بنگلہ دیش سے سبق سیکھنا چاہیے/ شہزاداحمدرضی

سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش اس وقت ایک زبردست تبدیلی کا سامنا کررہا ہے۔ عوامی لیگ کی سربراہ اور شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد طویل عرصہ وزیراعظم رہنے کے بعد طلبہ کے بھرپور احتجاج کے بعد مستعفی ہوکر بھارت سدھار گئی  ہیں۔ایک بار پھر بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
بنگالی نوجوان اس سے پہلے بھی متعدد بار اپنی طاقت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے خواجہ ناظم الدین گورنرجنرل تھے۔ وہ تحریک پاکستان کے ایک ممتاز رہنما تھے اور قائداعظمؒ کی وفات کے بعد گورنرجنرل بنے۔ یہ وہ دور تھا جب مشرقی پاکستان میں بنگالی کی بھی متحدہ پاکستان کی سرکاری زبان کے حق میں تحریک چل رہی تھی۔ نوجوان اس تحریک میں آگے آگے تھے۔اسی طرح کی کسی ایک ریلی پر پولیس نے فائرنگ کردی اور متعدد طلبہ مارے گئے۔ طلبہ کے خون نے اس تحریک کو پورے مشرقی پاکستان کی بھرپورتحریک بنا دیا اور مجبوراً 1956ء کے آئین میں اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی پاکستان کی سرکاری زبان بنادیا گیا لیکن تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔یہ 1952ء کا واقعہ ہے۔ اس سانحہ نے جہاں نفرت کے بیج بوئے وہاں اس واقعہ نے اس بات پر مہر لگا دی کہ جلد یا بدیرمشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے جدا ہوجائے گا۔

شیخ مجیب الرحمن کا بھی سیاست میں داخلہ ایک سٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر ہی ہوا تھا۔ اس کی سیاسی پرورش حسین شہید سہروردی نے کی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی بہت فعال تھا۔ پھر جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ کی کوتاہ بینی کے نتیجے میں وہ مشرقی پاکستان کا ایک ہردلعزیز لیڈر بن گیا۔ وہ بھٹو کی طرح کسی بھی قیمت پر اقتدار چاہتا تھا۔ اور بھٹو کی طرح وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا لیکن اس کی قیمت پاکستان کو اپنا مشرقی بازو کٹواکردینی پڑی۔ بھٹو، مجیب اور یحییٰ کی ہوس اقتدار نے اس ملک کو دولخت کردیا۔ دونوں بازو الگ الگ ہوگئے اور ایک وجود ماضی کی بات بن گیا۔
بقول فیض
ہم کہ ٹھہرے اجنتی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشناکتنی ملاقاتوں کے بعد

مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھی بنگالی طلبہ کا کردار بہت نمایاں رہا۔ لیکن دوسری طرف ایسے نوجوان بھی تھے جو جدائی نہیں چاہتے تھے اور بعد میں انھیں اس چاہت کا خمیازہ حسینہ واجد کی حکومت میں بھگتنا بھی پڑا۔

بنگلہ دیش بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی بنگلہ دیش کی عوام مجیب الرحمن اوراس کے خاندان کی بادشاہت اور کرپشن سے اس قدر اکتا گئے کہ 15اگست 1975ء کو شیخ مجیب الرحمن اپنے خاندان کے بیشتر افراد کے ساتھ ایک فوجی انقلاب میں مارا گیا۔ شیخ حسینہ اس وقت ملک سے باہر تھی اور وہ قتل ہونے سے بچ گئی۔ جیسے پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو اور پھر بینظیر بھٹو کے قتل کو ووٹ لینے اور عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، شیخ حسینہ نے بھی 1975کے واقعے کو ترپ کے پتے کی طرح استعمال کیا۔ وہ 1996سے لے کر 2001ء تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہی اور پھر 2009ء سے لے کر 2024ء تک طویل عرصہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا وہاں بھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ 2009ء سے لے  کر 2024ء تک اسی ”کلیدی کردار“ کے سہارے موصوفہ نے اپنے سیاسی مخالفین کو چن چن کر نشانہ بنایا۔ بی این پی کی خالدہ ضیاء کو کرپشن وغیرہ کے الزام میں طویل سزادلوائی۔ جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو 1971ء میں پاکستان کا ساتھ دینے کے الزام میں پھانسی کے گھاٹ اتارا گیا۔ یعنی موصوفہ نے ظلم اوروحشت کا بازار گرم کیے رکھا۔مکتی باہنی جیسے کرداروں کو خوش کرنے کے لیے ملازمتوں میں بڑا کوٹہ ان کے لیے مختص کیاگیا۔ پارلیمنٹیرینز وغیرہ کے لیے بھی ملازمتوں میں کوٹہ موجود تھا۔ اس ساری بندربانٹ کے بعد عام لوگوں کے لیے کچھ بچتاہی نہ تھا۔ یہ چیز نوجوانوں میں اضطراب کاباعث بنی۔ وہ حسینہ واجد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حسینہ واجد نے انہیں ”رضاکار“ قرار دے دیا۔یاد رہے کہ 1971ء میں متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو رضاکار کہا جاتا تھا۔ حسینہ واجد کا تکبر آسمان کی بلندیوں کو چھورہا تھا۔ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہی نہ تھی۔ فوج کو احتجاج کرنے والے سے آہنی طریقوں سے نمٹنے کا کہا گیا لیکن کب تک؟ بالآخر فوج کو بھی عوامی احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور حسینہ واجد یوں 300سے زائد جانوں کا خون پی کر اس دیس (بھارت)سدھار گئیں جس کی محبت موصوفہ اور اس کے باپ کے خون میں شامل تھی۔حسینہ واجد کی حکومت نے ملکی ترقی کے لیے کافی کام بھی کیا لیکن لوگ آمریت کو ایک حد تک ہی برداشت کرتے ہیں۔ گو کہ حسینہ واجد کی حکومت عوام کے ووٹو ں  سے ہی آئی تھی لیکن موصوفہ کا طرز حکومت آمریت کی بدترین مثال تھی۔

کسی بھی مذہبی اور سیاسی تحریک کو کامیابی نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر نہیں ملتی۔ آپ کسی بھی تحریک کاپس منظر دیکھیں۔ اگر وہ تحریک کامیاب ہوئی یا دنیا کی توجہ حاصل کرسکی تو اس کی وجہ نوجوان ہی ہوتے ہیں۔ وہ نتائج کے بارے زیادہ نہیں سوچتے۔ بوڑھے بزرگوں کی طرح وہ اگر مگر لیکن ویکن کا شکار نہیں ہوتے۔ انھیں جو چیز ٹھیک لگتی ہے وہ بے خوف وخطر اس میں کود پڑتے ہیں چاہے نتائج موافق نکلیں یا مخالف۔

julia rana solicitors london

بنگلہ دیش کی حالیہ تبدیلی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ واقعہ بہت زیادہ توجہ حاصل کرچکا ہے۔ عوام کی طاقت ثابت ہوچکی ہے۔اور یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ اگر عوام کسی معاملے میں بھرپور طریقے سے باہر نکل آئے تو مقتدرہ طاقتیں بھی ہاتھ اٹھا لیتی ہیں۔ پاکستان کے حالیہ واقعات کسی طور پر بھی خوشگوار نہیں ہیں۔ اشرافیہ کے لیے بنگلہ دیش کے حالیہ حالات بہت بڑااشارہ ہیں۔ ملک میں امیر اور غریب، صاحب اقتدار اور ایک عام فرد میں تناؤ اورنفرت بڑھتی جارہی ہے۔ سری لنکا اور پھر بنگلہ دیش کے بعد یہ تبدیلی کس ملک کا راہ دیکھتی ہے، کچھ کہنا شایدزیادہ مشکل نہیں۔ ہمارے ملک کے ازلی صاحبان اقتدار کو سوچنا چاہیے اور اپنے اللے تللے ختم کرکے عوام کی فلاح کے لیے سوچنا چاہیے۔ یہ ملک واقعی نازک دور سے گزررہا ہے۔”خاندانی حکمرانوں“کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اکثر اوقات عوامی طاقت کے سامنے مقتدرہ طاقتیں بھی بے بس ہوجاتی ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply