میں اکثر فیس بک پر کئی لوگوں کا بے روزگاری میں پریشانی کے عالم میں مراسلہ پڑھتا ہوں، بے روزگاری واقعی ایک ایسا عجیب معاملہ ہے کہ لوگ حقیقتاٍ بہت زیادہ دکھ اور تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو جب یہ کہا جائے کہ کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کر لیں، تب یہ پتہ چلتا ہے کہ چھوٹا موٹا کام کرنے کے لیے بھی کئی ہزار یا چند لاکھ کی ضرورت ہوتی ہے جو شائد ان کے پاس نہیں۔ عموما ًیہی دیکھا کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں، کہ تجارت کا نام یا آن لائن پر کوئی چیز ایک جگہ سے لے کر دوسری جگہ بیچنا ہی اصل تجارت ہے، صرف ایک جگہ سے چیزیں اٹھا کر اس کی تصویریں لگا کر آپ نے آن لائن اپنا منافع رکھ کر کسی کو بیچ دینی ہے۔ تجارت کے بالکل نئے اور انوکھے ڈھنگ اور بھی تو ہیں ، آپ کے پاس سرمایہ نہہں ہے تو کیا آپ تجارت میں اپنی دماغی و ذہنی استعداد کے ساتھ ساتھ اپنے ہنر اور ہاتھ کی محنت کیوں نہ شامل کریں، اور ایک ایسا کام کریں جس کے لیے بہت بڑی رقم کی ضرورت بھی نہیں ہے، کام گاہک کی خواہش اور منشاء کے مطابق بھی ہو، بلکہ آپ ایسا کام پیش کریں کہ خریدنے والے اس کی خواہش کریں۔
میں یہ بھی نہیں کہہ رہا، کہ یہ کوئی ایسا مشورہ ہے کہ جو ہر ایک کے لیے قابل عمل بھی ہو، کیونکہ ہر شخص کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، لیکن جو بات میں لکھنے جا رہا ہوں اس کا تعلق میں ایک واقعے سے جوڑ لیتا ہوں تاکہ آپ کو بہتر سمجھا سکوں۔ قریب دس برس پہلے کی بات ہے، یہیں دمام میں اہلیہ کا جنم دن قریب تھا تو میں نے ان کے لئے آن لائن تحفہ خریدنے کے لیے سوچا، آن لائن سرچنگ کی تو مجھے الخبر شہر سے فیس بک پر ہی آن لائن اشتہات میں کروشیہ سے بنی ہوئی بہت ساری اشیاء نظر آئیں، جن میں کروشیہ سے بنے ہوئے کھلونے، ٹی پاٹ کور، میز کا کور، حتی کہ واٹر ڈسپنسر کی بوتل کا پورا کور، جو بہت اعلیٰ کارٹون کی شکل کا تھا، مجھے وہ بہت پسند آیا میں نے اس کا آرڈر دیا، اس کے علاوہ کچھ اور چیزوں کا آرڈر دے دیا، مجھے ان باکس میں بتایا گیا کہ آپ کو آرڈر تین دن بعد ملے گا، تین دن کے بعد مجھے لوکیشن بھیج دی گئی، میں الخبر کے پاس الراکہ پہنچا ایک اچھی رہائش گاہ کے اپارٹمنٹ میں یہ ایک عرب مصری خاتون تھیں، ان کے شوہر نے مجھے یہ اشیاء دیں، وہ شخص بیساکھیوں کے سہارے باہر آیا تھا، کچھ تعارف کے بعد اس نے مجھے بتایا، کہ چھ ماہ سے ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے وہ ان دنوں چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہیں اور جاب بھی نہیں کر سکتا، اور تب سے اب تک اس کی اہلیہ کروشیہ کے کام سے گھر کے معاملات چلا رہی ہیں۔
یقین نہیں آرہا، وہ شخص حقیقتا ًجس رہائشی اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا، آپ یقین کریں کہ اس رہائشی اپارٹمنٹ کا کرایہ میرے اس وقت کے رہائشی اپارٹمنٹ سے زیادہ تھا۔ وہ اس کے علاوہ اپنے تمام مالی معاملات بھی اسی کام سے مکمل نہ بھی سہی، مگر اس کی مدد سے ضرور پورے کر رہے تھے، اس کی اہلیہ کروشئیے کے کام سے اچھا خاصا سپورٹ ضرور کر رہی ہوگی، مزید مزے کی بات ہے کہ اس کی اہلیہ ہی نہیں اس کا شوہر کود بھی، چونکہ ٹانگوں کی مکمل صحتیاب ہونے تک مکمل گھر میں مقیم تھا، وہ بھی اس کام میں اس کو سپورٹ کر رہا تھا یعنی وہ دونوں ہی یہ کام کر رہے تھے۔ ہمیں ایسی باتوں پر واقعی یقین نہیں آتا ؟ اس لیے کہ ہم ایسے کام بھی نہیں کرنا چاہتے۔ میں نہیں جانتا (اللہ اچھے اور برے وقت دکھانے والا ہے) کبھی مجھے زندگی میں کسی ایسے وقت کا سامنا کرنا پڑا تو میں بھی ایسا ہی کوئی ہنر کا کام کرنے کو ترجیح دونگا۔ یہ کروشئیے کا کام ویسے بھی پنجاب کا ایک قدیم ورثہ ہے، کروشیہ کا کام اون کے دھاگوں سے بنے رنگ برنگے گولوں سے روزمرہ ضروریات کی اشیاء بنانا ہے۔اس سے آپ خود سویٹر، سکارف، موزے، کھلونے، کمبل اور بیسیوں آرٹ ورک کے علاوہ سینکڑوں سجاوٹی اشیاء کے علاوہ بہت ہی الگ و دیدہ زیب اشیاء بناسکتے ہیں۔ یہ قابل رسائی اور معقول حد تک سستا بھی ہے، اس کی دو الگ شکلیں ہیں جنہیں آپ بنائی knitting اور کروشیہ crocheting سمجھ لیں، بس بنائی دونوں ہاتھوں سے دو سوئیوں سے کی جاتی ہے۔اس میں کچھ اور سپورٹ سوئیاں اور سانچے وغیرہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صرف اور صرف مختلف رنگوں کے اون کے گولے، جن کی بازار میں قیمت بہت زیادہ بالکل بھی نہیں ہے بہت معقول رقم پر یہ مل جاتے ہیں، اس کے بعد آپ کا وقت اور ہنر آپ کو اس کی قیمت دے سکتا ہے۔
اب مجھے مزید یہ بھی معلوم ہے کہ بہت سارے لوگ کہیں گے کہ نہ ہی یہ کام بہت مشکل ہے، کہ ہم نہیں کر سکتے، لیکن یہ اتنی آسانی سے بکے گا نہیں، آپ یقین کریں یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ یہ واقعی بالکل اتنی آسانی سے نہیں بکے گا، کیونکہ جس اپروچ سے ہم عموما ًکام کرنا چاہتے ہیں اس اپروچ سے یہ بالکل نہیں بکے گا۔ کیونکہ ہم وہی تین چار دیسی قسم کے پرانے ڈیزائن بنانا شروع کریں گے، کچھ نئے انداز سے نئی اشیاء کا کام نہیں کریں گے۔ ابھی یو ٹیوب پر سرچ کریں اور دیکھیں کیا کیا قیمتی اشیاء اس سے بن رہی ہیں۔ آپ اس کا طریقہ ابھی آن لائن دیکھ سکتے ہیں، بہت آسان ہے، یقیناً تھوڑا وقت لگے گا آپ کو اس کام میں رواں ہونے کے لئے لیکن آپ بآسانی یہ کام کرسکتے ہیں۔ گھر میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اسی وقت میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھے گپ شپ لگاتے ہوئے، فاضل وقت میں کہیں پر بھی آپ بیٹھ کر یہ اچھوتی و انوکھی مصنوعات بناسکتے ہیں۔ اور اپنا ان لائن ہی بیچ سکتے ہیں۔ عزت کی روٹی بہت اعلیٰ چیز ہے، جو اپ نے اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمائی ہو، جس میں آپ کا تخلیقی ہنر اور محنے لگی ہو۔

کوشش کر دیکھیں ۔ پہلا آرڈر میری طرف سے ہی مل جائے گا۔ جو لوگ شرما رہے ہیں وہ ایک اور کام کر لیں اس کی بنیادی سوئیاں خرید لائیں اور تھوڑے سے رنگ کی اون بھی خرید لائیں، پہلے پہل اپنے گھر کے لئے اور بچوں کے لئے کچھ چیزیں بنا کر دیکھ لیں۔ آپ کو خود احساس ہو جائے گا آپ یہ کام کرسکتے ہیں۔ گھر کے مرد اپنے فالتو وقت میں خود اپنے گھر والوں کے لیے تحفے بنا سکتے ہیں، گھریلو خواتین اپنے فاضل وقت میں یہ کام کرسکتی ہیں اور خصوصا ًوہ گھریلو خواتین جن کے پاس بہت زیادہ تعلیم نہیں ہے اور وہ گھر پر رہتی ہیں، وہ اپنا ذریعہ آمدنی اس کام کے ذریعے بڑھا سکتی ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں