ہماری بیگم خالہ زاد بھی ہیں۔ اپنی نوجوانی کے زمانے میں ہم نے انھیں یہی کوئی دو یا تین بار دیکھا ہو گا۔ نہایت سنجیدہ ، کم گو اور سمٹی سمٹائی سی لگی تھیں۔ ایک بار سردیوں کی چھٹیوں میں یہ لاہور سے اپنے گاؤں اور پھر ہمارے ہاں دو ہفتوں کے لیے رہنے آئیں۔ ہم تب کالجیٹ تھے۔ چونکہ فراغت چل رہی تھی تو باوجود شدید ٹھنڈ کے ہم نے ٹنڈ کرا رکھی تھی۔ صبح سویرے ڈھور ڈنگر ، دو بکریوں ، ایک کھوتے ، گھوڑی اور ایک مینڈھے (لیلے) کو شیک کر گوہال (مویشی خانہ) سے نکالتے اور آبائی چراہ گاہ کی طرف جاتی پگڈنڈی پر چل پڑتے۔ سب پالتو جانوروں کے پیار کے نام تھے۔ گائیوں میں ایک شیتل اور دوسری پُھلاں تھی ، بیل کا نام رجو ، بکریاں مندری اور سجنی ، کھوتا پوما کہلاتا تھا ، گھوڑی شِمی تھی اور لیلے کا اسم شریف گوگنا تھا۔ ہم ایندھن باندھنے والی رسی کمر کے گرد کَس کر اس میں ایک طرف بانسری اور دوسری طرف تیز دھار بلیڈ والی چھوٹی کلہاڑی اڑس لیتے۔ گلے میں حمائل چرمی زنبیل میں رات کی باسی گندم کی دو خمیری روٹیاں ، پیاز کی ایک بڑی گانٹھ ، گڑ کی آدھ پاؤ بھیلی ، فلپس کا چار بینڈ والا ریڈیو اور ایک اچھی سی من پسند کتاب ہوتی۔ واپسی شام کے جھٹپٹے میں ہوا کرتی۔
ٹنڈ کرانے کی غرض و غایت یہ تھی کہ فارغ البالی کے ہوتے ہوۓ رومانوی سرگرمیوں کی طرف دھیان نہیں جاتا تھا اور نہ ہی ہماری اس ہئیت کذائی سے نسوانیت کو تحریک مل سکتی تھی۔
ہماری اس کزن بارے ہمارے دل و دماغ میں کہیں بھی یہ گمان بلکہ شائبہ تک نہیں تھا کہ کبھی یہ ہمارے جیون کا اٹوٹ حصہ بن جائیں گی۔ چونکہ یہ تھیں کافی سگھڑ ، سلیقہ مند ، مستعد اور گفتگو کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ کفایت شعار تو ہماری دادو کے دل کو بھا گئیں ۔ اٹھتے بیٹھتے وہ ان کی صفتیں گنتی اور دعائیں دیا کرتیں۔ ہم دونوں کی عمروں میں پانچ سال کا تفاوت ہو گا۔
وقت یوں گزرا جیسے گھنے جنگلوں میں دھند اڑتی ہے۔ برسوں بیت گئے ۔ ہماری پہلی شادی کراچی میں اس دن ہوئی جب لیڈی ڈیانا فرانس میں پاپا رازی صحافیوں کے تقاقب سے بچتے بچتے جان لیوا حادثے کی نذر ہو گئی ۔ چھ سال بیت گئے ۔ 2002ء میں ہمارا چھوٹا بھائی جیدی اپنی شہادت سے ہفتہ بھر قبل واہ کینٹ آیا۔ دو تین دن اس کی معیت میں بہت مصروف گزرے۔ بے شمار باتیں ہوئیں ۔ ایک شام چاۓ پیتے ہوۓ اس نے باتوں باتوں میں کہا ۔۔۔ ”بھائی ، کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایک ہستی آج بھی آپ کی منتظر ہے۔“ ہم چونک اٹھے اور جیسے تیز رَو ریل کی کھڑکی سے بہت سارے منظر گزر جاتے ہیں مگر ہم کسی بھی جھلک کے بارے تیقن سے نہیں کہہ سکتے کہ باقیوں سے کتنی منفرد ہو گی۔ پوچھا : ”پہیلیاں نہ بھجواؤ ، بتاؤ کون ہے وہ۔“
بھائی نے نام بتا دیا۔ جیدی کی منگنی ہماری اس بیگم کی چھوٹی بہن سے ہو چکی تھی لیکن ان کے والدین ترتیب کو توڑنا نہیں چاہتے تھے اور یہ کہیں رضامندی ہی نہ دے رہی تھیں۔ اپنوں اور غیروں کی متعدد کاوشیں رد ہو چکی تھیں۔ بھائی کی شہادت کے باعث اس کی کہی بات تحت الشعور میں ہی کہیں رہ گئی ۔ ایک سال مزید نکل گیا۔ وجہ یاد نہیں کہ لاہور کیونکر جانا ہوا لیکن ہوٹل سے ایک شام ہم خالہ کے ہاں چلے گئے تو دیکھا ہال کمرے کے اوپن کچن میں ایک سمارٹ سی میچور لڑکی کھانا بنانے میں غرقو غرقی ہے۔ دفعتاً پلٹ کر دیکھا تو برسوں پرانے نقوش و نگار پہچان گئے اور اس کے ساتھ ہی جیدی کی بات بھی کوندے کی طرح چمک اٹھی۔ ڈیڑھ یا دو گھنٹے ہماری نشست رہی۔ کھانے کے بعد ہم بزرگوں سے اذن رخصت لے کر اٹھے تو وداع کو یہ دروازے تک آئیں اور اسی دیرینہ کفایتِ لفظی کے ساتھ پوچھا : ”جیدی نے کچھ کہا تھا؟“
ہم نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا : ”ہاں ۔۔۔ لیکن اب صورتحال کافی پیچیدہ ہے۔ ہنگامے چھڑ جائیں گے۔“
باقی تفصیل کو یہیں چھوڑتے ہیں۔ بہت لے دے اور افراتفری کے بعد ہم انھیں بیاہ کر ان کے گاؤں سے اپنے گھر لے ہی گئے ۔

2004ء کا اکتوبر اور بارش کی جھڑی لگی تھی ، ہم ان کا گھونگٹ اٹھانے لگے تو مدتوں کی رکی ہوئی ہنسی بے قابو ہو گئی ۔ تادیر دونوں ہنستے رہے۔ چونکہ مسلسل بارش میں یہ چار کلومیٹر کا فاصلے ڈولی میں طے کر کے پہنچی تھیں تو ٹھنڈ اور بے طرح بھیگنے کے باعث طبیعت کافی حراب تھی۔ حجلہ عروسی میں جہیز کے اسباب بکھرے ہوۓ تھے لیکن ہم نے چاۓ بنانے کی گنجائش نکال ہی لی اور پیٹرومیکس پر چاۓ تیار کر کے انھیں پیش کی (اور تب سے آج تک یہ صرف ہمارے ہی ہاتھ کی بنی چاۓ پیتی ہیں)۔
جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں