اور اب کرکٹ میں بھی سیاست۔۔

وہ 3 مارچ 2009 کی خوشگوار صبح تھی۔ اسلام آباد میں ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ٹی وی چینلز پر چیختی چنگھاڑتی بریکنگ نیوز آنا شروع ہوئیں کہ لاہور لبرٹی مارکیٹ کے نواح میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ہے۔ بس ڈرائیور کمال مہارت سے اپنے ہوش وحواس کھوئے بغیر گولیوں کی بوچھاڑ میں سے بس کو قذافی سٹیڈیم کے گیٹ کی طرف بھگا لیجانے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دور کا خاتمہ ہو گیا جو آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی تاحال جاری ہے۔
9/11 کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال نے اس سے پہلے بھی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کسی حد تک بند کر رکھے تھے۔ 8 مئی 2002 کو کراچی شیرٹن ہوٹل کے باہر ایک دھماکہ ہوا جس میں تقریباً 11 فرانسیسی انجینئرز جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ روڈ کے دوسری طرف واقع ہوٹل میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ٹھہری ہوئی تھی جس نے دھماکہ ہونے کے کچھ دیر بعد ہی پاکستانی ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ میچ کھیلنے کیلئے سٹیڈیم روانہ ہونا تھا لیکن دہشتگردی کی کارروائی کے باعث وہ سٹیڈیم روانہ ہونے کی بجائے دورہ منسوخ کرتے ہوئے ایئرپورٹ سے واپس نیوزی لینڈ روانہ ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا، اگر کوئی ٹیم آئی بھی تو عملاً پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترلے منتوں اور فول پروف سیکورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کے بعد۔ لیکن عملاً کرکٹ کے حوالے سے پاکستان کی میزبانی دبئی منتقل ہو چکی تھی۔ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کو “سفارتی بلیک میلنگ”کے ذریعے پاکستان لایا گیا۔ پاکستان نے سری لنکا کو یاد دلایا کہ 1980 کی دھائی کے اواخر اور 90 کی دھائی کے آغاز میں سری لنکا کی اندرونی خراب سیکورٹی صورتحال کے باعث جب بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں نے سری لنکا جانے سے انکار کیا تھا تو پاکستان نے تب بھی اپنی کرکٹ ٹیم سری لنکا بھیجی تھی۔ سری لنکا نے ہمارے احسان کا بدلہ چکانے کیلئے اپنی ٹیم پاکستان بھیج دی، دشمنوں کو یہ سب ہضم نہ ہوا اور سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ دراصل پاکستان کرکٹ پر حملہ تھا جس کے نتیجے میں آج بھی پاکستان آ کر کھیلنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا اور پاکستان سپر لیگ بھی ہم دبئی میں کروانے پر مجبور ہیں۔
پی ایس ایل 2017 کے انعقاد کا اعلان ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے فائنل لاہور میں کروانے کا عندیہ دیا۔ آپریشن ضربِ عضب کے بعد سیکورٹی صورتحال بھی بہت بہتر ہو چکی تھی لیکن برا ہو اس دہشتگردی کا جس نے 2017 کے فروری کو ایک بار پھر خون میں نہلا دیا اور پی ایس ایل فائنل کا لاہور میں انعقاد ایک بار پھر مشکوک ہو گیا۔
حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد بہت سے حلقوں نے اسے پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد کو روکنے کی سازش قرار دیا حتٰی کہ آرمی چیف نے بھی اسے پی ایس ایل کیخلاف سازش قرار دے کر فائنل لاہور ہی میں کروانے کا اعلان کر دیا۔ کرکٹ بورڈ اور حکومت تذبذب میں مبتلا ہو گئے اور کئی اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے بعد بالآخر فائنل لاہور میں کروانے کا اعلان کر دیا۔ ابھی حکومت اور بورڈ تذبذب میں مبتلا تھے کہ عمران خان صاحب نے بھی فائنل پاکستان میں کروانے کے حق میں بیان جاری کیا۔ اُس وقت تک شاید خان صاحب کے ذہن میں یہ تھا کہ ن لیگ کی حکومت میں اتنا دم نہیں کہ وہ ان حالات میں میچ پاکستان میں رکھوانے کا فیصلہ کر سکے۔ لیکن جب حکومت نے فائنل کے پاکستان مٰیں انعقاد کا اعلان کیا تو خان صاحب نے ایک دم پینترا بدلا اور اس فیصلے کو پاگل پن قرار دے دیا۔
کرکٹ کو لیکر ملک میں سیاست بازی شروع ہو گئی۔ کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں کی طرف سے منسوب بیانات گردش کرنے لگے کہ خان صاحب کے مؤقف کی وجہ سے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔ گو کہ بعض کھلاڑیوں کی طرف سے ایسے بیانات کی تردید بھی آئی لیکن خان صاحب کے کرکٹ لیجنڈ ہونے کے باعث ان کی بات کرکٹ کے بین الاقوامی حلقوں میں بہر حال سنی جاتی ہے۔ اگر خان صاحب تحفظات کے باوجود حکومت کے فیصلے کے بعد اس کی تائید کر دیتے تو شاید کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرف سے کچھ ایسے بیانات ہم سنتے جس سے ہمیں خوشی ہوتی کہ پاکستان کے حالات کے باعث ہمیں وہاں جا کر کھیلنے پر تحفظات ہیں لیکن دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرنے والے عمران خان کی یقین دہانی پر ہم وہاں جا کر ضرور کھیلیں گے۔
کرکٹ کا مسئلہ کسی کی ذات کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے۔ خان صاحب کی بات میں وزن ہو سکتا ہے لیکن یہ سب باتیں اُن کو فیصلے سے قبل حکومت کے گوش گزار کرنی چاہئے تھیں۔ لیکن وہ ایسا کیوں کرتے!! نواز حکومت کیخلاف جنگ اب اصولی کی بجائے اُن کی انا کی جنگ ہے۔ اگر وہ پہلے حکومت کو کوئی صلاح دے دیتے تو ان کی شان میں فرق آ سکتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ 1960 اور 70 کی دھائی کے اپوزیشن لیڈر ہوتے تو حکومت سے تمام تر اختلافات کے باوجود قومی غیرت کے مسئلے پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ذرا وہ منظر یاد کیجئے کہ جب 1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان اپنے ایک بازو سے محروم ہو چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شملہ مذاکرات کے سلسلے میں بھارت روانہ ہو رہے تھے۔ ملک میں بھٹو صاحب کی مضبوط اپوزیشن موجود تھی جس میں اس وقت کی سیاست کے بڑے بڑے نام موجود تھے۔ ولی خان، نوابزادہ نصراللہ خان، سید مودودی، مفتی محمود، میاں طفیل، شاہ احمد نورانی جیسے قدآور لوگ بھٹو صاحب کے مخالفین تھے۔ لیکن جب بھٹو شملہ جانے کیلئے ایئرپورٹ پہنچے تو تمام اپوزیشن کی نمائندگی انہیں رخصت کرنے کیلئے وہاں موجود تھی کیونکہ بھٹو صاحب اپنی ذات کی نہیں بلکہ پاکستان کی نمائندگی کرنے بھارت جا رہے تھے۔ اس سے قبل ایوب خان کے دور میں سید مودودی عرب ممالک کے دورے پر تھے۔ ملک میں ایوب خان کیخلاف تحریک چل رہی تھی۔ ایوب خان وہ تھے جنہوں نے ایبڈو قانون کے تحت ملک میں سیاسی جماعتوں پر پابندی عاید کی تھی۔ اُن کے دور میں جماعتِ اسلامی پر مکمل پابندی عاید کر کے اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ جماعتِ اسلامی اس تحریک میں ایوب خان کیخلاف مرکزی کردار ادا کر رہی تھی۔ ایک غیر ملکی صحافی نے سید مودودی سے پاکستان میں ایوب خان کیخلاف جاری تحریک سے متعلق سوال کیا تو سید مودودی نے کہا کہ وہ پاکستان کی سیاست کو پاکستان چھوڑ آئے ہیں، یہاں وہ کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہماری سیاست تو رواداری کی ایسی مثالوں سے بھری پڑی تھی لیکن پھر زرداری، نوازشریف، اسفندیار اور عمران خان ہمارا نصیب ہو گئے جنہوں نے کھیل کو بھی سیاست کی نذر کر دیا۔ نہ موقع دیکھتے ہیں نہ محل، بس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا موقع ہاتھ آجائے۔ اپنی ذاتی اناؤں کو گنے کے رس پِلا پِلا کر اتنا موٹا کر دیا ہوا ہے کہ قومی نوعیت کا کوئی معاملہ بھی ایک دوسرے پر تنقید سے انہیں باز نہیں رکھ سکتا۔ خان صاحب مسلسل کرکٹ میچ کو لیکر بیان بازی کیے چلے جا رہے ہیں، وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ محض نوازشریف کی مخالفت میں وہ پاکستان کا چہرہ دنیا بھر میں داغدار کر رہے ہیں۔
دوسری طرف ھکمران ہیں جو کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت کسی بھی قسم کی بصیرت کو قریب بھی نہیں آنے دیتے۔ کرکٹ بورڈ اور حکومت کو چاہیے تھا کہ فائنل پاکستان میں کرانے کا فیصلہ کرنے سے قبل آئی سی سی اور دوسرے کرکٹ بورڈز کو اعتماد میں لیتے، فول پروف سیکورٹی کی یقین دہانی کرواتے، بین الاقوامی کھلاڑیوں کے دلوں میں موجود خوف کو دور کرتے اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کرتے۔ خان صاحب اور اپوزیشن کو بھی چاہئے تھا کہ فیصلے سے قبل تمام حالات اور تحفظات کھل کر حکومت کے سامنے رکھتے لیکن فیصلہ آ جانے کے بعد یکسوئی کے ساتھ حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے کہ یہ کسی کی ذات کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ تھا لیکن ایسا کیسے ہوتا!!

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *