فلسفی کا فلسفہ۔۔۔ابو بکر

“تو تمہارے گاؤں والوں کو کچھ سمجھ آجاتی ہے کہ یہ فلسفہ کیا ہوتا ہے جس کی تعلیم تم نے حاصل کی ہے؟”

میں نے جیب میں دبائے ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو جنبش دیتے ہوئے عرض کیا کہ کیوں نہیں۔ پانچ سال میں اتنا کچھ ضرور سمجھ گئے ہیں کہ یہ سب پڑھنے کے بعد نہ  تو بنک میں نوکری ملتی ہے نہ  ہی بندہ وکالت کر سکتا ہے۔
اتنا سننا تھا کہ وہ دوست بھی سمجھ گئے اور اطمینان تبسم بن کر ان کے ہونٹوں پر کھیلنے لگا۔ ٹھیک اگلی صبح میں نے بطور لیکچرار فلسفہ ایک مقامی کالج میں اپنی حاضری پیش کردی جسے فوراً قبول کرلیا گیا۔

کالج کی نمایاں خصوصیات میں یہ قابل ذکر پہلو شامل ہے کہ یہاں شعبہ فلسفہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ اس سے براہ راست یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ شاید آئندہ کئی ماہ تک سرکار مجھے صرف صبح وقت پر جاگنے کی تنخواہ دیا کرے گی۔ میں نے اس سے پہلے قبلہ والد صاحب کے سوا کسی میں اتنی شدت سے یہ خواہش نہیں دیکھی۔ تاہم وہ بھی اس میں اتنے سنجیدہ کبھی نہ ہوئے تھے اور محض فضائل فجر اور صبح کی سیر نیز صحت پر اس کے مثبت اثرات کی یاددہانی کو ہی کافی سمجھتے تھے۔ سیانے کہتے ہیں کہ عادتیں بھلے نیک ہی کیوں نہ ہوں ان سے ڈرتے رہو۔ کئی برس سے صبح کا وقت جاگنے کی بجائے سونے کے لیے مقرر کررکھا تھا اور واللہ اعلم کیا خوف تھا کہ اس میں کم کم ہی تبدیلی ہوئی۔ اب ایسی مشیت سے کون کورا بھاگے جس میں باقاعدہ تنخواہ کی شق بھی شامل ہو۔

خود کو بدلنا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ تبدیلی اندر سے آئے نا آئے اندر گھستی ضرور ہے۔ جی کھٹا ہی سہی لیکن روز اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ صبح کا رنج نہیں البتہ وہ بے تکلف فرصت بھری راتیں یاد آتی ہیں جن کا سویرا دفتر کو جانے والے راستے کی بجائے اس افسانوی سڑک پر کھلتا تھا جس کا دوسرا سرا ویرانے میں کہیں دور چمکتا نظر آتا ہو۔ دو راتیں تو برابر کانٹوں پر گزریں کہ نہ سو پاؤں نہ  اٹھ کر کچھ اور کرسکوں۔ بہرحال اتنا سوچ لیا تھا کہ اندر گھستی تبدیلی کی راہ تنگ کرنا بھی خوداذیتی میں شمار ہوگا۔ سو چار و ناچار چھٹی نہیں کی۔

ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ موسمی حالات کے پیش نظر اب ہر دو دفعہ نہانے کا درمیانی دورانیہ گھٹا کر دو دن کردیا ہے۔ پہلے یہ مدت اُس وقت سے غیرمعینہ چلی آرہی تھی جب سے ہم نے والدہ سے ضد کر کے خود نہانا شروع کیا تھا۔زمانہ طالبعلمی میں اس عادت کی تاویل و تائید میں ہم نے تصوف اور وجودیت کو یکساں موثر پایا۔ کچھ ظاہر پرست اور دنیادار دوست بارہا ہمیں روزانہ غسل کے متعدد فوائد بھی گنواتے جن میں سے بعض تو ضمنی طور پر ناقابل اشاعت ہیں۔ ہم اس معاملہ میں بھی ٹس سے مس نہ ہوتے تھے۔ البتہ اب وہ صورت نہیں رہی۔ سابقہ وضع قطع بحال رکھ کر تنخواہ دار صوفی یا حاضری رجسٹر کا پابند وجودی کہلانے سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ دوسرے دن ہی سہی نہا دھو کر اور شرم و حیا کے دائرے میں صاف ستھرا ملازم بن کر جائے۔ بعید نہیں کہ جس طرح ہمیں صبح جاگنے کی عادت ڈالنے کے لیے قدرت کو سرکاری تبدیلیاں کرنا پڑیں اسی طرح غسل کی یہ عادت پختہ کرنے کو موسمی حالات بدل دیے جائیں اور جلد ہی گرمیاں واپس لوٹ آئیں۔ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے۔

البتہ ایک خیر کا احساس یہ ہے کہ ابھی تک سوائے گراؤنڈ میں بیٹھنے یا نئے رفقاء کار سے ملنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرنا پڑتا۔ اس میں بھی اتنی آسانی ہے کہ کوئی سکندر دھوپ نہیں روکتا۔ خوش قسمتی یہ ہوئی کہ ایک شفیق الطبع عزیز وہاں پہلے سے ہی کلیدی عہدہ پر فائز ہیں۔ مثل خضر رہنمائی فرماتے ہیں اور مہربان ایسے کہ کبھی یہ نہیں کہا کہ بس تین سوال ہی پوچھ سکتے ہو زیادہ نہیں۔ خدا ان کا اقبال بلند رکھے۔

عبوری طور پر ہی سہی ایک الجھن یہ ہے کہ ابھی اکثر لوگ مجھ سے واقف نہیں۔ خود میرا حال یہ ہے کہ سوائے لباس کے اور کوئی ایسی بات نہیں جس سے میں وہاں زیر تعلیم طلبا سے جدا نظر آؤں۔ بلکہ کئی لڑکے تو سکول بیگ بھی نہیں لاتے جو روزانہ میرے کاندھوں کے ملائک کا اضافی بوجھ ہوتا ہے۔ اسٹاف سے تعارف ہو تو اکثر حیران رہ جاتے ہیں۔ ابھی پرسوں کی بات ہے۔ میں یونہی جائزہ لینے کی نیت سے وسیع اسٹاف روم میں داخل ہوا اور پہلے سے موجود بڑی عمر کے ایک حضرت کو سلام کر کے ساتھ والی نشست پر خاموشی سے بیٹھ گیا۔ وہ چند لمحے کن اکھیوں سے دیکھتے رہے پھر بولے جی فرمائیے۔ میں نے کہا جی دراصل میں یہاں لیکچرار ہوکر آیا ہوں۔ مجھے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے کہ کس مضمون میں ؟ عرض کیا فلسفہ۔ بولے ارے واہ۔ کیا کہنے۔ میں نے کہا جی آداب۔ وہ سگریٹ سلگائے بیٹھے تھے۔ اتنی بات ہوچکی تو میں نے بھی لگا لیا۔ انہوں نے ایک خوشگوار حیرت سے مجھے دیکھا۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ ریاضی پڑھاتے ہیں تو میں بولا کہ آپ تو ہمارے دور کے رشتہ دار نکلے۔ ساتھ ہی انہیں افلاطون کی اکادمی کے دروزے پر کندہ عبارت سنائی کہ جو ہندسہ نہیں جانتا وہ اندر مت آئے۔ ان کی کلاس کا وقت تھا۔ زیادہ دیر بیٹھ نہ سکے اور باہر نکل گئے۔ وقت رخصت ہم دونوں میں اس امر پر اتفاق تھا کہ ملکی مسائل میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ اب قریباً روز ہی ایک آدھ سگریٹ ان کی معیت میں نوش کرتا ہوں۔

کئی مدرسین کا فلسفہ کی بابت جملہ محفوظ علم بس یہی ہے کہ یہ اقبال کا مضمون تھا۔ چنانچہ ایک صاحب تعارف ہوتے ہی عجیب جوش میں آکر کہنے لگے کہ واہ جی واہ۔ ہمارے پاس تو اقبال کا مضمون آ گیا۔ اقبال صاب آ گئے جی اقبال صاب۔ ساتھ ہی میرے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہنے لگے کہ برخوردار ناراض نہیں ہونا۔ ہنسی مذاق میری عادت ہے۔ کچھ ایک گھنٹہ بعد دوبارہ آمنا سامنا ہوا تو یکساں تپاک سے ملتے ہوئے کہنے لگے کہ اقبال والے آگئے جی۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ صرف میرا ہی مذاق نہیں بناتے۔
لیکن سارے ہی بھلے چنگے لوگ ہیں۔ محبت و احترام سے ملتے ہیں۔

عمارت قدیم طرز تعمیر کی ہے اور رقبہ بھی کسی دور میں وسیع ہوا کرتا ہوگا جو میرے اضافے سے پہلے ہی تجاوزات سے سمٹ چکا ہے۔ لیکن وہ یونیورسٹی سا مخصوص ماحول نہیں۔ کیمپ کا گمان ہوتا ہے۔ کوئی کیفے ٹیریا نہیں ہے۔ کوئی ایسا گوشہ بھی نہیں جہاں چند لمحوں کو ہی سہی مکمل تنہا اور انسانی آوازوں سے دور رہا جا سکے۔ سو جہاں بیٹھتا ہوں تادیر وہیں بیٹھا رہتا ہوں۔ تکنیکی جمالیات کی روشنی میں دیکھا جائے تو تصویر کالج میں رنگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ جدھر دیکھو ان گنت لڑکے لونڈے ایک سی وردی پہنے آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح نظروں میں حائل رہتے ہیں۔ کارگاہ کالج بالکل بلیک اینڈ وائٹ ہے جس کا کردار بنتے ہی میں خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگا ہوں۔

یہ مسئلہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہی درو دیوار کے معمول میں میرے کئی سال گم ہوجانے کو ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کارگزاری کے ان تقاضہ جات میں میری عمر ہی گزر جائے۔ اہلِ خانہ اس بنیادی سوال کا جواب نکاح مسنون تجویز کرنے لگے ہیں۔ میرا معمہ اس سے کہیں بڑھا ہوا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ آخر کیوں میں کسی بھی حالت میں خوش نہیں رہتا۔ جونہی کالج میں قدم دھرتا ہوں اپنی بازیافت کی یہی الجھن سامنے ملتی ہے۔ آخر میں یہاں کیا کررہا ہوں اور مجھے کہیں بھی کچھ بھی کیوں کرنا چاہیے۔ کیا میں کبھی کچھ ایسا کر سکتا ہوں کہ جس سے میں کامل اطمینان اور خوشی محسوس کروں۔
کل یہ تکلیف اور بھی بڑھ گئی۔ اتفاقاً مجھے ایک جانی پہچانی صورت نظر آئی۔ پاس جا کر سلام کیا وہ میرے نویں جماعت کے استاد نکلے۔ مجھے ناصرف پہچان گئے بلکہ میرا نام تک یاد تھا۔ موجودگی کا سبب پوچھا تو میں نے تفصیل بتائی۔ بہت خوش ہوئے۔ ان سے ملا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں بارہ سال پیچھے چلا گیا ہوں۔ دل کے داغوں کے کردار ایک ایک کر کے جلنے بجھنے لگے۔ میں سوچتا رہا کہ اگر میں اس دور میں ہی لیکچرار لگ جاتا تو ان بنیادی سوالوں پر گھر والوں کی تجویز کتنی مناسب معلوم ہوتی۔ کیسے کیسے لوگ میرے گزرے دنوں کے تابوت میں زندہ دفن کر دئیے گئے ہیں۔ نہ  ہٹتے ہیں نہ   ملتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *