حسینہ واجدسے سبق سیکھیں/آغرؔ ندیم سحر

شیخ حسینہ واجد کا پندرہ سالہ اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا،جمہوری لبادے میں آمریت کا پرچار کرنے والوں کے عبرت ناک انجام ہر دنیا تاحال ششدر ہے،وہ نظام جو جبر اور فسطائیت پر کھڑا تھا،چند دنوں میں ڈھیر ہو گیا۔عوام اور نوجوانوں کی طاقت کے ساتھ سامنے بھارت نواز پالیسی بھی دم توڑ گئی اور فوج کی حمایت بھی،سب ملیا میٹ ہو گیا اور آج بنگالی آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔ہمیں موجودہ احتجاج اور تکبر کے زوال کی بجائے ان پہلوؤں پر بات کرنی ہو گی جن کی وجہ سے صورت حال اس قدر خراب ہوئی کہ شیخ حسینہ واجد جو خود کو اس داستان کا لازوال کردار سمجھتی تھی،بھارت بھاگنے پر مجبور ہو گئی،انھیں پریس کانفرنس کرنے کا بھی موقع نہیں ملا ،ڈنڈے کے زور پر استعفیٰ لیا گیا اور انھیں خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا۔شیخ حسینہ واجد چوتھی مرتبہ حکومت میں آئی تھیں اوریہ طاقت اور عہدہ عوامی امنگوں کے برعکس تھا،حالیہ الیکشن میں انھیں جتوانے کے لیے جس طرح طاقت کا استعمال کیا گیا،اپوزیشن کو اقتدار سے بے دخل رکھنے کے لیے مخالفین کو دیوار سے لگانے کا عمل ایک عرصے سے جاری تھی،بولنے والوں کی زبانیں بند کروائیں گئیں،بیوروکریسی سے لے کر میڈیا اور فوج تک،ہر اس زبان کو بند کروایا گیا جو حسینہ واجد سے جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر رہا تھا،کئی فوجی افسران غائب کروائے گئے،کئی سیاست دان کو بلاوجہ جیل کی سلاخوں میں رکھا گیا،نوجوانوں کے حق پر ڈاکا مارنے کے لیے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جس سے صرف اشرافیہ اور طاقت ور مستفید ہو سکتا تھا۔عوام کی امنگوں کا بھی خون کیا گیا اور جذبات کا بھی،تعلیمی اداروں سے لے کر نوکر شاہی تک،ایک ایسا نظام چل رہا تھا جس کا انجام یہی ہونا تھا،یہ کچھ نیا نہیں بلکہ اس کے بارے اس وقت بھی لکھا اور بولا جا رہا تھا جب شیخ حسینہ واجد دوسری مرتبہ ذبردستی نظام پر مسلط کی گئیں تھیں۔
تین اداور مکمل کرنے کے بعد بھی اگر حسینہ واجد اپنی ساکھ بحال نہیں کر سکیں اور ایک ایسا نظام متعارف نہ کروا سکیں جو عوامی امنگوں کا ترجمان ہو تو پھر انھیں عزت ستیگھر چلے جانا چاہیے تھا مگر کیا کریں،انسان بہت خود غرض اور لالچی ہے،وہ طاقت کے نشے کو ابدی سمجھ لیتا ہے،یہی بنگالیوں کے ساتھ ہوا۔۱۹۹۶ء میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو عوام نے جشن منایا مگر انھوں نے اس جشن میں خود کو لازوال سمجھ لیا اور پھر ۲۰۰۹ء سے تاحال،وہ بطور وزیر اعظم اپنی کدمات سرانجام دے رہی تھیں،بھارت نواز پالیسیوں نے ان کے اقتدار کو اس درجہ کمزور کر دیا تھا کہ ان پر سے عوام کا اعتماد بالکل ختم ہو چکا تھا۔اگر کسی ملک کی ساٹھ فیصد نوجوان نسل،اپنے ملک کے سربراہ،اداروں اور سیاست دانوں سے غیر مطمئن ہو جائے،متنفر ہو جائے اور ان سے چھٹکارے کی خواہش مند ہو تو بتائیں نظام کیسے چل سکتا ہے؟وہ نظام کیسے چل سکتا ہے جس سے اس کے اپنے لوگ ہی خائف ہوں،حسینہ واجد کے ساتھ بھی یہی ہوا،انھوں نے اپنے دورا اقتدار میں بھارت نوا ز پالیسیوں سے چھٹکارا پانے کی بجائے انھیں اپنے ملک میں نافذ کیا،فوجی افسران کو صرف اس لیے نوازا کہ اس کا اقتدار چلتا رہے،تعلیمی اداروں پر سفارش مافیا کو مسلط کیا اور نوجوانوں کو حق پر دن دیہاڑے ڈاکا مارا گیا۔کوٹہ سسٹم کی بحالی کا مقصد صرف اور صرف اشرافیہ کو نوازانا تھا،مہنگائی اور بے بہا ٹیکسوں کے ذریعے غریب عوام کا خون چوسا گیا،لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل بنا دی گئی،ایسے میں چند نوجوان نکلے،اپنے حق کی بات کی اور پھر دنیا نے دیکھے،کارواں بنتا گیا اور یہ چند لوگوں کا احتجاج ہزاروں اور لاکھوں کی شکل اختیار کر دیا،کوٹا سسٹم کے خاتمے سے بات شروع ہوئی اور وزیر اعظم کے استعفے تک پہنچ گئی۔
ریاست اور نظام،ان کا بنیادی مقصد اور فریضہ اپنے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے مگر بنگلہ دیش جیسے پس ماندہ ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا،یہاں اقتدار میں آنے والے خود کو لازوال سمجھتے ہوئے نظام پر ایسے قابض ہوتے ہیں کہ جانے کا نام نہیں لیتے،وہ خود تو اقتدار کے مزے لیتے ہیں،اپنی نسلوں اور خاندان کے لیے بھی راستہ ہموار کرتے ہیں،انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ یہ نظام ختم ہو جائے گا،طاقت چھین لی جائے گی،لازوال صرف خدائے لم یزل ہے،باقی سب کو فنا ہے،بنگالی لیڈرشپ نے اس فنا کا مطلب نہیں سمجھا۔حسینہ واجد کے پندرہ سالہ اقتدار میں جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے تین سو سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی،جیلوں میں پھینکا گیا،ناجائز مقدمات میں پھنسایا گیا مگر اس سب کے باجود جبر اور فسطائیت کا نظام تباہ ہو گیا۔آپ کچھ دیر کے لیے بنگلہ دیش کے موجودہ حالات کا موازنہ پاکستان سے کریں اور دیکھیں ہم کہاں کھڑے ہیں،ہمارا نظام کہاں کھڑا ہے،ہمارے لوگ کیا چاہتے ہیں،ہمارے نوجوانوں کے مطالبات کیا ہے اور ہم انھیں کس طرح نظرانداز کر رہے ہیں،یہ سوالات مجھے خوف میں مبتلا کر رہے ہیں۔میرے حکمرانوں اور طاقت ور اداروں کو ایک مرتبہ،صرف ایک مرتبہ سوچنا چاہیے کہ کراچی،اسلام آباد اور بلوچستان میں بیٹھے مظاہرین اگر مشتعل ہو گئے تو کیا ہوگا،اپنے حقوق کی جنگ لڑتے میرے نوجوان،اگر آپے سے باہر ہو گئے تو اس نظام کا کیا ہوگا،میرے ملک کا کیا ہوگا؟ایک مرتبہ،صرف ایک مرتبہ سوچیں اور اس ملک پر رحم کریں،یا تو اقتدار چھوڑ دیں یا پھر شیخ حسینہ واجد سے سبق سیکھیں۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply