کور پر لگی تصویر ایک بہت اہم بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ جس کی جانب شاید کسی کا اب دھیان بھی نہیں جاتا ۔پرچم کسی ملک اورقوم کی عظمت کا نشان ہو تا ہے۔ اپنے پرچم کو سربلند رکھنے کی خاطر قومیں اپنے تن من دھن کی بازی لگا دیا کرتی ہیں۔ آپ کے علم میں غزوہ احد میں صحابی رسول مصعب بن عمیرؓ کا واقعہ تو ہو گا جب رسول اللہ ﷺ سے مشابہت کے باعث کفار ان پہ حملہ آور ہوئے اور ان کے دائیں ہاتھ پہ وار کیا، تاکہ علم اسلام کو سرنگوں کر سکے۔ انہوں نے علم بائیں ہاتھ میں لے لیا۔ بایاں بازو بھی شہید ہوگیا تو علم کو کٹے ہوئے بازؤوں سے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ اب کی بار دشمن نے نیزے سے زور دار وار کیا ،نیزے کی اَنی مصعب بن عمیر کے سینے کے پار ہوگئی اور وہ زمین پہ گرے، لیکن ان کے گرنے سے قبل پرچم آپ کے بھائی ابوالروم بن عمیرؓ اور سویبط بن سعدؓ نے پکڑ لیا مگر پرچم گرنے نہ دیا۔
ہم پاکستانی ایک ایسی عجیب قوم ہیں جو ہر سال اپنے پرچم کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ اپنے پرچم کی ایسی بے حرمتی شاید ہی کوئی قوم کرتی ہو جیسی ہمارے ہاں ہوتی ہے ۔ یعنی ہمارے ہاں جشن آزادی کے نام پر جو بے ہنگم تماشا ہوتاہے اور غیر متناسب اورناموزوں پرچم جو ہر خاص و عام کے گھروں پر لہرائے جاتے ہیں اوربعض اوقات تو پھٹ جانے تک نہیں اتارے جاتے، ان کا ماتم تو اپنی جگہ۔ ۔ مگر جو پاکستانی پرچم یا ان سے مشابہہ جھنڈیاں سڑکوں ، گلیوں اور نالیوں میں پڑی ہوتی ہیں وہ بھی قوم کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پہلے کبھی کبھار کوئی ادیب اس پر کوئی افسانہ لکھ دیتا تھا یا پھر کوئی صحافی ایک کالم لکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر دیتاتھا ۔ اب تو وہ بھی نہیں ہے۔ اس موضوع پر جس قدر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اس کی کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ جشن آزادی اس طرح منانے والی یہ بدعت جنرل ضیاا لحق کے دور میں شروع ہوئی تھی اور میرے خیال میں فوج کی عزت میں جو کمی 1971 کی جنگ کے بعد ہوئی تھی ۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاالحق کو کسی عقلمند نے یہ مشورہ دے کرپرچم کی حرمت کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ۔
پرچم کی اہمیت اورعظمت کا اندازہ کرنا ہو تو آپ کسی بھی باڈر پر جاکرپرچم چڑھانے یا اتارنے کی تقریب ضرور دیکھیں ۔ وہ اپنے اپنے پرچم کو ایک مقدس اور متبرک چیز کی طرح چڑھاتے یا اتارتے ہیں اور جس ادب اور احترام سے اسے رکھتے ہیں اس سے پرچم کی اہمیت اورعظمت صحیح طرح واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جس طرح باڈر پر جھنڈا چڑھانے یا اتارنے کے اپنے اپنے قوانین ہیں اسی طرح شہر کی عمارتوں پر بھی جھنڈا لہرانے اور اتارنے کے بھی کچھ قوانین ہیں۔
پاکستان بننے کے شروع کے برسوں میں بلکہ کافی عرصہ تک ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سے اس سلسلے میں باقاعدہ پروگرام نشر ہوتے تھے بلکہ اخبارات میں بھی مضامین لکھے جاتے تھے۔ جس میں پرچم بنانے کے طریقے اور اس کو لہرانے کے قواعد و ضوابط بتائے جاتے تھے۔ مگر اب چند ایک کو چھوڑ کر اخبارات اور الیکٹرنک میڈیا دونوں اس سلسلے سے یا تو غافل ہیں یا پھر خانہ پری سے کام چلاتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے کہا،جھنڈاکسی ملک اورقوم کی عظمت کا نشان ہو تا ہے مگر معذرت کے ساتھ پاکستان میں یہ عظمت ہی اُلٹی ہے ۔ یعنی ہمارےپرچم پر بنا ہوا ہلال (نیا چاند) دیکھنے کے لئے پرچم کو الٹانے یعنی اسے پچھلی سمت سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ صدر یا وزیر اعظم کی تقریر سے پہلے جب قومی ترانہ چلایا جاتاہے تب بھی پرچم الٹا ہی دکھایا جاتا ہے۔ درسی کتابوں اور ودسری کتابوں میں بھی پرچم الٹا ہی پرنٹ ہوتا ہے۔ اور تو اور جب کسی ہائی لیول کی ملاقات میں جب دونوں ملکوں کے پرچم رکھے جاتے ہیں تب بھی یہی صورتحال ہوتی ہے ۔
میری نئی نسل کے قارئین ( بلکہ بہت سے پرانے لوگوں کوبھی) میری یہ بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی ہوگی تو ان کی آسانی کے لئے میں بتا دیتا ہوں کہ اگر آپ نے ہلال (ابھرتا ہوا چاند) Waxing crescent دیکھنا ہو توکسی بھی نئے ماہ کا چاند دیکھ لیں۔ بلکہ آپ لوگ عید،بقر عید کا چاند تو ضروردیکھتے ہوں گے۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ پاکستان کے پرچم پر بنا ہوا چاند، ابھرتا نہیں ہے بلکہ غروب ہوتا ہوا چاند Waning crescent ہے۔
پاکستان کا پرچم سید امیرا لدین قدوائی نے بنایا تھا تو مسلم لیگ کے جھنڈے میں ایک سفید پٹی جو اقلیتوں کی نشاندہی کرتی ہے کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔ اور اسے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ کو منظور کیا گیا ۔ اس وقت بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ پرچم پر غروب ہوتا ہوا چاند ہے تو کسی بزرجمہر نے یہ کہا تھا کہ اگر اس پرچم کو پچھلی سمت سے دیکھا جائے تو یہ ابھرتا ہو ا چاند بن جاتاہے ۔ یوں پرچم کی منظوری دے دی گئی ۔ اسلامی ممالک میں صرف ترکمانستان کے پرچم پر ہلال بنا ہوا ہے ۔ اب کیا کریں کہ عربی میں غروب ہوتے ہوئے چاند کوبھی ہلال کہا جاتا ہے ۔ سو ” خنجر ہلال کا ہے قومی نشان ہمارا ” تو ضرور بن گیا لیکن سوال یہ ہے کہ بعد میں اس پچھلی سمت کا خاص خیال کیوں نہیں رکھا گیا اور اب تو شاید بلکہ یقیناً کسی کو یہ پچھلی سمت والی بات یاد بھی نہیں ہے بلکہ اگر آپ کسی بھی نئی نسل کے نمائندے ( بلکہ بہت سے پرانے لوگوں سے بھی) پوچھ لیں ۔ ان کے ذہن میں خنجر ہلال سے مطلب “ڈوبتا چاند “ہی آئے گا ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اس پچھلی سمت کا ہم پاکستانیوں کو پتہ چل بھی گیا تو ہم دوسری قوموں اور ملکوں کو کیسے بتائیں گے کہ وہ ہمارے پرچم کو پچھلی سمت سے دیکھیں۔ تو زندہ قومیں (اگر ہم زندہ ہیں تو) اپنی غلطی سے سبق سیکھا کرتی ہیں۔ لہٰذا میرے خیال میں اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ فوری طور پرچم پر چاند کے رخ کو تبدیل کر دیا جائے۔
اوّل تو یہ صرف ایک قرار داد کا کام ہے جو یقیناً قومی اسمبلی منظور کر لے گی اور جب تک قرار داد منظور نہ ہو تو مندرجہ ذیل تجاویز اختیا ر کی جا سکتی ہیں ۔؛
۱۔ تمام ناشرین کو حکم جاری کیا جائے کہ جائے پاکستان کاپرچم نئے طریقے یعنی ابھرتےہو ئےچاند کی طرف سے چھاپا جائے ۔
۲۔ ٹی وی پر جب بھی ترانہ چلایا جائے یا پرچم دکھانے کے ضرورت ہو اسے ابھرتےہو ئےچاند کی طرف سے دکھایا جائے۔
۳۔ کسی ہائی لیول کی ملاقات میں جب دونوں ملکوں کے پرچم رکھے جایئں تو پاکستانی پرچم ہمیشہ دائیں سمت میں یعنی جس سمت میں ہلال ہو رکھا جائے۔
اور اگر مندرجہ بالا تجاویز دقت طلب ہیں لہذا ان کے مقابلے میں صرف ایک قرار داد سے اور انتہائی آسانی سےپرچم پر چاند کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستانی پرچم کی ڈنڈے والے جگہ بدل دی جائے یعنی ڈنڈا سفید حصے کے بجائے سبز حصے میں لگا دیا جائے تواس پر موجود چاند خود بخود “خنجر ہلال کا ہے قومی نشان ہمار” یعنی ” ابھرتا ہوا چاند “بن جائے گا۔

نوٹ:۔ بہت سےعقل کل اس بات کو بھی ہلکا لیں گے اور پرچم کی تبدیلی کی اس بات پران کا موقف ہو گا کہ اب گڑے مردے اکھاڑنے کی کیا ضرورت ہے تو مجھے قطعاً تعجب نہ ہو گا کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جو یوم غلامی(۴اگست) کو بھی یوم آزادی منا کے خوش ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان ۵ا اگست کو آزاد ہو تھا۔(یہ ایک الگ بحث ہے)
امید ہےاب آپ کو میری بات سمجھ میں آگئی ہو گی۔اور بقول ایک ماہر فلکیات کےپاکستان پرچم پر بنا ہوا غروب ہوتا ہوا چاندبھی روز بہ روزپاکستان میں پیدا ہونے والے مسائل کا ایک سبب ہو سکتا ہے۔ اپنی حرکتوں سے تو ہم باز نہیں آئیں گے اللہ کرے اس طرح ہی ہمارے ملک کا کچھ بھلا ہو جائے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں