تاریخ کے ہر پنّے پر یہ تلخ حقیقت درج ہے ، کہ عورت پر ہمیشہ ظلم ڈھایا گیا اسے ہمیشہ اس بات پر دبایا گیا کہ وہ ایک عورت ہے اور مردوں کی ملکیت۔خدا نے جب پہلا انسان بنایا تو نفس واحدہ پر اس سے ہی عورت کی تخلیق کی، جب نفس واحدہ پر تخلیق ہوئی تو یہ فرق عورت کو حقیر سمجھنا اسے کم تر سمجھنا صرف اس بنیاد پر کہ وہ ایک عورت ہے تو یہ بات غلط ہے،دور جاہلیت میں جہاں پر انسانیت کا تقدس پامال ہوتا رہا جبراً زیادتی، کم عمری میں شادی,باندیاں بنانا ،یہ اس زمانے میں عام تھا لیکن جوں جوں علم بڑھتا گیا خدا نے حکم لگانا شروع کیا ا،پنے نبی ﷺ کے ذریعے اپنا علم عام و نافذ کیا ،یہ سب چیزیں کم ہوئیں اور عورتوں کو حقوق ملنے لگے،لیکن یہ چیز آج کے اس دور میں بھی ویسے ہی قابض ہے جس طرح دور جاہلیت میں تھی۔
کہنے کو یہ دور وہ ہے جہاں ہر علم نے اپنا لوہا منوایا ہے جہاں اخلاقیات،سماجیات،معاشرت جیسے علوم پر لوگ دسترس حاصل کر رہے ہیں جہاں سائنس اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عروج پر ہے جہاں مذاہب نے آج ہزاروں دروازے کھول دیے ہیں اسے سمجھنے کے لیے۔ ایسے دور میں بھی وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو دور جاہلیت میں ہو رہا تھا،پھر ان سب مظالم کو برداشت کرتے ہوئے یا تو ایک عورت غلط راستوں سے ہم کنار ہو جاتی ہے یا پھر خود کشی کی طرف اپنا قدم بڑھاتی ہے ،یا پھر پاگل ہو جاتی ہے ایسی بہت کم عورتیں ہیں جو ان سب مظالم کو سہنے کے بعد بھی خود کو ایک اعلیٰ مقام پر فائض کرتی ہیں اور اس جاہل معاشرے میں خود کو سرخرو کرتی ہیں۔

اللہ نے حکم دیا میں نے مردوں کو عورتوں پر نگہبان بنایا ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نگہبانی میں حکمرانی کی جائے، عورت کو اسی طرح سے آزادی حاصل ہے جس طرح سے ایک مرد کو حاصل ہے یہاں تک کہ آج کے دور میں مردوں سے زیادہ کامیاب عورتیں ہیں ، ایسا کوئی شعبہ نہیں جہاں عورتوں نے خود کو نہ منوایا ہو۔ مذہب کی آڑ میں آج جو کچھ بھی عورتوں کے ساتھ ظلم ہو رہے ہیں جس طرح سے مذہب کی آڑ لے کر غلط تحویلات کر کے انہیں باندھا جارہا ہے اور عورتوں کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، اللہ نے ایسا کچھ بھی کرنے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی یہ نبیوں کی تعلیمات کا حصّہ ہے۔بحیثیت مسلمان ہمیں ضرورت ہے کہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرکرتے ہوئے عورت کو اُس کے حقیقی مقام پر فائز کریں ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں