اطالوی وزیر اعظم کے قد کا مذاق اڑانے والی صحافی کو عدالت نے پانچ ہزار یورو کے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ یہ بہت ہی دلچسپ فیصلہ ہے ۔ اختلاف رائے اور ذاتی تضحیک کے حوالے سے انسانی حقوق کو سمجھنے میں بہت مدد گارہے ۔سوشل میڈیا پر اطالوی صحافی اور اطالوی وزیر اعظم کے درمیان شروع ہونے والا یہ جھگڑا عدالت کیسے پہنچا اور اس پر یہ فیصلہ کیسے آیا ۔ جرم کیا تھا اور سزا کس بات پر ہوئی یہ سمجھ آجائے تو شاید ہم ایک بہتر معاشرہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ یہ جھگڑااس بات پر شروع ہوا تھا کہ ایک اطالوی صحافی جولیا کورتیزے نے سوشل میڈیا پر اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلیونی کہ ایک تصویر از را ہ مزاح ایک سوشل میڈیا اکاونٹ سے ٹویٹ کی تھی جس میں وہ ایک دیوار کے ساتھ کھڑی ہیں جس پر سابق فاشسٹ ڈکٹیٹر بینیتو مسولینی کی تصویر تھی ۔ اس تصویر کو شئیر کرنے کا مقصد جورجیا میلونی کا موازنہ ایک ڈکٹیٹر سے کرنا تھا ۔ جورجیا میلونی نے جب وہ تصویر دیکھی تو اسے فیک تصویر کہا اور یہ دھمکی دی کہ وہ متعلقہ صحافی کو عدالت میں لیکر جائیں گی ۔ جوابی لفظی گولہ باری میں جولیا نے ایک اور پھلجڑی چھوڑی کی جورجیا مجھے ڈراؤ مت تمہارا قد تو صرف 4فٹ ہے ۔ مجھے تو تم نظر بھی نہیں آتی ۔
اطالوی وزیر اعظم نے جولیا پر میلان کی عدالت میں کیس کر دیا ۔ تمام کیس سننے کے بعد عدالت نے صحافی کو جورجیا کو ڈکٹیٹر مسولینی کے ساتھ موازنے والی حرکت سے تو بری کر دیا لیکن قد کے بارے میں مذاق والے عمل کو باڈی شیمنگ یعنی اس کے جسم پر بھپتی کسنے کے جرم میں سزا سنا دی اور انہیں پانچ ہزار یورو کا جرمانہ ادا کرنے کا ۔اس فیصلے میں دو تین پہلو بہت اہم ہیں ۔ پہلا یہ کہ یورپی ممالک میں نظریات میں اختلاف رائے رکھنے کا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ بھلے آپ کسی سیاستدان کو ڈکٹیٹر سے ہی کیوں نہ ملا دیں ۔ اس بات پر کوئی سزا نہیں ہے ۔ لیکن اگرآپ کسی کی ذات اور خاص طورپر اس کے قد رنگ یا جسمانی ساخت کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں تو وہ قابل معافی نہیں ہے ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ یورپی ممالک میں ہتک عزت کے کیس کو سنا بھی جاتا ہے اور اس کی سزا بھی سنائی جاتی ہے اور تیسر ا اور اہم پہلو یہ ہےکہ سوشل میڈیا پر ہونے والی لفظی جنگ کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنے مین اسٹریم میڈیا پر کی گئی توہی کو
اب ذرا اس فیصلے کو ذہن میں رکھیں اور اپنے مملکت خدادا د کو دیکھیں ۔ ہمارے ملک میں ہمارے سیاستدان۔ نام نہاد یوٹیوبر ، سوشل میڈیا انفلوئنسر کس طرح نظریات کی بجائے ایک دوسری کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے جسمانی خدوخال کو تختہ مشق بناتے ہیں اور لوگ کس طرح ان توہین آمیز ریمارکس پر بغلیں بجاتے ہیں ۔ نہ تو کوئی ہتک عزت کا دعوی ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کا کبھی کوئی فیصلہ سننے کو آتا ہے ۔ کون کون سے گھٹیا کمنٹ اور ریمارکس لوگوں کو نہیں دئیے جاتے ۔ کسی کو گنجا کہا جاتا ہے تو کسی کی جنس پر پھبتی کسی جاتی ہے ۔ کسی خاتون کی پلاسٹک سرجری کا طعنہ دیا جاتا ہے تو کسی خاتون کے برقعے کو ، کسی کو نشئی کہا جاتا ہے تو کسی لنگڑا ۔ یہ تو سیاستدانوں کی لفظی جنگ ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ یوٹیوبر اور سوشل میڈیا پر لکھنے والے بلاگرز کو دیکھیں تو ان کی تو کوئی حد ہی نہیں کہ وہ کس سطح تک گر سکتے ہیں ۔ کوئی عدالت نہیں کوئی توہین کا مقدمہ نہیں کوئی ہتک عزت کا دعوی نہیں اور اگر کوئی ایسے جغادریوں کو ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے تو آزادی اظہار رائے اور پابندی پابندی کا شور مچاتے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔
میڈیا سے ہٹ کر اگر دیکھیں تو ہم روزمرہ کی زندگی میں بھی اس قباحت سے بچے ہوئے نہیں ہیں ۔ ہمارے ہاں کسی کو بھی بلاتے ہوئے اسے لمبو ، چھوٹو ، ٹھگنا، لنگڑا ، اندھا ، لولا جیسے الفاظ بولنا عام سمجھاجاتا ہے ۔ اور کوئی بھی شخص ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں سوچتا کہ خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتے ہوئے خدا کو ناراض کرنا تو ایک طرف ہم اس شخص کا دل کیسے توڑ رہے ہیں ۔ اس پر کیسی بیت رہی ہو گی ۔ جہاں تک اختلا ف رائے کی بات ہے تو میرا خیال ہے کہ اس کی تعریف میں نظریات پر بحث ہوسکتی ہے لیکن ذاتیات پر گھٹیا تبصرہ کرنے کا کوئی نہ کوئی قانون ہمارے ہاں بھی بننا چاہیے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں