کے ریفرینسز ہیں جو مختلف تحقیقاتی اداروں کی طرف سے اپوزیشن کے پچھلے 33 سالہ حکومتوں کے ادوار میں مختلف پراجیکٹس کی چھان بین میں سامنے آ رہے ہیں-

تحریک انصاف کی حکومت کے لئے جارحانہ رویہ اختیار کئے رہنے کا کوئی جواز بنتا بھی نہیں ہے کیونکہ بشمول نیب سارے تحقیقاتی ادارے درجنوں معاملات کی چھان بین میں اپوزیشن راہنماؤں کے خلاف انکوائریوں, تحقیقات اور ریفرینسز مراحل میں ہیں- تحریک انصاف کا انتخابی نعرہ بھی یہی تھا کہ وہ بدعنوانی کی تحقیقات کروائیں گے اور بےایمان سیاستدانوں کو قانون کے دائرہ میں لائیں گے- جب یہ سارا کام بذات خود تحقیقاتی ادارے سرانجام دے رہے ہیں تو تحریک انصاف کے جارحانہ رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے- عمران خاں کی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اگلے سال میں سیاسی استحکام قائم رہنے دے کر اقتصادی بحالی کو حاصل کرنے کی کوشش کرے- اگر تحریک انصاف اقتصادی بحالی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ کامیابی اس کے لئے بلدیاتی انتخابات میں بھی کامیابی کا دروازہ کھول دے گی- واضح رہے کہ 2020ء میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات کے بعد ایوان بالا میں پارٹی پوزیشن تحریک انصاف کے حق میں تبدیل ہو جائے گی اس لئے 2019ء کے طلوع ہوتے سورج میں تحریک انصاف کو بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *